کہتے ہیں کہ ہم سا ہو تو سامنے آئے، آیا تو پڑا ہے


ہم اچھے معیاری مثالی اداروں میں پڑھے ہیں۔ قدرت مہربان رہتی تھی سو ہمیشہ عزت سے پاس ہوئے نقل کر کے۔ پھر بھی کوئی کسر رہی تو استادوں کے یار دوست ڈھونڈ کر نمبر لگوا لیے۔ استاد جہاں کا بھی ہو ہوتا ہمارے ملک صاحب جیسا ہی ہے۔ آپ دنیا جہان کی باتیں استاد ملک سے کر لیں وہ آپ کو بالکل ٹھیک مشورہ دے گا۔ بس استاد کا اپنا سکول بند ہونے کو پھر رہا۔ ترلے منت دھمکی سے سکول چلایا جا رہا۔

ترلے محلے والوں کے ہوتے ہیں کہ بچوں کو سکول بھجوا دیا کریں۔ دھمکیاں سرکار کو دی جاتی ہیں کہ ہمارا سکول بند کیا تو ہم ٹنگیں (ٹانگیں) بھی بھن (توڑ) دیں گے۔ ایسے استاد ہوں تو پھر شاگرد بھی ہمارے جیسے ہی ہوتے ہیں۔ پہلی بار انگریزی کا پرچہ پاکستان کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم کے مقامی ناظم سے پچیس روپے میں خریدا تھا۔ پچیس روپے نصف جس کے ساڑھے بارہ روپے ہوتے ہیں۔ ںاظم صاحب نے خصوصی شفقت فرمائی تھی ہمارا محلے دار ہونے کی وجہ سے۔

کامیابی کے لیے صرف اچھی تعلیم کہاں کام آتی ہے۔ اس کے لیے تربیت بھی مناسب ہونی چاہیے۔ ہماری تربیت میں بھی کوئی کسر ہمارے فاٹا کے ملک صاحبان نے نہیں چھوڑی تھی۔ ایک ملک صاحب تو اپنے ارب پتی خاندان کو نہایت کامیابی سے ککھ پتی کر بیٹھے تھے۔ انہیں بس جوا کھیلنے گانے سننے اور پپو لڑکوں کی فٹ بال کرکٹ ٹیم بنانے کا ہی شوق تھا۔ دوسرے ملک صاحب باڑے کا سامان اندرون ملک پہنچانے کی سروس فراہم کرتے تھے۔ اس سروس کے لیے پشتو میں کافی برا لفظ ہے۔ اس کا اردو ترجمہ نہ بھی ہو تو بھی برا ہے اور سمجھ بھی آتا ہے۔

ہم لوگ کچھ بڑا کرنا چاہتے تھے۔ اس چکر میں اسلام آباد کے چکر لگایا کرتے تھے۔ یہ چکر اس لیے بھی لگتے تھے اعلی تعلیم جتنی حاصل کرنی تھی گرتے پڑتے حاصل کر بیٹھے تھے۔ جیالوں کی حکومت تھی۔ ہر قسم ہر سائز کا جیالا اپنی ہی حکومت کو ٹٹ کر پڑا ہوا تھا۔ کوئی پرمٹ بیچ رہا تھا کسی نے نوکریوں کی ریڑھی لگا رکھی تھی کوئی ٹرانسفر پوسٹنگ کرا کے ہی صبر شکر کر رہا تھا۔

ایسے ہی ایک جیالے کے ہم ہتھے چڑھ گئے تھے۔ اس نے ہم تینوں دوستوں کو انسپکٹر بھرتی ہونے کا مشورہ دیا۔ ایک دوست امجد کا تعلق فاٹا سے تھا۔ اس کے پاس اللہ کا دیا لوگوں سے لیا سب کچھ تھا۔ بس خاندان میں دور دور تک کوئی سرکاری ملازم نہیں تھا۔ اس نے فوری حامی بھری اپنی طبعیت کے خلاف ایک روپیہ کم کرانے کی کوشش نہ کی۔ بات پکی کر لی اور انسپکٹر بھرتی ہو گیا۔

