تصور عورت، کیلا اور مسوجنی!


نئی نویلی دلہن اٹھلا اٹھلا کر ماضی کے جھروکوں سے جھانکتی کہانیاں سنا رہی ہے۔

ہمارے ہوسٹل کے سامنے ایک چھوٹا سا بازار تھا۔ تنگ سی سڑک پہ دو رویہ دکانیں اور بیچ میں لگی ریڑھیاں۔ ہم سب اسے گندا بازار کہتے تھے۔

جب گھر فون کرنا ہوتا تب گندے بازار میں لگا پی سی او کام آتا۔ بسنت میں پتنگیں اور ڈور خریدنے جاتے۔ موسمی پھل بھی وہیں سے خریدتے۔ مجھے کیلا پسند تھا وہ خریدتی۔ سلاد بنانے کے لیے کھیرے، مولیاں بھی۔

کیا؟ کیا چیز؟ دولہا نے چونک کر کہا۔
کیلے، کھیرے مولیاں اور گاجریں۔
کس لئے؟

کیا مطلب۔ کس لئے؟ ظاہر ہے سبزیاں سلاد بنا کر کھانے کے لیے اور پھل تو ویسے ہی صحت کے لئے اچھا ہوتا ہے۔ جب کھانا انتہائی بد ذائقہ ہوتا۔ دو تین لڑکیاں بھاگ کر جاتیں اور ریڑھی سے خرید کر لے آتیں۔

افف، کس قدر بے وقوف تھیں تم لوگ؟ دولہا ماتھے پہ بل ڈال لیتا ہے۔
بے وقوف؟ اس میں بیوقوفی کی کیا بات ہے بھلا؟ دلہن برا مان جاتی ہے۔
کیا تمہیں علم ہے ریڑھی والا اپنے یاروں دوستوں کو کیا بتاتا ہو گا؟
کیا بتاتا ہو گا؟ دلہن پوچھتی ہے۔
یہ کہ ہوسٹل کی لڑکیاں میری ہی ریڑھی سے لے کر جاتی ہیں۔ کیلے، کھیرے، مولیاں، گاجریں۔

تو؟ کیا ہے اچنبھے کی بات؟ کیا لڑکیاں کیلے، کھیرے اور مولیاں نہیں کھا سکتیں؟ دلہن نے ناراض ہو کر پوچھا۔

کیا تمہیں علم ہے لڑکی اور کیلا یا کھیرا۔ یعنی۔ میرا مطلب ہے۔ کیا تمہیں واقعی نہیں پتہ؟ دولہا نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

نہیں۔ بتائیں تو؟ دلہن بے قرار ہو کر پوچھتی ہے۔

دولہا اپنی جگہ سے اٹھتا ہے۔ سامنے بنی الماری میں رکھی کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتا ہے اور پھر ایک کتاب کھول کر دلہن کے ہاتھ میں دیتا ہے۔ پڑھو۔ اس صفحے کو پڑھو۔

”زنانے مکان کی فضا کو مقدس رکھنے کا یہاں تک اہتمام کیا جاتا تھا کہ کسی ترکاری والی کو اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنی لانبی لانبی ترکاریوں مثلاً لوکی، ترئی، کریلے اور کھیرے وغیرہ کو، ٹکڑے ٹکڑے کیے بغیر سالم حالت میں اندر لے جایا جائے اس لیے کہ صورت کے لحاظ سے ان کو“ فحش ترکاری ”خیال کیا جاتا تھا“

( یادوں کی بارات ؛ جوش ملیح آبادی : صفحہ نمبر 188 )
یہ کیا بے وقوفی ہے؟ دلہن کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے۔
اسے بے وقوفی نہیں، معاشرے کا انداز فکر اور چلن کہتے ہیں۔ شوہر نے کہا۔

