وہ ہوٹل کا کمرہ اور آخری چیخ
گزشتہ دنوں امریکہ کے شہر شکاگو میں جاری ساؤتھ ایشین فلم فیسٹیول میں شرکت کرنے کا موقع ملا، جس میں میرے ایک دیرینہ دوست اور تھیٹر کے دنوں کے ساتھی شعیب سلطان کی فلم ”گنجل“ پاکستان کو ریپریزنٹ کر رہی تھی، دراصل اس فیسٹیول میں شرکت کی دعوت میرے اسی دوست کی طرف سے آئی تھی، جسے میں برسوں بعد مل رہا تھا۔
میرے شہر سے شکاگو کا فاصلہ تقریباً ساڑھے چار سے پانچ گھنٹے کا ہے، ویک اینڈ تھا اس لیے میں نے ایک دن پہلے جانے کا فیصلہ کیا اور آن لائن ہوٹل ڈھونڈنا شروع کیے، شکاگو، امریکہ کے مہنگے ترین شہروں میں سے ایک ہے، لہذا معیاری ہوٹل کا مناسب داموں پر ملنا تقریباً ناممکن ہے، ائرپورٹ کے آس پاس کچھ مناسب ہوٹل نظر آئے لیکن یہاں سے فیسٹیول کے وینیو کا راستہ بہت لمبا تھا، شکاگو جیسے شہروں میں 10 میل کا مطلب ایک گھنٹے کی ڈرائیو ہو سکتا ہے۔
فیسٹیول کا انعقاد شہر کے بیچوں بیچ ڈاؤن ڈاؤن میں کیا گیا تھا اور وہاں شکاگو کے پرانے، مشہور اور مہنگے ترین ہوٹل پائے جاتے ہیں، میں نے ان ہوٹلز پر سرسری نگاہ دوڑائی تو نا جانے کیوں میرا دماغ ایک انتہائی خوبصورت ہوٹل پر جا کر اٹک گیا، یہ شکاگو کا 19 ویں صدی میں بنایا گیا خوبصورت ترین ہوٹل ”پالمر ہاؤس“ ہلٹن تھا، اس کی خوبصورت لابی نے جیسے مجھے جکڑ لیا، اور پھر امریکہ کی کیک اور پیسٹریوں کی نسل میں سے ایک مشہور مٹھائی جسے ”براؤنی“ کہا جاتا ہے وہ بھی اسی ہوٹل میں ایجاد ہوئی تھی، جب اس ہوٹل کے مالک پالمر نے اپنے چیف شیف کو ایک رف آئیڈیا دیتے ہوئے اس قسم کی مٹھائی بنانے کو کہا اور نتیجتاً براؤنی معرض وجود میں آئی۔
اس کا کرایہ میرے بجٹ سے باہر تھا کیونکہ میں اکیلا سفر کر رہا تھا، ہاں اگر فیملی کے ساتھ ہوتا تو شاید میں کمپرومائز نا کرتا، لیکن ہم جیسے درویش تو سستے ہوٹلوں میں بھی رات گزار سکتے ہیں، بھئی سارا دن تو مصروف گزرے گا، رات کی رات سونا ہی تو ہے۔
خیر میں نے سارے آنکڑے ملائے، ضرب تقسیم کی تو اندازہ ہوا کہ اس ہوٹل میں رہنا مجھے تقریباً اتنے میں ہی پڑے گا جتنا میں 10 میل دور ٹھہروں، کیونکہ فیسٹیول یہاں سے واکنگ ڈسٹنس پر تھا، اور پھر اس ہوٹل میں ٹھہرنا کسی ایکسپیرینس سے کم نہیں تھا، میں نے اللہ کا نام لیا اور ہوٹل بک کروا دیا۔
میں چیک ان ٹائم سے تقریباً دو گھنٹے پہلے پہنچ گیا، ریسیپشن پر موجود سیاہ فام پرکشش لڑکی نے مجھے یہ احساس دلانے کی بجائے کہ میں جلدی آ گیا ہوں، اس نے مسکراتے ہوئے کہا میں آپ کو اپ گریڈ کر رہی ہوں، سٹینڈرڈ روم کی بجائے ایگزیکٹو روم شفٹ کر رہی ہوں، شاید جلدی آنے کی وجہ سے اس ہوٹل کی یہ پالیسی نہ ہو کہ مہمان کو انتظار کروایا جائے، میرا اندر کا درویش جاگا، میں نے اسے غور سے عاجزانہ طریقے سے دیکھا، وہ سمجھ گئی اور فوراً بولی، ایکسٹرا پے نہیں کرنا پڑے گا، میری سانس میں سانس آئی، کیونکہ میں ایگزیکٹو روم کا کرایہ دیکھ چکا تھا۔
