پاکستان میں بھلا رکھا ہی کیا ہے؟
آخر دس برس بعد اسے دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔ میرے تو وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں اسے زندگی میں دوبارہ کبھی دیکھ پاؤں گا لیکن دل ہی دل میں امید کی یہ کرن کہیں نہ کہیں موجود ضرور تھی کہ اسے دوبارہ ضرور ملوں گا۔ میں اکثر راتوں کو سوچا کرتا تھا کہ وہ جب اور جہاں بھی ملے گی، میں بغیر کچھ دیکھے، سوچے اور سمجھے اس سے محبت کا اظہار کر دوں گا۔
اب ایسا بھی نہیں تھا کہ میں نے پہلے کبھی ایسا کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔ میں کئی مرتبہ کتابیں لینے اور دینے کے بہانے اس کے گھر جا چکا تھا۔ لیکن اس کے سامنے آتے ہی مجھ میں یہ جرات نہ رہتی کہ اسے کچھ کہہ سکوں۔ شاید ناکامی کا ڈر تھا یا یہ خوف کہ میں خود کو اس کے سامنے سرنگوں کر رہا ہوں۔ اس نے نہ کر دی تو میرے پاس کیا بچے گا، میری کیا عزت رہ جائے گی؟
میں جب بھی اس سے ملتا ٹیچروں کی باتیں ہوتیں، کتابوں کی باتیں ہوتیں، شعروں پر تبادلہ خیال ہوتا لیکن جو دل کی بات تھی وہ کبھی نہ کہی جا سکی۔
ایک دن اس نے خود ہی پوچھ لیا کہ کیا تم نے کبھی کسی سے محبت کی ہے؟ میری نظریں اس کی مخروطی انگلیوں کے درمیان گھومتی ہوئی کچی پینسل پر لگی ہوئی تھیں۔ گرمیوں کا موسم تھا اور اس کے ہونٹوں سے اوپر مساموں سے چھوٹے چوٹے چمکتے پسینے کے موتی نما قطرے دکھائی دے رہے تھے۔
اس نے اپنے دونوں بازو کہنیوں تک فولڈ کر رکھے تھے اور اس کی مرمریں بانہوں پر ہلکے ہلکے بورے بال پنکھے کی ہوا کے ساتھ ساتھ اوپر نیچے ہو رہے تھے۔
لیکن اس کے اس اچانک سوال نے مجھے یوں جھٹکا دیا جیسے اچانک کسی نے جھیل کے ساقط پانی میں ایک دم زور کا پتھر دے مارا ہو۔
میں اس سے کہنے ہی والا تھا کہ ہاں میں کسی سے محبت کرتا ہوں۔ شاید وہ مجھے سے اگلا سوال یہ کرتی کہ کون ہے وہ؟ اور شاید میں اسے سچ سچ بتا بھی دیتا۔
لیکن اسی اثناء میں اس کے ابو نے اسے آواز دی اور انگلیوں کے درمیان گھومتی ہوئی پینسل وہی پھینک کر کسی ہرن کی طرح چھلانگ لگا کر اٹھ کھڑی ہوئی اور میں پیچھے سے اس کی لچکیلی کمر کو دیکھتے رہ گیا۔
ایف ایس سی کے پیپر ہم دونوں دے چکے تھے۔ اب کوئی بہانہ بھی نہیں تھا کہ میں اب ان کے گھر کس بہانے سے جاؤں؟
میں بے چینی سے رزلٹ کا انتظار کرنے لگا کہ جونہی رزلٹ آئے گا تو میں ان کے گھر اس کے اور اپنے نمبر بتانے جاؤں گا۔
رزلٹ آیا تو میں اپنے گھر کی بجائے اس کے گھر کی جانب دوڑا۔ رزلٹ کی تو نہیں لیکن اسے دیکھنے کی زیادہ خوشی تھی۔ مغرب سے تھوڑی دیر پہلے میں نے بیل دی تو اس کی امی باہر نکلیں۔
مجھے اس وقت پتہ چلا کہ انہوں نے پہلے ہی گوجرانوالہ بورڈ میں فون کر کے پتہ کروا لیا تھا۔ میں نے دبے دبے لفظوں میں دعا (فرضی نام) کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ تو اپنے ماموں کے پاس لاہور جا چکی ہے اور اب وہی مزید تعلیم حاصل کرے گی۔
جتنی آسانی سے دعا کی امی نے یہ بات کی تھی، میرے لیے اس پر یقین کرنا اتنا ہی مشکل تھا۔ میرے خواب ایک دم ٹوٹے تھے لیکن میں نے سوچا کہ لاہور کونسا دور ہے۔ ایک دو ہفتوں بعد تو وہ گاؤں واپس ضرور آئے گی۔ اس کے بعد میں ان کے گھر کے سامنے کریانے والی دکان سے بڑی باقاعدگی کے ساتھ پوچھتا کہ کوئی مہمان وغیرہ تو نہیں آیا۔ دعا کا گھرانہ ایک زمیندار گھرانہ بھی تھا ان کے گھر جو لوگ دودھ لینے جاتے تھے، میں بہانے بہانے سے ان سے بھی دعا کی آمد کے بارے میں پوچھتا رہا۔