گویا معاشرہ یہ سمجھتا ہے کہ عورت کے دماغ پہ جنس اس قدر سوار ہے کہ جب بھی کسی لمبی چیز کی جھلک نظر آئی، عورت ہوئی بے قابو اور آپے سے باہر اور سبزی اندر۔ دلہن کا لہجہ انتہائی کاٹ دار تھا۔

بھئی ہم کیا جانیں۔ مردوں نے تو یہی سن رکھا ہے کہ لڑکیاں بالیاں کھیرا اور کیلا کھاتی کم ہیں اور استعمال زیادہ کرتی ہیں۔ شوہر نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔

یعنی تصور عورت یہ ہے آپ مردوں کے ہاں؟ ویسے اگر اس بات کو درست مان لیا جائے تو ہومو سیکشوئیلٹی کے کھڑاگ کی کیا ضرورت ہے؟ کھیرا اور کیلا ہی کافی ہو سکتا ہے۔ دلہن نے تلخ لہجے میں پوچھا۔

دولہا صاحب گڑبڑا گئے۔ بھئی مرد ایسے نہیں سوچتے۔ پھر ایک اور بات آ جاتی ہے دستیابی پہ۔ میرا خیال ہے کہ اس ضمن میں مرد کو کوئی مشکل نہیں پیش آتی ہو گی۔ دولہا نے کہا۔

تو مردوں کے خیال میں عورت اس لئے کھیرا استعمال کرے گی کہ مرد تک پہنچ مشکل ہو گی اس کی؟ یا پھر بقول فہمیدہ ریاض ؛

کس سے آپ آرزوؤئے وصل کریں؟
اس خرابے میں کوئی مرد کہاں؟

دیکھو شاعری واعری تو میری سمجھ سے باہر ہے لیکن پہنچ تو مشکل ہوتی ہے نا مشرقی عورت کے لیے۔ درمیان میں مذہب، معاشرہ، حیا، شرم، گناہ۔ وغیرہ وغیرہ۔

تو کیا یہ وغیرہ وغیرہ مرد کے لیے نہیں ہیں؟ دلہن نے پوچھا۔

افوہ بہت کج بحث ہو تم بھئی۔ چلو ختم کرو۔ ہاں تم مجھے ہوسٹل کا قصہ سنا رہی تھیں۔ وہیں سے شروع کرو۔ دلہا نے تھک کر کہا۔

ہوسٹل کا قصہ سننے سے پہلے اس بحث کو تو لپیٹ لوں۔ کوئی بھی بحث یک طرفہ نہیں ہوتی سو کج بحثی بھی یک طرفہ سے نہیں ہو گی۔ دوسرے جو معیار / پابندیاں معاشرہ عورت کے لیے مقرر کرتا ہے وہی مرد کے لیے بھی درست مانی جائیں گی۔ تیسرے یہ غلط فہمی ہے مردوں کی کہ مرد کے لئے آسانی زیادہ ہے۔ جان لیجئیے کہ عورت جب کچھ ٹھان لے تب جو چاہے، جیسے چاہے کر سکتی ہے۔ پابندیوں کو ڈھا دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لیکن اگر وہ حدود و قیود کا خیال کرتے ہوئے ایسا نہیں کرتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جنس ہر وقت اس کے سر پہ سوار نہیں رہتی مردوں کی طرح۔

مانا کہ جسم کی دوسری ضروریات کی طرح جنس بھی ایک ضرورت ہے لیکن بس ایک ضرورت جسے مرضی کے مطابق بڑھایا یا گھٹایا جا سکتا ہے۔ عورت کو جانور کے لیول پر لے جانا اور سوچنا کہ بے چاری ہر لمبی چیز کو دیکھ کر بے قابو ہو جاتی ہوگی، ایک احمقانہ سوچ کے سوا کچھ نہیں۔ یہ تصور عورت کی نفی کرتا ہے۔ تصور عورت یعنی تصور انسان۔

اچھا بھئی میں ہارا تم جیتیں۔ دولہا نے تھک کر کہا۔
آپ پہچان ہی گئے ہوں گے ہوسٹل کی کہانی سنانے والی دلہن کون تھی؟

صاحبو، یہ خیال اور اس خیال سے جڑے تصورات جو عورت کے لیے معاشرہ طے کر لیتا ہے وہ مسوجنی ہے جہاں عورت کی توقیر کھیرے کے پلڑے میں ڈال کر اس پہ ہنسا جاتا ہے۔ سوچیئے ایک عام شخص پہ ہم کیا افسوس کریں جب معاشرے کے ادیب و دانشور بھی اسی بہاؤ میں بہتے نظر آئیں۔

یہ بھی جان لیجیے کہ مسوجنی کا یہ پہلو پوری دنیا میں نظر آتا ہے اور وہاں کئی خواتین بھی اس پہ سراپا احتجاج نظر آتی ہیں۔ مغربی فیمنسٹس نے بھی اس مسوجنسٹ خیال کا پوسٹ مارٹم ہوئے اس پہ کہانیاں اور نظمیں لکھی ہیں۔ دیکھیے ستر کی دہائی کی مشہور امریکی شاعرہ ایریکا جونگ کی یہ نظم ؛

But the poem about bananas has not yet been written. Southerners worry a lot about bananas. Their skin. And nearly everyone worries about the size of bananas, as if that had anything to do with flavor. Small bananas are sometimes quite sweet. But bananas are like poets: they only want to be told how great they are. Green bananas want to be told they ’re ripe. According to Freud, girls envy bananas. In America, chocolate syrup & whipped cream have been known to enhance the flavor of bananas. This is called a banana split.

اردو ترجمہ؛
وہ نظم تو ابھی لکھی ہی نہیں گئی جو کیلوں کا ذکر کرتی ہو۔
جنوب کے رہنے والوں کو کیلوں کی بہت فکر رہتی ہے۔
اور ہر کوئی ان کے حجم کے متعلق ایسے فکرمند ہے جیسے شاید حجم کا تعلق ذائقے سے ہو۔
کبھی کبھی چھوٹے کیلے بہت میٹھے نکلتے ہیں۔
لیکن کیلے شاعروں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں ہر وقت یہ سننے کی چاہ رہتی ہے کہ وہ کتنے عظیم ہیں۔
سبز کیلے سننا چاہتے ہیں کہ وہ پک چکے ہیں۔
فرائیڈ کہتا ہے لڑکیوں کو کیلوں پہ رشک محسوس ہوتا ہے۔
امریکہ میں کریم اور چاکلیٹ کیلے کا مزا بڑھا دیتے ہیں اور اسے banana split کہتے ہیں
پنجابی ترجمہ ؛

نظم او ہالے لکھی نہیں گئی جیڑی کیلایاں بارے دسدی۔ بڑیاں فکراں وچ رہندے نیں جنوب دے واسی، کیلے تے اونہاں دی چمڑی، جنہوں ویکھو ماپ دی چنتا وچ دکھدا اے، جیویں ایس نے مہک دے نال کجھ کرنا ہووے، کدیں کدیں تے چھوٹے کیلے بوہتے ای مٹھے مل جاندے نیں۔ پر کیلے وی شاعراں وانگر ای ہوندے نیں۔ ہر ویلے ایہو سننا چاہندے نے بس اوہو نیں سب توں چنگے، سب توں ودھیا۔ ہریل کیلے سننا چاہون اوہ پک گئے نیں۔ فرائڈ دے آکھے مافک: کیلیاں اُتے رشک کریندیاں کُڑیاں۔ امریکا دے وچ سمجھیا جاوے وائپ کریم، چکلیٹی شربت کیلا مہک ودھا دیندے نیں۔ ’اینہوں کیلا سپلٹ کہندے نہیں ۔

Facebook Comments HS