جواریوں کا علامہ اقبال
اب سے کوئی پندرہ، بیس سال پہلے عزیز ہوٹل چوک پر ایک ننگ دھڑنگ بابے کی حکمرانی تھی، جو خود کو علامہ اقبال کہتا تھا، حالانکہ اس کا حلیہ موہن داس کرم چند گاندھی سے مشابہ تھا۔ وہ ناک میں سگریٹ کا فلٹر گھسا کر ایک زوردار کش لیتا، اور منہ سے دھواں نکالتا، تو یوں لگتا جیسے کوئی مال گاڑی چلی آ رہی ہو۔ لوگوں نے اس کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں پھیلا رکھی تھیں۔ بیشتر افراد اسے ایک پہنچا ہوا بزرگ خیال کرتے، لیکن اسے بھارتی جاسوس سمجھنے والوں کی بھی کمی نہ تھی۔
کچھ لوگوں کا تو یہاں تک ماننا تھا کہ وہ کسی اور سیارے سے آئی ہوئی مخلوق ہے، جسے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو تباہ کرنے کے مشن پر بھیجا گیا ہے۔ خود میرے اپنے ایک دوست، فیاض زخمی نے پورے وثوق سے بتایا کہ وہ ننگ دھڑنگ بابا اصل میں ایک اِچھا دھاری ناگ ہے، جو محلہ چوچک زئی میں مدفون ایک پانچ ہزار سالہ قدیم مورتی کی حفاظت کر رہا ہے!
علامہ اقبال یہ ساری باتیں سنتا اور مسکرا دیتا۔ بہ ظاہر اسے کسی کی پرواہ نہ تھی۔ وہ تو بس ایک بھری ہوئی سگریٹ، دال کی پلیٹ اور دو چپاتیوں کا طلب گار تھا، جو اسے بغیر کسی مشقت کے مل جایا کرتیں کہ بھٹی ٹی سٹال کا مالک، منور دُکھی اس کا پرانا عقیدت گزار تھا۔ شہر کے بیشتر جواری بھی اسے اپنا پیر و مرشد مانتے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس کے منہ سے نکلے ہوئے ہر حرف کے پیچھے ایک لکی ہندسہ چھپا ہوا ہے۔
دن کا کوئی بھی پہر ہو، اس کے اردگرد لوگوں کا جمگھٹا لگا رہتا۔ آکڑہ، ٹنڈولہ اور پنگھوڑا کے نامور کھلاڑی اس کا گھٹنا پکڑ کر بیٹھے رہتے۔ وہ نہ انہیں روکتا، نہ ہی ان کی حوصلہ افزائی کرتا، لیکن اس کے چہرے پر ایک عجیب سی کرختگی اور بیزاری آ جاتی۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ جسے ماں کی گالی دے دے، اس کی سوئی ہوئی قسمت جاگ اٹھتی ہے۔ کئی لوگوں نے اس سے گالیوں کی بھیک مانگی، لیکن وہ صرف انہی لوگوں کو گالی دے پاتا، جو خود کو اس کی جٙون میں لے آتے یا الف ننگے ہو کر اس کے سامنے اوندھے لیٹ جاتے!
انہی دنوں پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینلز کا سیلاب آیا تو شہر کا ہر رپورٹر کیمرہ مین فلاں فلاں کو لے کر اس کے تعاقب میں نکل پڑا۔ وہ ننگ دھڑنگ آدمی، جو کسی بڑے سے بڑے جغادری کی آنکھ سے نہیں شرمایا تھا، کیمرے کی آنکھ سے چھپ کر بھاگا تو ایک ٹرک کے نیچے آ کر کچلا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس کو کچلنے والے ٹرک پر سیالکوٹ کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی۔ جب تک اس کے عقیدت گزاروں کا لشکر اور اس کی زندگی پر پیکج بنانے کے خواہاں رپورٹر جائے وقوعہ پر پہنچے، ٹرک غاِئب ہو چکا تھا، تاہم ایک کریانہ سٹور کا مالک اس کا نمبر نوٹ کرنے میں کامیاب رہا۔
علامہ اقبال کی نمازِ جنازہ میں تو کم ہی لوگ شریک ہوئے، لیکن اُس ٹرک کے ہندسوں پر جوا کھیلنے والوں کی تعداد بہتیری تھی!


