افغانستان، تعلیم پر پابندی کا تیسرا تاریک سال: ملالہ یوسفزئی
افغان لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں ملالہ یوسفزئی کا پیغام۔
تمام پڑھنے والوں کو سلام۔
افغانستان ایک اور سیاہ سالگرہ منا رہا ہے۔ یہ سمجھنا تکلیف دہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں سے طالبان نے لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد اسکول جانے سے روک دیا ہے۔ یہ ان کے ظالمانہ اور عورت دشمن مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کو کام، تعلیم اور عوامی زندگی میں شرکت سے محروم کرنا ہے۔
آج، میں اپنی افغان بہنوں سے براہ راست بات کرنا چاہتی ہوں۔
آپ طالبان کے خلاف مزاحمت کی اصل طاقت ہیں۔ آپ نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔ اسکولوں میں جانے سے روکنے کے باوجود آپ میں سے لاکھوں لڑکیاں سیکھنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ آپ موبائل فون، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ذریعے گھروں میں سیکھنے کے تخلیقی طریقے ڈھونڈ رہی ہیں۔
آپ کی طاقت اور جرات وہ چیزیں ہیں جو مجھے حوصلہ دیتی ہیں۔ آپ سب نے مجھے پرُ امید رکھا ہے۔
لیکن آج کا دن اس بات کی تاریک یاد دہانی ہے کہ طالبان نے آپ سے کیا کچھ چھین لیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ جان لیں کہ میں اور دنیا بھر کے بہت سے ہمارے ہم خیال، آپ کے ساتھ مل کر طالبان کا محاسبہ کرنے کے لیے لڑتے رہیں گے۔ دنیا بھر کے لوگ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور وہ آپ کے ساتھ یک جہتی کے لئے کھڑے ہیں۔
ہم سب مل کر اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک آپ کے حقوق بحال نہیں ہو جاتے۔ آج اس پیغام کو سننے والے ہر شخص سے میں مخاطب ہوں کہ آپ بھی مدد کر سکتے ہیں۔ آپ ان افغان کارکنان اور تنظیموں کی حمایت کر سکتے ہیں جو لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ آپ اپنی حکومت پر زور دے سکتے ہیں کہ وہ طالبان کے جرائم کے لیے محاسبہ کرنے کی حمایت کرے۔
آپ ملالہ فنڈ کی ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں تاکہ آپ ان تحریکوں کے بارے میں جان سکیں جن کی ہم حمایت کر رہے ہیں۔ آپ اپنی آواز کا استعمال کریں تاکہ یہ پیغام عام ہو۔
میں تمام افغان لڑکیوں سے کہتی ہوں کہ اپنی برحق لڑائی جاری رکھیں۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ شکریہ۔


