ایمن آباد، الکھ نگری اور ممتاز مفتی


جیسا کہ میں نے اپنے پچھلے مضمون میں آپ کو بتایا تھا کہ احمد بشیر سے میرا تعارف ممتاز مفتی کی کتاب الکھ نگری سے ہوا، الکھ نگری میں بہت سارے صفحات صرف ایمن آباد پر مذکور ہیں۔ جن میں ممتاز مفتی کا ایمن آباد میں قیام اور ایمن آباد سے تعلق واضح کیا گیا ہے۔ ممتاز مفتی کی زوجہ اقبال بیگم کا تعلق بھی ایمن آباد ہی سے تھا۔ تقسیم کے دنوں میں ممتاز مفتی لاہور میں قیام پذیر تھے اور اپنے تئیں کسی ہندو کو مار ڈالنے کا پروگرام بنائے ہوئے تھے۔ جو کہ ظاہر ہے ان کے بس کی بات نہیں تھی اور ان کی نظر اس ہندو کے ایک کالے صندوق پر تھی جس سے ان کو امید تھی کہ بہت سارا خزانہ حاصل ہو گا اور یہ امیر ہو جائیں گے۔ مگر، اسی اثنا میں ممتاز مفتی کے گھر اشفاق حسین تشریف لے گئے جن کا تعلق بھی ایمن آباد سے تھا اور جا کر کہا کہ تمہیں احمد بشیر ایمن آباد بلا رہا ہے۔ مفتی صاحب جزبز ہوئے کہ بھائی میں تو یہاں پر یہ منصوبہ بندی کیے بیٹھا ہوں جس پر اشفاق حسین نے مسکرا کر کہا میرے ساتھ چلو وہاں پر بہت سارے ہندو مل جائیں گے اور بہت ساری دولت کالے صندوقوں میں بھری ہوئی ملے گی، لہذا موصوف اشفاق حسین کے ساتھ ایمن آباد ہو لیے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان سے ہجرت کر کے مہاجرین پاکستان آرہے تھے اور پاکستان سے ہجرت کر کے مہاجرین ہندوستان جا رہے تھے اور کہانیاں مشہور تھیں کہ ہندوستان سے آنے والے مسلمانوں کی ریل گاڑیاں لوٹ لی گئی اور مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا اور یہاں سے بھی کچھ اسی قسم کے سلسلے کی توقع کی جا رہی تھی۔ جب احمد بشیر بمبئی سے گوجرانوالہ بذریعہ ریل آئے تو راستے میں انہوں نے بھی یہی قتل و غارت گری دیکھی تھی۔ تو اب ان لوگوں کا جذبہ انتقام اپنے عروج پر تھا۔ بالآخر ممتاز مفتی اشفاق حسین کے ہمراہ بذریعہ بس ایمن آباد پہنچ گئے، یہاں پر احمد بشیر پہلے سے موجود تھے۔

گوجرانوالہ کے لوگوں نے یہ پیغام بھجوایا تھا کہ بڑے اسٹیشنوں پر فوج اور پولیس کی بھاری نفری موجود ہے وہاں پر کسی بھی ریل گاڑی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا لہذا گوجرانوالہ کے اسٹیشن سے جب گاڑی چلے گی تو ایمن آباد کے ویران اسٹیشن پر اس گاڑی کو روک کر کاٹ ڈالا جائے۔ اور ایسے میں بہت سارے شر پسند موجود تھے جو باقی تمام لوگوں کو اکسا رہے تھے کہ جو گاڑیاں ہندوستان سے آتے ہوئے کاٹ ڈالی گئی ہیں ان کا بدلہ ہم پر لازم ہے، ورنہ ہم مرد نہیں۔ لہذا یہاں پر نوجوانوں کے جتھے تیار ہو گئے کہ ہم گوجرانوالہ سے لاہور ہندو مہاجرین لے کر جانے والی ریل گاڑی کو ایمن آباد کے اسٹیشن پر روک کر کاٹ ڈالیں گے۔ اس ساری منصوبہ بندی کی ایمن آباد کی خواتین نے بھرپور مخالفت کی اور اپنے مردوں سے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر ایسی کوئی بات ہوئی تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے، اگر گاڑی کاٹنی ہے تو گوجرانوالہ یا لاہور کے لوگ خود یہ کام کر لیں ایمن آباد کے لوگ ایسا کیوں کریں اور خون سے اپنے ہاتھ کیوں رنگیں۔

مگر چند لوگوں کی قیادت میں نوجوانوں کا ایک جتھا اس بات پر بضد تھا کہ ہم تو ایسا کر کے رہیں گے اور پھر وہ دن آ ہی گیا جب وہ گاڑی ایمن آباد اسٹیشن پر روک لی گئی اور مسافروں کو جس میں ہندو مہاجرین جا رہے تھے، لوگوں نے حسب توفیق تشدد اور لوٹ مار کی، بقول مفتی صاحب کچھ ہندو خواتین بھی اغوا کر لی گئی جن کی تعداد انہوں نے 26 بتائی۔ خیر اب یہ جو کہانی مفتی صاحب نے بتائی اس کے بارے میں یقین سے کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ اس میں کتنا سچ ہے اور کتنا مبالغہ، ہو سکتا ہے ایسا ہی ہوا ہو۔

مفتی صاحب کے ہاتھ تو کوئی خزانہ نہیں لگا، مگر متمول ہندوؤں نے بلا مبالغہ جاتے ہوئے بہت کچھ چھپایا تھا۔ ان کو امید تھی کہ حالات بہتر ہوتے ہی وہ اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے اس لیے بہت سے قیمتی زیور، سونا، موتی اور حتی کہ کرنسی نوٹ بھی وہ لوگ اپنے تئیں سنبھال کر گئے تھے، مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ کچھ نے زمین میں دبا دیے تو کچھ نے اپنی دولت انارکلی کی طرح دیوار میں چنوا دی۔ پرانے مکانات اور حویلیاں پھر جن کے ہاتھ لگیں، اور بقول نوشی گیلانی کے ’اب تمہارے ہاتھ لگے ہیں، جو کرو سو کرو‘ تو عوام نے بعینہ یہی سلوک کیا۔

پر شکوہ عمارت اور حسین عورت کی قدر سب کہاں کر پاتے ہیں۔ خیر، وہ چھپائے ہوئے خزانے بہت سوں کے ہاتھ بھی لگے، اور کچھ لوگوں نے تو خزانے کی تلاش میں سارا مکان ہی کھود ڈالا، مگر سوائے مٹی کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی سنا ہے کہ پھر کچھ ملا کسی کو، مگر حرام ہے جو ہمارے ہاتھ کبھی کبھی ایک چونی بھی لگی ہو، ہم بھی بچپن میں اپنے دوستوں کے ہمراہ پرانے مکانات اور متروک مندروں میں خزانہ تلاش کرتے رہے

ایمن آباد میں ممتاز مفتی کچھ عرصہ قیام پذیر رہے اور اپنے دوستوں اشفاق حسین اور احمد بشیر کے ہمراہ ایمن آباد کا کافی غور سے مشاہدہ کیا، بقول ان کے ایمن آباد میں دونوں طرح کے لوگ پائے جاتے تھے جو مفتی صاحب کے حق میں تھے اور کچھ لوگ جو ان کے خلاف تھے کیونکہ مفتی صاحب نے وہاں جا کر کچھ لیڈری بھی فرمائی تھی اور ٹرین والے معاملے میں لوگوں کو اکسایا تھا کیوں کہ وہ خود کسی قابل نہ تھے کہ کوئی ایسا کام کرتے مگر ایڈونچر کے چکر میں موصوف نے لوگوں کے بچوں کو خراب ضرور کیا۔

ویسے بھی مفتی صاحب کو ایمن آباد میں صرف شیخ برادری نظر آئی حالانکہ یہاں دوسری ذات کے لوگ بھی کافی پائے جاتے ہیں۔ اس ایڈونچر کے بعد ممتاز مفتی کو لاہور کے والٹن مہاجر کیمپ میں موٹیویشنل سپیکر کی نوکری مل گئی جس سے ان کا دال لیا چلنے لگ گیا، یاد رہے ان دنوں موٹیویشنل سپیکرز کا بہت زیادہ رواج نہیں تھا اور ان کو بہت کم مشاہرہ ملا کرتا تھا آج کل کی طرح نہیں کہ ہر کوئی موٹیویشنل سپیکر بنا پھرتا ہے اور ویسے خوب کما بھی لیتا ہے۔

والٹن میں ہی مفتی صاحب کو حضرت قائد اعظم کا دیدار نصیب ہوا جب وہ مہاجرین کی دلجوئی کے لئے تشریف لائے تھے، انہوں نے ایک روٹی سے اک نوالہ بھی توڑ کر کھایا اور مفتی جی نے وہ روٹی بہت عرصہ تک عقیدت سے سنبھال کر رکھی۔ مگر حسب طبیعت مفتی صاحب کا دل کیمپ کی خواتین میں کافی لگا رہا جہاں وہ کچھ عرصہ لٹے پٹے آئے مہاجرین کی دل جوئی کرتے رہے

Facebook Comments HS