ہمارے ساتھ تیسرا دوست اعجاز بھی تھا۔ اس نے تب بی اے نہیں کیا تھا۔ لائق بچہ تھا بہت اچھے سکول کالج کا پڑھا ہوا تھا۔ ہمیشہ پہلی پوزیشنیں لیتا آیا تھا۔ اس نے اتنی آسان بھرتیاں دیکھیں تو وہ بھی ڈھیر ہو گیا کہ اسے بھی بھرتی ہونا ہے۔ اس کامسئلہ یہ تھا کہ اس نے امتحان تو دیا تھا لیکن ابھی نتیجہ نہیں آیا تھا۔ وہ پیسے دینے کو تیار تھا جیالا لینے کو تیار تھا۔ لیکن کاغذات ہی پورے نہ تھے۔

جیالے نے اپنے ایم این اے سے بات کی یہ پوچھنے کو کہ یہ کام ہو بھی سکتا کہ نہیں۔ اسے کہا گیا کہ اگر کوئی معزز ذمہ داری لیتا ہے کہ یہ جوان پاس ہو جائے گا تو اس کو سلیکشن کا لیٹر دے دیا جائے۔ ذمہ داری لینے والا ظاہر ہے کہ وسی بابا ہی تھا۔ قدرت کو امتحان بھی ہمارا ہی مقصود تھا۔ ہمارا یہ لائق فائق یار اک دن منہ اندھیرے گھر پہنچا۔ تب تک وہ ٹریننگ مکمل کر کے پوسٹنگ بھی لے چکا تھا۔ اس نے خبر سنائی کے نتیجہ آ گیا ہے اور وہ فیل ہو گیا۔

پھر ایک لمبی کہانی ہے کہ کس طرح ہم لوگ بسیں بدل کر درے پہنچے۔ ایک ڈگری کا بندوبست کیا اور اس کی نوکری بچائی۔ یہ نوکری بعد میں بھی نہ بچی۔ جب فاروق لغاری صاحب نے اسمبلی توڑی تو یہ سارے انسپکٹر بھی گھر بھجوا دیے گئے تھے۔ پی پی کی پچھلی حکومت آئی تو اس نے ان انسپکٹروں کو پھر بحال کر دیا۔ جعلی ڈگری والے دوست نے مہربانی کی کہ اس نے دوبارہ نوکری کی زحمت نہ کی۔

اس یار نے درے میں جعلی دستاویزات بنانے والی سروس ایسی مہارت سے استعمال کی کہ اب امریکہ بیٹھا ہے۔ اتنی محنت کر کے وہ گیا ہے تو اب اپنی ڈگریاں حلال کر رہا۔ ٹرمپ کا ابا بھی آ جائے تو اس کا کچھ نہیں کر سکے گا۔

غم آپ کو دوسرے دوست کا سنانا ہے جو فاٹا کا تھا۔ امجد وہ شہزادہ تھا جس نے نوکری دوبارہ ملی تو منٹ نہیں لگایا تھا بحال ہو کر پوسٹنگ لے لی تھی۔ وہ اچھی جگہ پر لگا تھا پوسٹنگ اس کی پشاور میں ہوئی تھی۔ انگریزی کا پرچہ میٹرک میں ہم دونوں نے ہی پچیس پچیس روپے دے کر خریدا تھا۔ لیکن امجد ایسا کم بخت تھا کہ وہ رپورٹ لکھوانے کے لیے میرے پاس ہی گھر آتا تھا۔

نہ اس ظالم سے فرار ممکن تھا۔ نہ وہ خود لکھنے کو تیار ہوتا تھا۔ نہ وہ کوئی سیدھی بات اپنی رپورٹ میں لکھنے کو تیار ہوتا تھا۔ انٹرنیٹ پر قسطنطیہ سے کاشغر تک کے جنگی حالات بتانے والے ل لنگور کی تقریروں سے رپورٹ تیار کرتا تھا۔ انہی رپورٹوں پر افسروں سے انعام پاتا تھا۔ ان افسروں نے پتہ نہیں میٹرک میں انگریزی کے پرچے کیسے پاس کیے تھے۔ ہم دونوں نے پچیس پچیس روپے میں خریدا تھا۔

آپ کو یہ ساری گپ سنانے کا مطلب صرف اتنا ہے۔ ہم جو کرتے ہیں وہی بھرتے ہیں۔ صرف سرکار کے بیڑے ہی نہیں غرق ہیں۔ ہم عوام کی حرکتیں بھی دیوار ہی میں جا کر وجی ہوئی ہیں۔ امید بھی ویسی ہی رکھیں جیسے آپ خود ہیں پھر۔

Facebook Comments HS

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi