خالی کونا
” دیکھو ابھی سے چارپائی بچھا دی۔ سر شام ہی راستہ بند کر دیا۔ کوئی آ گیا تو میں دروازہ کیسے کھولوں گی۔“ شریفن بی بی نے پان چباتے ہوئے کہا۔
” بس اب کس نے آنا ہے اندر حبس ہے یہیں پنکھا لگا لیتا ہوں۔“ خلیل میاں لاپروائی سے بولے۔
” ٹھیک ہے ہمیں کیا جی۔ بل بھرتے ہوئے آپ نے ہی آہ و بکا کرنی ہے۔ عشاء کے بعد پنکھا لگ جاتا تو فجر تک چل پاتا۔ شب بھر مچھروں سے بچ کر نیند لیتے تو دن بھر آپ کی چڑچڑی باتوں سے محفوظ رہتے۔“ شریفن کہاں چپ رہنے والی تھی۔
” اچھا ناحق جی نہ جلاؤ اپنا بھی اور میرا بھی۔ سوچ کچھ رہا ہوتا ہوں بیچ میں تمھاری چخ چچ سے سارا خیال ہی خاک میں مل جاتا ہے۔“ خلیل میاں نے زور لگا کر آواز میں رعب پیدا کرنے کی ناکام سعی کی
” خیال۔“ شریفن نے تھوڑے تمسخر سے کہا۔ اسی وقت باہر سے دروازے کی کنڈی بجی تو وہ بولی۔ ”اے لو اب جاؤ اور خود ہی دیکھو کون ہے۔“
مکان سوا مرلے کا تھا اور اس کا اختصار ہی جھگڑے کا باعث تھا کہ کون سی چیز کب اور کہاں رکھی جائے جس سے آمد و رفت میں خلل پیدا نہ ہو۔
خلیل میاں نے لکڑی کے بوسیدہ دروازے کا ایک پٹ کھولا اور باہر چلے گئے۔ چند لمحے کسی سے گفت گو کی صدا گونجتی رہی جس سے شریفن بی بی کو کچھ دل چسپی نہیں تھی۔ وہ اس وقت چونکی جب شوہر نامدار لوہے کا ایک پنجرہ لے کر اندر گھسے جس میں ایک بڑا سا طوطا بھی تھا۔
” آئے ہائے یہ کیا اٹھا لیا۔ اسے میرے سر پر رکھو گے یا بچوں کو کہیں بھیج دوں۔ گھر میں کوئی کونا بھی خالی نہیں جہاں اسے سجا دیا جائے۔“ ہمیشہ کی طرح جلی کٹی آواز گونجی۔
” سچ کہتی ہو لیکن ہمسایوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا از حد ضروری ہے۔ سنا نہیں اپنے دور پڑوسی نیڑے۔“ خلیل میاں نے پھولی سانس کے ساتھ جواب دیا۔
” اوہو! پھر بھی یہ طوطا مع پنجرہ ہے کس کا اور ہمارے وسیع محل میں ہی کیوں اس نے قدم رنجہ فرمایا؟“
” دیکھو میں نے اسے نہ رکھنے پر مسلسل اصرار کیا تھا لیکن خیر دین کا کہنا تھا کہ اسے اپنے اہل خانہ سمیت پندرہ روز کے لیے خانیوال جانا پڑ گیا ہے۔ اس کا سمدھی حادثے میں سخت زخمی ہو گیا ہے۔ اس دوران میں طوطے کی دیکھ بھال ہمارے ذمے آئی ہے چونکہ زندہ چیز ہے۔ آب و دانہ نہیں ملا تو کوچ کر جانے گا۔“
شریفن نے ماتھے پر ہاتھ مارا ”ٹھیک ہے دھر دو کمرے کے در پر۔ مجھے بیٹ وغیرہ سخت ناپسند ہے اس کی صفائی آپ کی ذمہ داری ہوگی۔“
معاملہ طے ہو گیا۔
بچے ساتھ والی باجی سے ٹیوشن پڑھ کر آئے تو طوطا دیکھ کر باغ باغ ہو گئے انھوں نے گھر میں دستیاب واحد امرود ایک ہری مرچ اور روٹی کے ٹکڑے سے مہمان کی تواضع کی۔
گھر کے گھٹے گھٹے ماحول میں بچے سہمے رہتے تھے۔ آج خوش نما پرندے کے ساتھ وہ بھی چہک رہے تھے۔ طوطا تھا بھی بولنے والا۔ صاف زبان سے میاں مٹھو اور السلام علیکم کے الفاظ ادا کر رہا تھا۔
رات کو کھٹارا پائدان پنکھے کے شور کے بیچ پنجرے سے پروں کی پھڑپھڑاہٹ کی آواز بھی اپنا وجود بیان کرتی رہتی۔
دکان سے واپس آتے وقت خلیل میاں کچھ نہ کچھ سبزی فروٹ ضرور لاتے ورنہ طوطے کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
شریفن بی بی دن بھر گھر میں اکیلی کام کرتی رہتی تھی جو اب طوطے کے ساتھ محو گفت گو رہتی۔ پنجرے سے کچرے کی صفائی خوش دلی اور خوش اسلوبی سے کرتی۔ بچے سکول اور ٹیوشن سے آتے ہی پنجرے کو گھیر لیتے۔ دیگر معاملات کے ساتھ طوطے کی خیر خیریت بھی دریافت ہوتی۔ مہمان پرندے نے سارے گھر میں ایک نئے فرد کے طور پر جگہ بنالی تھی۔
ایک بار پھر سر شام خلیل میاں نے چارپائی گھر کے دروازے کے سامنے اڑا کر راستہ روک دیا اور لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔ شریفن بی بی چارپائی سے ٹکرائی اور حسب عادت جگہ کی تنگی کا شکوہ فضا میں گونجا جو قطعی طور پر خلیل میاں کے لیے بے اثر تھا لیکن گھر کے دروازے کی کنڈی زور دار کھڑکنے سے انھیں آٹھ کر باہر جانا پڑا۔ شریفن بی بی بڑبڑا رہی تھی کہ خلیل میاں واپس آئے اور سیدھے طوطے کے پنجرے کے پاس پہنچے اور پنجرہ اٹھا کر باہر کی سمت بڑھے۔
” اوہو یہ کہاں لے چلے؟“
” ابو۔ ٹھہریں ابو۔“ بچوں کے ہاتھ اٹھے کے اٹھے رہ گئے۔
واپس اندر آ کر خلیل میاں بولے۔ ”خیر دین لوگ واپس آ گئے ہیں وہ اپنا طوطا لے گئے ہیں۔“
گھر میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ پھر بچے رونے لگے۔ شریفن بی بی کی آواز اداسی کی عجیب کیفیت میں صرف ایک جملہ ادا کر سکی۔ ”گھر کا یہ کونا کتنا خالی خالی لگ رہا ہے۔“


