ملازمہ

  ” میرا گھر کتنا خوب صورت ہے۔ مہنگے مہنگے برتن، اتنا بڑا اوون، جدید چولھا، ڈیپ فریزر، ائر کنڈیشنڈ ماحول یہ سارا کچن میرا گھر ہی تو ہے۔“ لاریب نے صاف ستھرے فرش پر بیٹھے بیٹھے سوچا۔ چونکہ اس کا زیادہ وقت کچن میں ہی گزرتا تھا۔ ” لاریب۔“ باہر سے اس کی مالکن نرگس شمیم کی آواز گونجی۔ ” جی ممی۔ آئی۔“ لاریب اسے ممی ہی کہتی تھی۔ جیسے دوسری تین بچیاں کہتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ

Read more

خال خیالی

سی ڈی شمس کو محض اِس واسطے اپنا اسم گرامی مکمل بتانے میں پس و پیش تھا کہ چراغ دین سورج کیسے ہو سکتا ہے۔ نیز وہ احباب کو بارہا آگاہ کر چکا تھا کہ شم مس نہیں بلکہ شم س کہا جاوے لیکن احباب بضد تھے اور میم کی تشدید کو تشدد کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ سی ڈی شمس لب و رخسار کی دنیا میں گم رہتا تھا۔ حسن کے مختلف پہلوؤں پر نظروں کی پہنچ اور قلب

Read more

آدم اور گربہ: افسانہ

کاغذوں کے پلندے اسود ہوچکے تھے اور مصنف تھکان کے باوجود توقف پر راضی نہیں تھا چونکہ تسلسل نہ رہتا تو آمد رک جانے کا یقین تھا۔ کہانی روانی سے چل رہی تھی۔ ” چائے لاؤ۔“ تیز آواز قلم کے سفر کی طرح تھی۔ ” قہوہ دستیاب ہے فی الوقت۔ آج پھر بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا ہے۔ فریج کے دروازے کا ربڑ ڈھیلا ہے۔ واردات مکرر ہو چکی ہے۔“ لکھاری کی زوجہ بھی کم اہل زباں نہیں تھی۔

Read more

کھاتے پیتے انسان

جلیبی تلنے کی خوشبو نے میرا رخِ فاقہ حلوائی کی جانب موڑ دیا۔ جیب سے ایک مڑا تڑا بیس روپیہ کا نوٹ نکل پایا اور منہ سے باریک سی آواز نے دیگر گاہکوں کو متوجہ کر لیا ”بیس روپے کی جلیبی دینا۔“ حلوائی نے کڑچھا زور سے کڑاہی کی دیوار پر مارا ”ابے چل کام کرنے دے۔“ جلیبی اپنی ناقدری پر شرما کر کچھ اور پیچیدہ ہو گئی۔ ناکام و نامراد آگے بڑھا اور سموسوں کی دکان پر ہجوم دیکھ

Read more

خالی کونا

” دیکھو ابھی سے چارپائی بچھا دی۔ سر شام ہی راستہ بند کر دیا۔ کوئی آ گیا تو میں دروازہ کیسے کھولوں گی۔“ شریفن بی بی نے پان چباتے ہوئے کہا۔ ” بس اب کس نے آنا ہے اندر حبس ہے یہیں پنکھا لگا لیتا ہوں۔“ خلیل میاں لاپروائی سے بولے۔ ” ٹھیک ہے ہمیں کیا جی۔ بل بھرتے ہوئے آپ نے ہی آہ و بکا کرنی ہے۔ عشاء کے بعد پنکھا لگ جاتا تو فجر تک چل پاتا۔ شب

Read more