میڈیکل یونیورسٹیوں میں بھی اقلیتی دو فیصد تعلیمی کوٹہ دیا جائے


میڈیکل یونیورسٹیوں میں اقلیتی کوٹہ کی اشد ضرورت ہے پاکستان کا آئین اقلیتوں کے حقوق کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے اور تمام شہریوں کے لیے برابری کی ضمانت دیتا ہے۔ اقلیتوں کو تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف آئینی اور قانونی اقدامات کیے گئے ہیں۔ جبکہ پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے مورخہ 18 مئی 2020 کو نوٹیفکیشن نمبر PA/AS (LM) /MISC/ 2020 میں حکومت پنجاب نے مذہبی اقلیتوں کے لیے پبلک سیکٹر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 2 فیصد نشستوں کی ریزرویشن کی منظوری دی تھی اور اقلیتی امیدواروں کے لیے الگ الگ میرٹ لسٹوں کو یقینی بنانے کی ہدایت رولز ( 15 ) 28 اور پنجاب گورنمنٹ رول اف بزنس 2011 کے تحت دی۔ اس پالیسی کا مقصد یہ تھا کہ اقلیتی طلبا کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں مدد ملے اور وہ بھی ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ تاہم، یہ ہدایات صرف عام یونیورسٹیوں اور کالجز کے لیے جاری کی گئیں، اور بدقسمتی سے میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجز میں اقلیتوں کے لیے کوئی مخصوص کوٹہ نہیں دیا گیا۔ ایک آر ٹی وصول ہونے والی انفارمیشن 18 / 09 / 24 / 15643 / nmu/ no کے مطابق نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان میں کوئی بھی کوٹہ سسٹم نہیں ہے انفارمیشن کے مطابق نہ ہی ان کو پنجاب سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور کی طرف سے کوئی ہدایت نامہ جاری ہوا جس کے مطابق داخلہ دیا جائے اب ہم آئین پاکستان کے مختلف آرٹیکلز اور تعلیمی نظام میں اقلیتی طلبا کو درپیش چیلنجز کا جائزہ لیتے ہیں، دور حاضر میں میڈیکل یونیورسٹیوں میں بھی اقلیتی طلبا کے لیے کوٹہ مختص کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

”آئین پاکستان اور اقلیتوں کے حقوق“

آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کے تحت تمام شہریوں کو قانون کے مطابق برابر قرار دیا گیا ہے، اور ریاست کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب، نسل یا جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کرے۔ یہ اصول اقلیتی طلبا کے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے تحت انہیں وہی تعلیمی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں جو اکثریتی طبقے کے طلبا کو حاصل ہیں۔

آرٹیکل 36 اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے مزید وضاحت فراہم کرتا ہے اور حکومت کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے۔ اس میں تعلیمی میدان میں اقلیتی طلبا کو خصوصی مراعات فراہم کرنا شامل ہے تاکہ وہ تعلیمی میدان میں پیچھے نہ رہ جائیں۔

آرٹیکل 27 بھی امتیازی سلوک کی مخالفت کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں کسی بھی شہری کے ساتھ مذہب یا نسل کی بنیاد پر تفریق نہ کی جائے۔

”اقلیتی طلبا کے لیے کوٹہ سسٹم کی ضرورت“

کوٹہ سسٹم کا مقصد اقلیتی طلبا کو ان مواقع تک رسائی فراہم کرنا ہے جن تک عام حالات میں ان کی رسائی محدود ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں اقلیتی طبقہ عمومی طور پر تعلیمی میدان میں پیچھے رہتا ہے اور ان کے لیے اعلیٰ تعلیم تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے اقلیتی طلبا کے لیے کوٹہ سسٹم متعارف کرایا گیا، تاکہ انہیں معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو سکے۔ عام یونیورسٹیوں اور کالجز میں دو فیصد کوٹہ مختص کرنے کا اقدام اقلیتی طلبا کے لیے ایک مثبت قدم تھا، لیکن اس پالیسی کا دائرہ میڈیکل یونیورسٹیوں تک نہ بڑھانا ایک بڑا خلا ہے۔ میڈیکل تعلیم اقلیتی طلبا کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی اکثریتی طبقے کے لیے، اور اگر میڈیکل یونیورسٹیوں میں کوٹہ مختص نہ کیا گیا تو اقلیتی طلبا اس اہم شعبے میں پیچھے رہ جائیں گے۔

”میڈیکل یونیورسٹیوں میں کوٹہ کا فقدان“

میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجز میں اقلیتی طلبا کے لیے کوٹہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اس اہم شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع نہیں ملتے۔ اس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر متاثر ہوتا ہے بلکہ ملک کو بھی قابل نرسوں اور ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو مختلف طبقوں کی نمائندگی کر سکیں۔ پاکستان کے میڈیکل اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع انتہائی محدود ہیں اور مقابلہ بہت زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں اقلیتی طلبا کے پاس مواقع کم ہو جاتے ہیں اور وہ ان تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں لے پاتے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے فوری طور پر میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجز میں اقلیتی طلبا کے لیے کوٹہ مختص کرنے کی ضرورت ہے۔

”آئین کے مطابق میڈیکل اداروں میں کوٹہ“

آئین پاکستان کے آرٹیکل 37 میں ریاست پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم فراہم کرے اور تعلیمی اداروں میں برابری کے مواقع فراہم کرے۔ اقلیتی طلبا کو میڈیکل تعلیم کے مواقع فراہم کرنا بھی اسی ذمے داری کا حصہ ہے۔ آرٹیکل 22 کے تحت کسی بھی تعلیمی ادارے میں مذہب کی بنیاد پر طلبا سے امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن جب اقلیتی طلبا کے لیے کوٹہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں میڈیکل اداروں میں داخلہ نہیں ملتا، تو یہ بالواسطہ طور پر آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت کو سفارش کرتے ہیں کہ میڈیکل یونیورسٹیوں میں دو فیصد کوٹہ لاگو کیا جائے ایسے اقدامات کرنے سے موجودہ حکومت کی ساکھ بڑھے گی۔

”شفافیت اور نگرانی“

میڈیکل اداروں میں کوٹہ سسٹم پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک خودمختار ادارہ قائم کیا جائے، تاکہ تمام تعلیمی ادارے اقلیتی طلبا کے حقوق کی پاسداری کریں جیسے کے حال ہی میں حکومتی ایم پی اے پنجاب سونیا اشعر نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ اگر کسی بچے کو داخلے میں کوئی مسئلہ پیش آئے یا کوٹہ کے تحت داخلہ نہ دیا جا رہا ہو تو فوری میرے ساتھ میرے نمبر پر رابطہ کریں جو کہ ایک اچھا اور لیڈرانہ صلاحیت کا اقدام ہے ایسے ہی اقدامات کر کے کوٹہ سسٹم کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

”اقلیتی طلبا کے لیے آگاہی مہم“

اقلیتی طلبا کے لیے تعلیمی اداروں میں مخصوص کوٹہ کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے حکومت، متعلقہ اداروں، سول سوسائٹی، اور اقلیتی لوکل لیڈرز کو آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبا کو ان کے حقوق کے بارے میں معلوم ہو سکے۔ اور اس کے ساتھ یونیورسٹیوں اور کالجز کو بھی چاہیے کہ ہر سال اشتہارات کے ذریعے عوام میں اگاہی دیں۔

”قانونی چارہ جوئی کے مواقع“

اقلیتی طلبا کے لیے قانونی چارہ جوئی کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ اگر ان کے ساتھ تعلیمی اداروں میں امتیازی سلوک ہو یا کوٹہ کے نفاذ میں کوئی کوتاہی ہو، تو وہ اپنے حقوق کا دفاع کر سکیں جس میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے اور صوبائی وزیر وغیرہ شامل ہوں۔

اب جبکہ پاکستان کا آئین اقلیتی طلبا کو برابری کے مواقع فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے، اور حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اقلیتی طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع حاصل ہوں۔ عام یونیورسٹیوں اور کالجز میں اقلیتوں کے لیے کوٹہ مختص کرنا ایک اچھا قدم ہے، لیکن اس پالیسی کو میڈیکل یونیورسٹیوں تک نہ بڑھانا آئین کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت کو فوری طور پر میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجز میں اقلیتی طلبا کے لیے کوٹہ مختص کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ بھی ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ حکومت میں موجود اقلیتی ایم پی اے کو چاہیے کہ فوری طور پر پنجاب میں میڈیکل یونیورسٹی اور کالج میں دو فیصد کوٹہ کی منظوری کروائیں تاکہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے بچوں اور خاص طور پر بچیوں کے لیے میڈیکل یونیورسٹی اور کالج میں داخلہ لینے میں آسانی پیدا ہو سکے۔ جس سے ملک کی ثقافت اور طلبہ پر مثبت اثر پڑے گا جو بہتر تعلیمی نتائج کا باعث بنے گا۔

Facebook Comments HS