ایکسٹینشن، ایکسٹینشن اور صرف ایکسٹینشن
محمد عبد اللہ اسسٹنٹ سیکورٹی سپروائزر تھا، اس کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازا تھا، بہترین اور مدلل گفتگو کرتا۔ تجربے کے ساتھ ساتھ اس کی مہارتوں میں اضافہ ہو رہا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ وہ بہت جلد مینیجر بن گیا۔ لیکن اس کی تنخواہ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا۔ اس نے مختلف اداروں میں اپنی سی وی جمع کروانی شروع کر دی۔ تقریباً ایک سال بعد دوبارہ ملاقات میں حال احوال دریافت کیا تو کہنے لگا کیا بتاؤں صاحب!
جہاں گیا لوگ ایکسٹنشن کروا کے بیٹھے ہوئے ہیں میں نے وضاحت طلب کی تو اس نے کہا ایک مشہور ادارے میں گیا انٹرویو لینے کے لیے ایچ آر کی ٹیم کے ساتھ ایک کرنل صاحب تشریف فرما تھے انٹرویو کے بعد کہنے لگے جو تنخواہ آپ ڈیمانڈ کر رہے ہو اس تنخواہ پہ ہمیں ایک بہترین ریٹائر میجر مل جائے گا۔ یعنی میجر صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں لاکھ کے بعد سوا لاکھ کے ہو چکے ہیں، یہی ایکسٹنشن ہے۔ ایڈمن مینیجر کے لیے انٹرویو دینے پہنچا وہاں بھی نتیجہ اس سے ملتا جلتا ملا۔
عبد اللہ کی گفتگو فکر انگیز تھی۔ اس کی باتوں کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ وہ افسران ہیں جو گورنمنٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف اداروں کی تمام اہم عہدوں پر فائز ہو کر باصلاحیت نوجوان نسل کا حق مار رہے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یا تو انہیں اپنا کام شروع کرنا چاہیے، اپنی بساط کے مطابق کوئی کاروبار شروع کر کے دوسرے لوگوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہیے لیکن یہ طبقہ تو اپنی آخری سانس تک لگژری لائف سٹائل کے ساتھ گورنمنٹ و پرائیویٹ سطح پر ہر جگہ پہ اہم عہدوں کے ساتھ جینا چاہتا ہے۔
اسی طرح کی صورت حال ہماری قومی سطح پر بھی تیزی سے فروغ پا چکی ہے۔ جو شخص کسی بھی ادارے کے سربراہ کی سطح پر آ جاتا ہے تو اس کی ذاتی خواہش کے ساتھ ساتھ اس سے جڑے قریبی عزیز و اقارب کی بھی یہ ہی خواہش ہوتی ہے کہ دو چار سال لگے ہاتھ اور مل جائیں تو سونے پہ سہاگہ ہے۔ اور پھر اگر اس پہ حکومت وقت کی بھی کرم نوازی ہو جائے تو پھر تو ایکسٹینشن پکی ہو جاتی ہے، اس طرح پیچھے لائن میں لگے تمام اہل افراد کی صلاحیتیں بھی سلب ہو کر رہ جاتی ہیں اور وہ متعلقہ عہدے پر پہنچے بغیر ہی گھر چلے جاتے ہیں۔
جس کا نقصان ہمیں بطور قوم بھگتنا پڑتا ہے جو بظاہر تو نظر نہیں آتا۔ لیکن ممکن ہے لائن میں لگے ہوئے اشخاص میں سے کوئی ایک شخص ایسا ہو جو پاکستان کی تقدیر بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ لیکن وہ اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائے بغیر ہی اپنا سامان اٹھا کر گھر چلا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک سال قبل تک سینکڑوں افراد ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری طور ری جوائن کرنے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ جو دوسری گورنمنٹ نوکری سے بھی جلد ریٹائرمنٹ لے کر ڈبل پینشن اور دیگر مراعات کا فائدہ اٹھاتے تھے۔ جس سے سرکاری خزانے پہ بھی لوڈ پڑتا تھا، حالیہ حکومتی ترامیم کے مطابق اب ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سرکاری نوکری کرنے والے کو پنشن ملے گی یا تنخواہ ملے گی جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ نوکری کرنے پر صرف ایک محکمے سے پنشن ملے گی۔ حکومت نے یہ ترمیم بھی آئی ایم ایف کے حکم پہ کی ہے۔
نوجوانوں کے لیے اگر روزگار کے مواقع فراہم کرنے ہیں، اداروں کو شخصیات پہ اہمیت دینی ہے، اداروں کو طاقت ور بنانا ہے تو اپنی پالیسیوں پہ نظر ثانی کرنی ہو گی۔ پھر ادارے کے تمام افراد بھی کسی شخصیت کے مفاد کے لیے نہیں۔ بلکہ ملک کے مفاد کے لیے کام کریں گے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکام اور پالیسی ساز تھنک ٹینک ایکسٹینشن کی ہوا ختم کریں تا کہ نئے چہرے متعارف ہوں، ملک و ملت کے لیے اخلاص کے ساتھ کام کرنے والے افراد پیدا ہوں۔ اور ملک ترقی کی راہ پہ گامزن ہو سکے۔


