کن فیکون اور انسان
حال ہی میں، میں نے ایک انٹرنیشنل کانفرنس اٹینڈ کی جس میں ایک لیکچر جدید دور کی ایجادات پر تھا سپیکر کے مطابق جتنی ایجادات آدمؑ سے لے کر 2004 تک ہوئیں اتنی آج ہر دو گھنٹے میں ہو رہی ہیں۔
اوپر کی سٹیٹمنٹ میں جتنا بھی مبالغہ ہو مگر یہ تو حقیقت ہے کہ آج کا دور ایجادات کا دور ہے جتنی ایجادات آج دنوں اور مہینوں میں ہو رہی ہیں اتنی شاید صدیوں میں نہیں ہوئیں۔
خدا کی تلاش میں نکلا ہوا انسان آہستہ آہستہ خدا کی طرف گامزن ہے جس فطرت کی وہ پوجا میں تھا آج اس کو درجہ بدرجہ دریافت کر رہا ہے۔ یہی لوگ علم والے اور اختراع والے ہیں جو ہر دور میں حاکمیت کے اہل ٹھہرے۔ اس کے برعکس وہ بھی ہیں جن کی منزل مقصود روٹی و روزی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ جن کا نا کوئی پوٹینشل رہتا ہے نہ لبرٹی دو جمع دو چار والے یہ لوگ تھکا دیے جاتے ہیں یہ خوشی و معرفت سے محروم لوگ آنکھیں رکھنے کے باوجود راستہ نہیں دیکھ پاتے، یہی وہ لوگ ہیں جو اندھے اور خس و خاشاک ٹھہرے جو یقیناً ہدایت و آزادی کے بدلے ذلت و غلامی خرید لیتے ہیں۔
ایک ہالی وڈ مووی غالباً 10000 BC ہے جس میں کشتی ایجاد کرنے والے دیوتا ہونے کا دعوٰی کرتے رہے اور کم علمی والے ان کو پانی پہ چلنے والے دیوتا سمجھ کر غلامی کرتے رہے۔ سلیمانؑ کے وزیر آصف برخیا کتاب کے علم و عمل کی بنیاد پر لوح و قلم پر جگمگا رہے ہیں۔
علم انسان کا کن فیکون ہے جس کے کن کے شاہکار سڑکوں پر سینکڑوں میلوں کی سپیڈ سے دوڑتے پھر رہے ہیں سمندروں و ہواؤں کے سینے چیر رہے ہیں ستاروں پہ کمند ڈال چکے ہیں گرمی کو سردی اور سردی کو لمحوں میں گرمی میں بدل چکے ہیں فاصلے دفن اور وقت فریم کر چکے ہیں۔
یقین کامل ہے کہ علم والوں کی پیاس دنیا کو صرف جنت میں بدلنے تک محدود نہیں ہوگی جب تک کہ وہ دریافت خدا نہ کر لیں۔ کن کی اس دوڑ کی اصل منزل تو ذات باری ہے باقی ایجادات و اختراع تو راستے کے چراغ و نشانیاں ہیں۔
ہاں مگر جان لو کہ کن کے یہ سب اختیار مسلمان نہیں انسان کو دیے گئے علم و اقراء والے خلا و فضا کی چہل میں ہیں جبکہ آپ ہم روٹی کی مشکل و سہل میں اڑے ہیں۔ زمانہ شاہد ہے علم کن والوں کو ہی جنت ملی اور جنت کبھی روٹی و روزی سے خالی نہیں ہوتی مگر ہم؟ افسوس کہ روٹی کے بدلے جنت ٹھکرا بیٹھے۔
یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون


