گر ایسا نہ ہوتا


کیا خوب ہوتا کہ سارنگ کو اپنے رنگ میں پھلنے پھولنے کا موقع ملتا مگر افسوس کہ اس کا رنگ اس وقت کی بے رنگی کی نظر ہو گیا۔ حق کی روشنی اتنی تیز تھی اور چندھیا دینے والی تھی کہ رنگوں میں تمیز کرنا ممکن نہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس وقت کی دنیا کے حالات ایسے بنا دیے گئے تھے کہ رنگ برقرار ممکن نہ تھا۔ سونے پہ سہاگا یہ کہ ان حالات کی اصلیت سے واقف کوئی نہیں تھا۔ سب کے سب جذبات کی رو میں بہہ رہے تھے اور سب کچھ جذبات میں آ کر کیا جا رہا تھا۔ نہ تو کمیونزم معاشرتی زہر تھا اور نہ ہی جہاد اس کا تریاق تھا۔ دونوں ہی غلط تھے اور عام لوگوں اس جذباتیت کا نشانہ بن رہے تھے۔

کمیونزم دنیا کے باقی نظاموں طرح کا ایک نظام تھا مگر ہمارے ہاں اسے دین کا درجہ دے کر جہاد شروع کروایا گیا۔ ہمارے اس عمل نے دین اور جہاد کا رتبہ کم کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا اور طاقت کی بہترین خدمت۔ اس جہاد کے اثرات بہت ہی دور رس تھے اور نہ جانے کتنی اور بہاریں لگیں گے ان کو مٹانے یا کم کرنے میں۔ مشکل ہے کہ ہم کچھ کر پائیں۔ ہم ماضی اوراق سے مڑے پنے سیدھے کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو حال کا پنہ اس بری طرح سے مڑتا ہے کہ ہم دونوں کو بھول کر کسی تیسرے پنے پر پہنچ جاتے ہیں۔

ہم آج تک کوئی پاکستانی فریم نہیں بنا سکے ہاں اور تفرقہ بازی اور گروہی فریم بہت زیادہ ہو گئے ہیں کہ اصل اور نقل کی پہچان ہی جاتی رہی ہے۔ طاقت اپنی طاقت کے زعم میں پہلے سے موجود سب کچھ کی نفی کرتے ہوئے ایک نیا وجود گھڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ دنیا کے تمام مفکرین جنہوں نے معاشرے کا مطالعہ کیا ہے اور اور سمجھا ہے وہ اس بات پر متفق ہیں کہ معاشرہ، ثقافت اور مذہب ایسی حقیقتیں ہیں جن کے خلاف جانا کسی طور ممکن نہ ہے۔ یہ سب نظریات بھی غلط لگتے ہیں جب طاقت عوام کو کچل دینے پر آمادہ نظر آئے۔

سارنگ ان سب حالات کا شاہد ہے اور وہ ان کے ساتھ ساتھ بڑا ہو رہا تھا۔ ان حالات کی چھاپ سارنگ پر بھی ہے مگر سارنگ کو اطمینان نہیں۔ وہ بے چین ہے۔ اس کو شروع سے ادراک ہو گیا تھا کہ اگر سب کچھ غلط نہیں تو کچھ نہ کچھ ضرور غلط ہے۔ اس کے لیے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ کیا غلط تھا۔

سارنگ کے زاویے بدلے تو سارنگ کی دنیا ہی بدل گئی۔ اسے صرف ایک ہی جہدوجہد نظر آئی ہے اور وہ تھی تصنع۔ سب مختلف لبادے اوڑھے تھے۔ ایک بندہ کئی کئی روپ میں نظر آیا یہاں کہ وہ خود ہی اپنی شناخت بھول گیا۔ بھولنے کا عمل ایک مثبت اور تعمیری سوچ کا مظہر ہوتا ہے مگر اصلیت کو بھولنا، ذمہ داریاں کو بھولنا، انسانی اخلاق و کردار کو بھولنا، انسانی حقوق کی پامالیوں کو بھولنا، انسانیت کو بھولنا، وغیرہ وغیرہ۔ ایک انسان اپنی ناکامیوں کو بھول کر آگے بڑھ سکتا مگر اپنی اصل بھول کر آگے بڑھنا کسی طور ممکن نہیں ہے۔ سارنگ اس کشمکش میں ہے کہ وہ جھوٹ پہ کھڑی گئی عمارت کو رنگ روغن کرے یا اس کو گرا کر نئی عمارت کھڑی۔ موجود کو بہتر کرتا ہے تو خود پاش پاش ہو جائے گا اور نئی کا سوچتا ہے تو صدیوں کا سفر طے کرنا ہو گا۔

Facebook Comments HS