فہیم جوزی: میں کوئی اور
مجھے لگتا ہے کہ اقبال فہیم جوزی رسومیات ِغزل سے اوب، اکتا کر یا عاجز ہو کر نئی نظم اور نثم کی طرف آئے تھے۔ جس زمانے میں انہوں نے یہ راستہ چنا، غزل سے کنی کاٹ کر نئی نظم کی طرف آ نکلنا یوں بھی فیشن میں تھا اور مجھے کہنے دیجئے کہ جن لوگوں نے اس فیشن کی بنا رکھی تھی ان میں ایک نام فہیم جوزی کا بھی تھا۔ اور وہ لگ بھگ ڈانٹ ڈپٹ کرتے یہ کہہ رہے تھے :
”لفظوں کو خضاب لگا کر ، اونگھتے طالب علموں کے کانوں میں کب تک ٹھونستے رہو گے۔“
مجھے یاد ہے میں نے کوئی سن چوہتر پچھتر میں ان کا نام سنا تھا۔ میں ان دنوں لائل پور میں تھا اور لائل پور ابھی فیصل آباد نہیں ہوا تھا کہ یہ نام لاہور میں گونج رہا تھا اور اس کی دھمک اس دوسرے شہر میں ہم تک بھی پہنچ رہی تھی۔ ایک الگ نوع کا ہنگامہ اٹھانے والے فہیم جوزی کے ساتھ کچھ اور نام بھی سنائی دیتے تھے، جیسے شائستہ حبیب، نسرین انجم بھٹی اور سعادت سعید وغیرہ، مگر سب ایک دوسرے سے الگ ؛ لسانی تشکیلات کے شور شرابے میں کچھ نام پہلے سے ہماری سماعتوں کا حصہ ہو چکے تھے، جیسے افتخار جالب، انیس ناگی، جیلانی کامران، تبسم کاشمیری وغیرہ مگر اقبال فہیم جوزی کا نام لسانی تشکیلات کے ہنگامے کے معدوم ہونے کے بعد بھی مجھے نہیں بھولا تھا؛ بھولتا بھی تو کیسے کہ اس نام میں موجود ”جوزی“ نے میرے وجود کا ایک خاص حسیاتی علاقہ ہتھیا رکھا تھا۔
شاید اس وجہ سے کہ اسی ادبی طور پر ہنگامہ پرور زمانے میں، میں بغداد والے ابن جوزی کی عُیُوْنُ الْحِکَایَات سے واقف ہوا تھا جو چھٹی ہجری کے اوائل میں بغداد میں ہو گزرے تھے۔ تب ہی سے میرے اندر اس قدیم جوزی اور جدید جوزی کے زمانی علاقے کی سعی شروع ہو گئی تھی، جو اب تک چلی آتی ہے۔ اسلام آباد آنے پر اس جدید جوزی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا تو اندازہ ہوا کہ یہ والے جوزی صاحب اس سے بڑھ کر ہیں جیسا سن رکھا تھا؛ اپنی بودوباش میں صوفی نما، اپنی فکر و نظر میں روشن خیال اور تخلیقی وتیرے میں ندرت اور نئے جمالیاتی آہنگ کے متلاشی۔ بات ٹھہر ٹھہر کر اور کچھ یوں لفظ سنبھال سنبھال کر کرتے ہیں جیسے ہر لفظ جملے میں جڑنے سے پہلے سوچ کی بھٹی میں تپ تپا کر صیقل ہونے کے بعد ابھی ابھی ان کے لبوں کو عطا ہوا ہو۔
خیر، بات ہو رہی تھی اول اول جوزی صاحب کا نام سننے کی؛ اگر میں بھول نہیں رہا تو انہی دنوں ان کی ایک نظم ”اندھیرا“ سنائی دِی تھی، جی چاہتا ہے اس کی ابتدائی لائنیں دہرا دوں کہ زمانہ بدلا نہیں ہے۔ :
”اندھیرے کے بعد اک اور اندھیرا/ اندھیرا اتنا کہ آنکھیں لعنت کی کھونٹی پر ٹنگی ہیں۔“
زمانہ بدلا نہیں ہے یا پھر اقبال فہیم جوزی کو بھی اس کے وجدان نے مخبری کر دی تھی کہ زمانہ بدلنے والا نہیں اور ہماری آنکھیں آنے والے برسوں میں بھی اسی لعنت کی کھونٹی پر ٹنگی رہیں گی۔
اسی گزرے زمانے یعنی چوہتر پچھتر میں، مجھے پڑھنے کو ”دستاویز“ رسالہ بھی مل جایا کرتا تھا۔ اسی پرچے میں فہیم جوزی کی ایک تخلیق شائع ہوئی تھی، اس کی ایک لائن ہم دوست اکثر دہرایا کرتے تھے۔ یہاں بھی دہرائے دیتا ہوں :
”کہو پیارے کہ یہ بازار ہے۔“
تب مارکیٹ اکانومی کا اتنا چرچا ہوا تھا نہ بازار ہمارے گھروں کے اندر پہنچا تھا مگر جوزی نے جیسے آنے والے وقت میں جھانک لیا تھا۔
” جس کو تم دنیا سمجھتے ہو
سبھی شہروں میں یہ بازار ہے ”
