فلسطین پر قبضہ۔ پہلا قدم

فلسطینیوں کے لئے اور عام طور پر مسلم امہ کے لئے 7 اکتوبر 2023، تاریخ کا بدترین دن تھا جس دن ہالوکاسٹ کے دوران ادا کیے گئے صیہونیوں کے اپنے کردار کی طرح کہ یہودیوں کو زیادہ سے زیادہ ڈرایا بھی جائے اور دنیا کے سامنے انہیں مظلوم بنا کر بھی پیش کیا جائے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حماس سے حملہ کروایا گیا۔ کیسا اتفاق ہے کہ اسرائیلیوں نے خود ہی اس حملے کا موازنہ ہولوکاسٹ سے کیا ہے۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حماس کو ”نئی نازی“ قرار دیا ہے، نازیوں کے ظلم و ستم تب بھی فرضی تھے اور اس نئی نازی کے یعنی حماس کے مظالم بھی فرضی ہیں۔ دنیا کا ہر ذی شعور یہ جانتا ہے کہ یہودیوں نے جان بوجھ کر یہ جنگ شروع کی تاکہ غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ اس سے پہلے کبھی ان میں سے اتنے بڑے قتل عام اور ایک ہی دن میں یرغمال نہیں بنائے گئے تھے۔
بھاری ہتھیاروں سے لیس اسرائیل کے ہزاروں جنگجو غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے اور آج تک ظلم و بربریت کا وہ بازار گرم کر رکھا ہے کہ کوئی صاحب ضمیر اسے برداشت نہیں کر سکتا اسرائیلی فوجی گھنٹوں تک بلا روک ٹوک دھاوا بولتے رہتے ہیں اور جب قتل و غارت گری سے تھک جاتے ہیں تو تازہ دم ہو کر پھر آ جاتے ہیں۔ ، کئی دیہات کو تباہ کر دیا، اور ایسی ایسی وحشیانہ کارروائیوں کا ارتکاب کیا کہ شیطان بھی ورطہ حیرت میں ہے کہ یہ رجیم حرکات تو میں نے سوچی بھی نہ تھیں۔ نیتن یاہو نے اپنی عوام سے وعدہ کیا ہے اور دنیا کو چیلنج کر دیا ہے کہ اسرائیل حماس سے اس وقت تک لڑے گا جب تک کہ وہ مکمل فتح حاصل نہیں کر لیتا۔ اور مکمل فتح کا مطلب سب ہی جانتے ہیں کہ آخری فلسطینی کی شہادت ہی مکمل فتح ہو گی۔ سرائیل ہر صورت میں غزہ اور مغربی کنارے کے تمام علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ جتنی جلدی ہو سکے یہ سارے فلسطین پر اپنی حکومت قائم کر لے اور پھر ساری دنیا پر حکومت کا اس کا خواب پورا ہو سکے۔
فلسطینیوں کے لیے غزہ کی جنگ 75 سالوں میں سب سے بدترین واقعہ ہے۔ نکبہ کے بعد سے ان میں سے اتنے لوگ کبھی نہیں مارے گئے اور گھر بار ہسپتال دفاتر تباہ کر دیئے گئے، وہ تباہی جو 1948 میں اسرائیل کی جنگ آزادی کے دوران ان پر نازل ہوئی، جب لاکھوں فلسطینی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور پناہ گزین بن گئے۔ اسرائیل کے فوجی مظالم نے بیسیوں ہزار فلسطینیوں کی جانیں لے لی ہیں، جن میں ہزاروں بچے تھے، اور پچاس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ در اصل یہ سالوں سے جاری اسرائیلی جارحیت تمام فلسطینی اراضی کو یہودی ریاست میں شامل کرنے اور انہیں غزہ کو مکمل طور پر ترک کرنے پر مجبور کرنے کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ پہلے ایک عظیم تر آزاد حکومت کا قیام اور اس کے تحت پوری دنیا پر بادشاہت، صیہونیوں کا ہزاروں برس پرانا خواب تھا جس کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں، اسی احساس برتری کی وجہ سے یہ لوگ دیگر قوموں کے ساتھ گُھل مِل نہ سکے۔ مسلمانوں کو پوری دنیا میں سازشوں کے ذریعے زک پہنچانے کے بعد اور مسلمان علاقوں کو سامراج کے سائے میں لا کر یہ صیہونی تنظیم اپنی آزاد ریاست کے قیام پر زور دینے لگی۔