اس کی انتہائی خوبصورت لابی میں تھوڑی دیر بیٹھ کر اس ہوٹل کی تاریخ اور خوبصورتی کو خوب سراہا، 1871 میں بنایا گیا یہ خوبصورت ہوٹل بے شمار امریکی صدور، بین الاقوامی لیڈرز، فلمی شخصیات اور ارب پتیوں کی میزبانی کر چکا تھا، یہ وہ پہلا ہوٹل تھا جس میں لائٹ بلب، ٹیلی فون اور لفٹ کا استعمال کیا گیا تھا۔
اٹھارہویں منزل پر اچھی خاصی تگ و دو کے بعد میں اپنے کمرے میں پہنچا، اس کے برآمدے جیسے شیطان کی آنت، ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے، کمرہ انتہائی خوبصورت اور ونٹیج لک دے رہا تھا، یہ ایگزیکٹو سویٹ روم تھا جس کے ساتھ ایک اور کمرہ منسلک تھا جو درمیان سے بند کر دیا گیا تھا، اس کی اینٹری دوسری طرف سے بھی تھی، ان دو کمروں کے درمیان ایک دروازہ تھا۔
میں جلدی سے فریش ہوا اور فیسٹیول پر پہنچ گیا، سارا دن وہاں گزار کر تقریباً رات 11 بجے واپس پہنچا، سفر اور تھکان کے بعد بیڈ پر لیٹتے ہی اونگھنے لگا، ابھی میں مکمل طور پر سو نہیں پایا تھا کہ مجھے چیخوں کی آواز محسوس ہوئی، جیسے کوئی کراہ رہا ہو، یہ نسوانی آواز تھی، میں نے توجہ نہ دی لیکن پھر یہ چیخیں بڑھتی ہی چلی گئیں، مجھے ہلکا سا ڈر محسوس ہوا کہ یہ اتنا تاریخی ہوٹل ہے، نا جانے اس نے کیا کیا دیکھا ہے اور کون کون سی روحیں یہاں آباد ہیں۔
مجھے احساس ہوا کہ یہ چیخیں تکلیف والی نہیں ہیں بلکہ تمانیت، جذباتیت، بقول حضرت مستانہ صاحب مزو، مزے مزگان ( یہاں ”زال“ پر تین دندوں والی شد ہے، ویسے حد ہے ) خوش اخلاقیت کے ساتھ کہیں کہیں درخواست کا پہلو لیے کہ مولا، نا کریں ہتھ ہولا، کسی اور ہی دنیا کی عکاسی کر رہی تھیں، میں سمجھا کہ شاید کوئی خواب دیکھ رہا ہوں، لیکن اس عمر میں ایسے خواب تمہیں زیب نہیں دیتے راہول، شاید فیسٹیول پر انتہائی خوبصورت، خوش بدن، خوش لباس اور مہکتے ہوئے چہروں کا نتیجہ تھا کہ مجھے خواب میں ایسی آوازیں آ رہی تھیں، کچھ تسلی بھی ہوئی اور پاکستان میں دیواروں پر لگے اشتہار یاد آئے کہ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا، یہ تو منہ زور گھوڑا ہے جب چاہے کاٹھی ڈال لو۔
جب آوازیں مزید بڑھیں تو مجھے اٹھنا ہی پڑا، میں نے کمرے کا جائزہ لیا اور ان آوازوں کو فالو کرتا ہوا اس دروازے تک پہنچ گیا جو ساتھ والے کمرے کی طرف لگا تھا، مجھے احساس ہوا کہ یہ خواب نہیں حقیقت ہے اور میں امریکہ کے شہر شکاگو کے ایک بڑے ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہوں، مجھے اچانک کچھ ناہنجار دوست یاد آئے، میں نے سوچا کہ اگر میں ان آوازوں کو ریکارڈ کرنے میں کامیاب ہو جاؤں اور انہیں بھیجوں تو وہ خوشی سے نہال ہو جائیں گے، مجھے داد دیں گے، گھنٹوں ان آوازوں کے اتار چڑھاؤ پر مباحثہ کریں گے، مجھ پہ رشک کریں گے اور بولیں گے کہ اے بنی نوع انسان تو کتنا عظیم ہے، ہم نے تو آج تک یہ آوازیں ڈبوں اور فیتوں کے ذریعے ہی سنیں اور تو حقیقت میں سن گیا؟ تو ایک چنا ہوا آدمی ہے، تیری عظمت کو سلام ہے اور آج سے ہم تیرے غلام ہیں، ہم تیرے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں، اے پیر بادشاہ تیری خیر، ہری اوم نام شوام دم دما دم شدم بدم۔
