کھاتے پیتے انسان


جلیبی تلنے کی خوشبو نے میرا رخِ فاقہ حلوائی کی جانب موڑ دیا۔ جیب سے ایک مڑا تڑا بیس روپیہ کا نوٹ نکل پایا اور منہ سے باریک سی آواز نے دیگر گاہکوں کو متوجہ کر لیا ”بیس روپے کی جلیبی دینا۔“

حلوائی نے کڑچھا زور سے کڑاہی کی دیوار پر مارا ”ابے چل کام کرنے دے۔“
جلیبی اپنی ناقدری پر شرما کر کچھ اور پیچیدہ ہو گئی۔

ناکام و نامراد آگے بڑھا اور سموسوں کی دکان پر ہجوم دیکھ کر قدم اس طرف بڑھ گئے۔ دل نے دماغ سے پوچھا ”کیا اس بار سبکی نہیں ہوگی؟“

دماغ مسکرایا ”یہ کوئی نئی بات نہیں۔ دنیا ایک تجربہ گاہ ہے۔ اسے آزماتا جا اور زیادہ پروا سے ماورا ہو جا۔“

بیس روپیہ کا نوٹ سموسے کے تھال کے اوپر لہرایا ”بیس روپے کا سموسہ درکار ہے۔“
” ہاتھ پرے ہٹا۔ کسی شے کو نہ لگ جاوے۔“ تیز کرخت صدا نے مزید بے توقیری کر دی۔

ناکامی کی دُہری خوراک کے باوجود قدم دل کا ساتھ دے رہے تھے۔ دماغ پہلے ہی طنزیہ گفت گو میں مصروف تھا۔ دہی بھلے، فروٹ چاٹ، حلوا پوری، تکہ کباب کہاں کہاں نہیں اس بیس روپیہ کو اجنبیت کا احساس دلایا گیا۔ دل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا اور دماغ اسے اپنی نہیں بلکہ روپے کی کم قیمتی گردانتے ہوئے مطمئن رہا۔ دل و دماغ کے باہمی فیصلے کے مطابق یہ پسپائی فردِ واحد کی نہیں بلکہ حکومتِ وقت کی تھی جس کے جاری کردہ حکم نامے کی بازار میں کچھ اوقات نہیں تھی۔

اس فلسفے کے گمبھیر جال میں چھید تب وقوع پذیر ہوا جب ایک پیشہ ور بھکاری نے گھیر لیا ”خدا کے نام پر کچھ دے بابا۔“

مڑا تڑا نوٹ تاحال گرفت میں تھا۔ اس کی جانب الوداعی نظروں سے دیکھا۔ چوں کہ اس کے ہونے یا نہ ہونے فرق تو کچھ پڑتا نہیں تھا سو جانے دیا۔ بھکاری دس دعائیں دے کر ممنونِ احسان ہوا گرچہ دو روپیہ فی دعا کوئی مہنگا کام نہیں تھا۔

اگلے ہی روز بازار سے گزرتے وقت حلوائی کے پاس چند لمحے توقف کیا کہ خوش بو نے قدم روک لیے۔ اک صدا نے دماغ روشن کر دیا ”بیس روپے کی جلیبی دینا۔“

نگاہوں نے آواز کا تعاقب کیا کہ یہ کون ہے میرا ہم منصب۔ یہ تو وہی فقیر تھا۔ شاید بیس روپیہ کا نوٹ بھی وہی تھا جو میں نے دان کیا تھا۔

میری تمسخرانہ نظریں نوٹ اور بھکاری پر تھیں اور کان اس کرخت آواز کے منتظر تھے ”ہٹ جا پرے کام کرنے دے۔“

معاملہ برعکس تھا اور عقل ششدر۔ بیس روپیہ کا نوٹ توقیر پا چکا تھا۔ بھکاری سے حقیر رقم وصول کر کے کاغذ پر معقول جلیبی رکھ کر دی جا رہی تھی۔

” یہ کیا اصول ہے۔ بیس روپیہ کی جلیبی سے انکار بنتا ہے۔ انکار“ ایک شدید چیخ نکلی جو استفسار میں بدل گئی ”بھائی صاحب! گزشتہ روز آپ نے مجھے اسی رقم سے جلیبی دینے سے انکار کیا تھا۔“

حلوائی نے کڑچھا میرے منہ کی طرف کیا ”یہ تو بھکاری ہے۔ تم تو اچھے خاصے کھاتے پیتے انسان ہو۔“

Facebook Comments HS