تو یوں ہے کہ جوزی صاحب کے ہاں جس درجے کا عصری شعور کام کر رہا ہے، وہ زبان کا آہنگ اور تخلیق کی جمالیات بھی نئی بنا رہا ہے۔ کہیں کہیں تو ماننا پڑتا ہے کہ وہ لفظوں کے ادبی متوارث مضامین سے کنی کاٹ کر نکلنا چاہتے ہیں۔ ان کے کلیات ’میں کوئی اور‘ کے فن پاروں کو دیکھ لیجیے اور لفظوں کو اپنے وجود کی بھٹی سے تپ ڈھل کر عطا ہوتے معنیاتی نظام کے سلسلے اور اس سے تشکیل پاتے اس جمالیاتی دھارے کو بھی، جو نامانوس سا مانوس ہے، آنک لیجیے۔
میں نے اپنے اس جملے میں صنعت تضاد کا اہتمام یوں کر لیا ہے کہ انہی ایک دوسرے کو قطع کرتی مانوس لفظیات سے حسی سطح پر وہ نفی کے اثبات، اقرار کے انکار، بے یقینی کے یقین اور ہجر کے وصال سے ایسی تصویر بنا لیتے ہیں جو اور طرح کی ہو جاتی ہے؛ ایسی جسے ہم نے دیکھا ہوتا ہے، اپنے خوابوں میں، اپنے اپنے کفنوں کے اندر؛ مگر نہیں جانتے کہ کہیں دیکھا بھی ہے یا نہیں۔ :
”یوں تو سب کے اپنے اپنے خواب ہیں
جیسے اپنا اپنا کفن
اور کون کس کے کفن کی اترن پہن سکتا ہے
لیکن وہ جو اک دوجے کی قبر میں سو جانے کی
خواہش میں دفن ہوئے
اپنے اپنے اکیلے پن کی اڑتی مٹی میں
کیا ان کے بھی اپنے اپنے خواب تھے ”
(ہجر کا وصال)
سب کے اپنے اپنے خواب تھے، سب کے اپنے اپنے خواب ہیں ؛ سب کے اپنے اپنے خواب رہیں گے مگر فہیم جوزی کا کہنا ہے کہ یہ خواب ہوں یا نظریات، بازاری ثقافت کے بہاؤ میں ردی کے بھاؤ بکنا ہی ان کا مقدر ہے۔ :
”بازار میں ردی اور نظریات ایک بھاؤ بکتے ہیں!
سٹاک ایکسچینج صرف متعلقہ لوگوں کے لیے ہے،
اس کا علم سیکھنے کے لیے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں
بھیجے میں خناس کے ٹیکے لگوانا ہی کافی ہے۔ ”
یہ مقتبس ”میں کوئی اور“ کی پہلی نظم ”نفرت کا رزمیہ“ سے ہے، یہیں سے آپ دساتیر پہ آویزاں کھوپڑیوں، جمہوریتوں کے الاؤ اور ان میں جلتے بھنتے بال و پر، بانسری بجاتے نیرو اور بدلتی حکومتوں کا رزمیہ سب دیکھنا سننا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کتاب میں محض دل جکڑ لینے والے یہی مناظر نہیں ہیں ؛صاحباں بھی ہے جسے بہار کی خبر دی جانی ہے۔ جاناں بھی ہے جو قافلے سے بچھڑ گئی اور وہ ڈھولا بھی جس کی کہانی بستی بستی گھومتی رہی ہے۔
اس کتاب کی آخری نظم ”آزادی کے رزمیہ“ تک چلے آئیں ؛ ہر منظر نیا، ہر زاویہ الگ اور ہر نظم ایک نئی جمالیات کو تخلیق کرتی ہوئی۔ ایسا انہوں نے اپنی نظموں میں ارادی ابہام رکھ کر نہیں کیا، نہ فارسی، عربی اور ہندی لفظیات کا تڑکا لگایا، متروک لفظوں کو جھاڑ پونچھ کر چونکانے کو نیا کیا، نہ قدیم زمانوں میں مردہ پڑے کرداروں کو گھسیٹ کر اپنی نظم میں جگہ دی۔ زبان سادہ ہے اور آج کی ہے مگر معنی اور احساس سے کناروں تک بھری ہوئی بلکہ چھلکتی ہوئی۔
یہیں سے وہ ”کوئی اور“ ہو جاتے ہیں۔ انہیں پڑھتے ہوئے آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ جوزی صاحب کا میں ؛ واقعی کوئی اور ہے، ایک الگ وجود، جو ان کے ظاہری وجود سے تخلیقی لمحوں میں طلوع ہوتا رہا ہے۔ ان کے مجموعے میں کلام کا اتنا تنوع ہے کہ ہر ورق الٹتے ہوئے میں اس بچے جیسا ہو تا رہا ہوں جو اکڑوں بیٹھا بائسکوپ کے شیشے پر نظریں ٹکائے ہر بدلتے منظر پر حیرت میں ڈوب جاتا تھا۔ یہ حیرت تہہ در تہہ کھلتی ہے اور کچھ اور جذبوں سے مل کر محض حیرت بھی نہیں رہتی؛کچھ کچھ ”ناحیرت“ ہو جاتی ہے کہ منظر نئے ہو کر بھی دیکھے بھالے لگتے ہیں۔ مجھے کہنے دیجئے کہ اپنی الگ جمالیاتی لپک کے ساتھ اسی تضاد کے اندر ان کا تخلیقی علاقہ پڑتا ہے۔
(اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام اقبال فہیم جوزی کے ساتھ 25 ستمبر 2024 ء کو تقریب ملاقات میں پڑھی گئی سطور)