اندر کا 19 سالہ نوجوان جاگ اٹھا تھا بلکہ سر چڑھ چکا تھا، میں نے بھاگ کر اپنا فون اٹھانا چاہا جو میرے کنگ بیڈ پر پھیلے تکیوں میں کہیں گم ہو چکا تھا، ادھر سے آوازیں مزید بڑھتی چلی جا رہی تھیں، میں نے دونوں ہاتھوں سے تکیے ادھر ادھر پھینکے اور فون نکالا، جلدی سے ایپ ڈھونڈنے لگا، نا جانے کیوں مجھے ایپ نظر نہیں آ رہی تھی، میں بھاگ کر دروازے کے پاس پہنچا، اس سے پہلے کہ میں آن کرتا، مجھے آخری چیخ سنائی دی جس کے ساتھ ایک مردانہ آواز بھی شامل ہو چکی تھی، ہر طرف ہو کا عالم تھا، سناٹا چھا چکا تھا، بیڑی پتن کا کنارہ چھوڑ چکی تھی، ٹرین کے چلے جانے کے بعد ایک ویران اسٹیشن کا سا سما تھا، افسوس صد افسوس کہ میں ایک عظیم شخصیت بننے سے چند لمحے پہلے ڈھیر ہو گیا، شاید مجھے ”سرعت“ سے کام لینا چاہیے تھا تاکہ میری عظمت کا اپنے دوستوں پر نزول ہو سکتا۔
اگلی صبح ناشتے کے بعد میں لابی سے اپنے فلور کے لیے لفٹ پر سوار ہوا تو میری لفٹ میں دو عدد جوڑے بھی سوار تھے، ایک سیاہ فام اور ایک سفید فام، وہ میرے ہی فلور پر اترے اور کاریڈورز کی بھول بھلئیوں میں میرے ہمراہی بن گئے، جیسے ہی میں اپنے کوریڈور میں داخل ہوا تو وہ میرے پیچھے پیچھے آرہے تھے، میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، میرے اندر کا برٹش ہندوستانی غلام جاگ کر پکارنے لگا، یار ساتھ والے کمرے میں ”چٹے“ ہی ہوں، ٹھیک ہے سب انسان برابر ہیں، لیکن دل تو بچہ ہے، دل پر کسی کا کوئی اختیار نہیں، لفٹ میں یہ اٹالین بول رہے تھے، تو کیا ہوا؟ میسولینی تو کب کا مر چکا، مسئلہ تو چمڑی کے رنگ پر آ کر اٹک گیا تھا، یہاں کون سا جنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی نظریاتی اختلاف، یہ تو پسند کا معاملہ ہے، اور اس سے کون سا کسی کا انقلاب رک جانا ہے، میں کون سا کمیونسٹوں کو پھانسیوں کی سزائیں سنا رہا ہوں۔
میں اپنے کمرے کے سامنے رک گیا، کی کارڈ میرے ہاتھ میں تھا، میں اندر داخل ہونے سے پہلے دیکھنا چاہ رہا تھا کہ کون کس کمرے میں جا رہا ہے لیکن وہ تھے کہ جیسے سلو موشن میں چل رہے ہیں، میں نے جان بوجھ کر اپنی جیبیں ٹٹولنا شروع کر دیں کہ جیسے کارڈ ڈھونڈ رہا ہوں، خدا خدا کر کے دونوں خوشبووں کے بھببھکے پھیلاتے میرے پاس سے گزرے، میں نے کی کارڈ سے دروازہ کھولا، کمرے میں گھستے ہی یس کی ایک چیخ ماری، جیسے کوئی باولر وکٹ لینے کے بعد دونوں بازوں سے کرتا ہے اور چیزیں سمیٹنا شروع کر دیں کیونکہ پیسے پورے ہو چکے تھے، یعنی چیک آؤٹ کا ٹائم ہو گیا تھا اور میری بکنگ 11 بجے تک کی ہی تھی۔