میں نے بہت کوشش کی کہ جب وہ گاؤں واپس آئے تو کسی نہ کسی طریقے سے میں اسے بس ایک مرتبہ دیکھ لوں، بس ایک مرتبہ مل لوں لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ وہ درمیان میں آتی بھی رہی لیکن مجھ تک خبر اس وقت پہنچتی جب وہ واپس جا چکی ہوتی۔ دن گذرتے گئے، ہفتے مہینوں میں اور مہنے سالوں کا روپ دھارتے چلے گئے۔
اس دوران دس برس بیت گئے۔ ان دس برسوں میں بھی جرمنی جا چکا تھا۔
میں اپنے کزن کی شادی میں شرکت کے لیے آیا تو مجھے پتہ چلا کہ ان کی امی بھی آ رہی ہیں اور ساتھ دعا بھی ہو گی۔ میرے دل میں ایک مرتبہ پھر وہ شمع روشن ہوئی، جو اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ یہ وہ دن تھا، جس کا میں نے صرف خواب دیکھ رکھا تھا۔ میں نے مکمل ارادہ کر رکھا تھا کہ جتنے بھی لوگ ہوں گے سب کے سامنے اس کے ساتھ اقرار محبت کر دوں گا۔
شادی کے دن خواتین کے بیٹھنے کا انتظام الگ تھا لیکن میں پھر بھی اس طرف آتا جاتا رہا۔ آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اسے دور سے دیکھتے ہی میری ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ چھا گئی۔
وہ جونہی قریب آتی جا رہی تھی، میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔ میں نے یہ فقرہ کئی مرتبہ سن رکھا تھا کہ تمہیں دیکھتے ہی میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں لیکن اس فقرے کا مفہوم مجھے آج سمجھ آ رہا تھا۔
میں نے اس کی امی سے سلام کیا ہی تھا کہ دعا نے ایک مرتبہ پھر اپنے شوخ لہجے میں مجھ سے سوال کر دیا۔
کیا بھول گئے ہو مجھے؟
میں نے فوراً کہا کہ نہیں نہیں ایسا تو نہیں بس، تمہارا نام۔ تمہارا نام، کیا تھا بھلا،
اچھا تو تم ہمارا نام بھی بھول گئے؟
نہیں نہیں، ایسا بھلا کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک منٹ۔ ہاں، تم دعا ہو ناں؟
شکر ہے نام تو یاد آیا آپ کو۔ اب بتائیں پاکستان اچھا تھا یا جرمنی اچھا ہے؟
میں اسے کہنے لگا تھا کہ پاکستان اچھا ہے لیکن اس نے پہلے ہی جواب دے دیا، اب تو آپ کو جرمنی ہی اچھا لگتا ہو گا۔ باہر جا کر لوگ بھلا پاکستان کو کہاں یاد رکھتے ہیں؟
میں اسے کہنا چاہتا تھا کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے بلکہ باہر جا کر آپ ہر روز اپنے گھر والوں اور دوستوں کو یاد کرتے ہیں۔ صرف آپ جہاز پر بیٹھتے ہیں، محبتیں اور یادیں وہیں گاؤں میں رہ جاتی ہیں وہ ہمارے ساتھ نہیں جاتیں، میں کہنا چاہتا تھا کہ میرا بچپن یہاں رکھا ہوا ہے، میری مسکراہٹیں یہاں رہ گئی تھیں، میری عیدیں ادھر ہیں، میری شبراتیں ادھر ہیں۔ میری خوشیاں یہی کہیں گم ہیں، میرا پرانا سائیکل اور عذاب دید نامی وہ کتاب بھی ادھر ہی رکھی ہوئی ہے، جس میں گلاب کا پھول ابھی تک پڑا ہوا ہے اور وہ میں نے تمہیں دینی تھی۔ میں کہنا چاہتا تھا کہ مجھے تم اچھی لگتی ہو، میں دس سال سے تمہیں ملنا چاہتا تھا، میں اب بھی تمہارے خواب دیکھتا ہوں۔
لیکن میں یہ سب کچھ نہ کہہ سکا۔ شاید میں ہارنا نہیں چاہتا تھا، شاید میں اپنی کمزوری ایک کمزور سے لڑکی کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ شاید مجھے ڈر تھا کہ وہ انکار کر دے گی۔ مجھے اپنی شکست کا خوف لاحق ہو چکا تھا۔ شاید محبت چھوٹی اور انا بڑھ چکی تھی۔ یہ کیا تھا، مجھے خود نہیں معلوم۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا، پاکستان میں بھلا کیا رکھا ہے؟ وہی پرانے فرسودہ خیالات، وہی کرپشن، وہی دھول اور مٹی، وہی ٹوٹی گلیاں، جن میں ہر وقت پانی کھڑا رہتا ہے، وہی لوڈ شیڈنگ، وہی بیکار کی شعر و شاعری۔ پاکستان میں رکھا ہی کیا ہے؟