1896 ء میں مشرقی یورپ کے آسٹرو ہنگری کے ایک یہودی صحافی، ادیب اور قانون دان ”تھیوڈور ہرتزل“ نے اپنی کتاب ”یہودی ریاست“ میں کنعان، ارضِ مقدّس اور فلسطین پر مشتمل ایک خودمختار، آزاد یہودی ریاست کا تصوّر پیش کیا۔ اُس نے اپنے کتابی تخیّل کو عملی شکل دینے کے لیے ”عالمی صیہونی تنظیم“ کے نام سے ایک جماعت بنائی، یہ تنظیم نہایت کام یابی کے ساتھ وسطی اور مشرقی یورپ میں ایک یہودی قومی احیاء کی تحریک کے طور پر اُبھری اور بہت جلد عالمی سطح پر یہودیوں کی واحد نمائندہ تنظیم کا روپ اختیار کر گئی۔ اس تنظیم نے دنیائے عالم میں سام دشمنی کے گھائل یہودیوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا، بلکہ اُن کی خود ساختہ مظلومانہ تصویر میں مبالغہ آمیزی کے رنگ بھر کر اُن کے لیے ارضِ فلسطین میں آزاد اور خودمختار ریاست کے مطالبے کو حقیقت کا رُوپ دینے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ انیسویں صدی میں، 7,000 سے کم یہودی فلسطین میں رہ رہے تھے، جو اس وقت عثمانی صوبہ کی آبادی کا تقریباً 2.5 فیصد تھے۔ بظاہر عرب ہمسایہ ممالک سے روزگار کی تلاش میں آئے زیادہ تر یہودی مذہبی وجوہات کی بناء پر یروشلم کے پرانے شہر میں آباد ہونے کا رجحان رکھتے تھے۔ در پردہ ان تارکین وطن کا فلسطین میں یہودی ریاست قائم کرنے کا ہی ارادہ تھا۔ یہ یہودی صیہونی نظریہ پر یقین رکھتے تھے اور ان میں سے بہت سے مذہبی بنیادوں پر صیہونیت کا ساتھ دیتے تھے۔ غرناطہ میں مسلم دور کے خاتمہ اور سلطنت عثمانیہ میں بغاوت اور اختتام کے پیچھے بھی یہودی سازشیں کارفرما تھیں۔
صیہونیت کے باپ تھیوڈور ہرتزل تعلیمات کے مطابق جھوٹے سچے ہر لحاظ سے یہودیوں کو مظلوم ثابت کرنا ہے، دوسری اقوام اور خاص طور پر مسلمانوں کے فرضی مظالم بنا بنا کر دنیا کے سامنے ایسے پیش کرنے ہیں کہ وہ حقیقت نظر آئیں، تہذیبوں کی جنگ، مسلمان پر دہشت گردی کا لیبل، عدم برداشت کا الزام، بنیاد پرستی اور اس طرح کے بہت سے نفسیاتی حربے جو عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ باقی غیر مسلم بھی مسلمانوں کی مخالفت کریں۔ یہاں تک کہ یہودیوں نے مسلمانوں کے چار سنی اماموں کو ماننے والے مسلمانوں کو ہر لحاظ سے نشانہ بنایا ہے اور باقی عقائد والوں کو ان سنی مسلمانوں کے خلاف کر کے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال بھی کیا ہے۔ حماس اور اس کے حامی ممالک ہی در اصل اسرائیل کے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے میں استعمال ہو رہے ہیں۔ پیجر بم متعارف ہو گئے مگر دنیا کو ابھی تک کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا کیونکہ یہ یہود و نصاریٰ نے استعمال و ایجاد کیے اور تجربہ مسلمانوں پر کیا۔ اس کے جواب میں اب حزب اللہ میدان میں آئے گی اور یہودیوں کو مزید مواقع ملیں گے کہ وہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کی سرکوبی کے لئے پھر نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنائیں۔
آج وہ صیہونی تنظیم اپنے مقاصد کے قریب تر ہے، دنیا کو اپنی مٹھی میں کر چکی ہے اور نفسیاتی، معاشی، عقلی، معاشرتی اور سیاسی طور پر اس تنظیم نے مسلمانوں کو اتنا بے وقعت اور بے اہم ثابت کر دیا ہے کہ کسی مسلمان کی شہادت دنیا کے لیے قابل غور ہی نہیں رہی۔ فلسطین میں اتنے انسانیت سوز واقعات ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں کہ چند انفرادی آوازوں کے علاوہ کوئی آواز ان کے لئے نہیں اٹھی۔ اقوام متحدہ حسب معمول مسلم کش ہونے کا عملی ثبوت دے رہی ہے اور مسلمانوں کی اپنی تنظیمیں ان کے ضمیروں کے طرح خواب غفلت میں یہودیوں کے ہاتھ ضمیر بیچ کر سو رہی ہیں۔ ہمارے سیاست دان، پیر گدی نشین، علماء اور دوسرے مذہبی عمائدین ہمیں نماز روزے کی تلقین اور تاکید کر رہے ہیں۔ ہر کوئی باتوں سے نمبر بنا رہا ہے۔ کسی نے آج تک یہ نہیں کہا کہ یہودی مسلم کشی بند کریں ورنہ ہم اپنی سپاہ لے آئیں گے۔ شاید یہ جذبہ غرناطہ کی شکست کے ساتھ ختم ہو گیا تھا یا پھر سلطنت عثمانیہ کو ری پبلک قرار دینے کے بعد ماند پڑ گیا تھا۔

