آئینی شق 8 میں ترمیم، پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کا قتل عام
دور جدید میں انسانی حقوق کا مسئلہ سب سے اول تصور کیا جاتا ہے، کسی بھی ریاست کی مضبوطی، ترقی اور خوشحالی کا معیار بھی وہاں کے شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق کو دیکھ، پرکھ کر طے کیا جاتا ہے، جیسے مشہور فلسفی ارسطو کہتا ہے قانون بنیادی، قدرتی اور اخلاقی ہوتے ہیں، غلط آئین کا مطلب غلط ریاست ہے، ابن خلدون نے بنیادی انسانی حقوق کی منصفانہ فراہمی کو ترقی کی علامت کہا، جیکسن رومو نے کہا انسان آزاد پیدا ہوا ہے، سیموئل موٹن کے مطابق انسانی حقوق کا تصور شہریت کے جدید احساس کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جدید انسانی حقوق کا تصور یونانی معاشرت سے اخذ کردہ سمجھا جاتا ہے، جس میں وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے تبدیلیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔ البتہ قدیم لوگوں کے پاس آفاقی انسانی حقوق کا جدید دور کی طرح کا کوئی تصور نہیں تھا۔
دنیا میں رائج تمام مذاہب بھی سب سے پہلے انسانی حقوق کا ہی دعویٰ کرتے ہیں، جن میں اسلام کو سب سے جدید سمجھا جاتا ہے، تعمیل حقوق العباد کے لیے ریاست مدینہ کا قیام اور میثاقِ مدینہ کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں، اسلام کے مطابق غیر مسلموں کے حقوق دینے سے لے کر ماں، باپ، بیٹا، بیٹی، بہن، بھائی، رشتہ داروں، ہمسائیوں، یتیموں، بیواؤں، یہاں تک کے جنگی قیدیوں کے بھی بنیادی حقوق رکھے گئے۔
متحدہ ہندوستان میں دو قومی نظریے کی بنیاد اور اسلام کے نام پر قائم کیا جانے والا ملک پاکستان، اس کے آئین کو اسلامی اور جمہوری رکھا گیا، جس کے ابتدائیہ میں عوام اور ریاست کے درمیان عمرانی معاہدے کو پیش کیا گیا۔ دستور پاکستان میں ان شقوں کو رکھا گیا جو ریاست پاکستان میں بسنے والے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کریں، 1973 کے دستور میں دوسرے باب کو بنیادی انسانی حقوق کا باب قرار دیا گیا، دستور کی شق 8 میں انسانی حقوق کو بیان کیا گیا ہے، شق کے مطابق ریاست پاکستان، اس کی پارلیمان، حکومت، اور قانونی ادارے کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنا سکتے ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف تصور ہو یا جس اسے انسانی آزادیاں سلب ہوتی ہوں، ہر شہری آزاد و محفوظ ہے، جان و مال کی حفاظت ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ دستور کی شق 9 میں ریاست نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ پاکستانی کے کسی بھی شخص کو اس کے حقِ زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، کسی بھی جرم میں حراست میں لیے گئے فرد کو 24 گھنٹوں میں عدالت کے سامنے پیش کرنا ہو گا، شق 10 میں کہا گیا کہ اگر کوئی ملزم بھی ہو، تب بھی اسے ضروری تحفظ دیا جائے گا۔ آئین میں تفویض کیے گئے حقوق کا تعلق ہم سب سے ہے۔ اگر کہیں ان کی خلاف ورزی ہو، انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہوں تو متاثرہ شہری عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
اب ذکر کرتے ہیں ریاست پاکستان کی جانب سے حالیہ دنوں میں کی جانے والی آئینی ترامیم میں ایسا کیا تھا کہ ہر جگہ شور و شرابا اور وزیر اعظم، صدر مملکت سے لے کر سب بے چین تھے۔ جس پر مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ایسے منایا جا رہا تھا کہ ریاست پاکستان چلانے والے وہ واحد شخص ہیں، جن کی ہاں اور نا ہی سب کچھ ہو۔
مولانا فضل الرحمان کو منانے کے سو جتن کی کہانی سینیٹر کامران مرتضیٰ نے فاش کی، کامران مرتضیٰ نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے مشکوک کردار سے آگاہ کیا، میڈیا پر دیے گئے بیانات میں کہا کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، نیشنل عوامی پارٹی سمیت حکومتی اتحاد میں شامل پارٹیاں آئین کے آرٹیکل 8 میں ترمیم کرنے کی خواہاں ہے۔
سینیٹر کامران مرتضی ٰ کے مطابق حکومت پاکستان کے آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے میں کالے ناگ تھے، اس حوالے سے چیئر مین پیپلز پارٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو آئین کے آرٹیکل 8 میں ہونے والی ترمیم کا علم تھا اور جب میں نے ان کی توجہ اس طرف دلوائی تو جناب بلاول نے کہا کہ کیا کریں ہماری مجبوری ہے یہ ترمیم کرنی پڑے گی، ساتھ بلاول نے اپنی بہت سے مجبوریاں بھی گنوائیں۔
اب سوال تو یہ اٹھتا ہے کہ جمہوریت کی علمبردار، انسانی حقوق کا محافظ کہلوانے والی جماعت کی ایسی کیا مجبوری ہو گئی کہ وہ شہریوں کو حاصل بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرنے کو بھی تیار ہو گئی ہے۔ آئینی ترامیم مسودے کے حوالے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پارلیمان کی جانب سے آرڈیننس کی مدت کو تین ماہ سے بڑھا کر دو سال کیا جا رہا ہے جبکہ سول عدالتوں کے اختیارات میں بھی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔
اسلامی قوانین اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر سے بننے والا آئین پاکستان کے بنیادی انسانی حقوق کے باب میں تبدیلیاں ریاست کی گرتی ساکھ اور پستی کا اظہار ہے۔ ریاست کی جانب سے ایسے اقدامات جن سے شہریوں کے ساتھ کیے گئے عمرانی معاہدوں کو تبدیل کرنا وہ بھی عوام کے رائے اور ان کی رضامندی کے بغیر، معاشرے کو جبر کی طرف لے جانا ہے، ایسی ریاست بنا دینا جہاں چند لوگ مرضی کے قانون بنا کر عام شہری کو زندہ درگور کر دیں، ریاست کے تحفظ کا نام لے کر اپنی ذاتی طاقت میں اضافہ کریں، اپنی حکمرانی کو دوام بخشیں اور پاکستان میں بسنے والے انسانوں کی زندگیوں کو جہنم بنا دیں۔
عقل و دانش والوں نے کہا ہے کہ کسی بھی کامیاب ریاست کے منشور میں زندگی کی بقاء، آزادی، مساوات، سب کے لیے یکساں قانون، انسانی حرمت، تعلیم اور اظہار آزادی رائے شامل ہیں، منشور میں ریاست کو انسانی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ اب اگر حکومت پاکستان اپنے شہریوں سے بنیادی انسانی حقوق ہی سلب کرنا چاہتی ہے تو پھر مستقبل کا انتخاب بھی آپ خود کر لیں۔


