ہفتہ رفتہ
جب میں بڑا ہو رہا تھا تو اس وقت میں ہمیشہ اس دن کے بارے میں خواب دیکھتا تھا جب میں اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزاروں گا اور سپر پاور (میری والدہ) کی طرف سے کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔ گھر سے زیادہ دیر تک غائب رہنے کے بعد ہمیشہ مجھے غیر علانیہ ”جسمانی ریمانڈ“ کے مرحلے سے گزرنا پڑتا تھا اور اکثر اماں کے ہاتھوں تسلی بخش طور پر پٹنے کے بعد میری یہ ظاہر کر کے جان بخشی ہوتی تھی کہ جیسے میری متعدد ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں۔
اور بدقسمتی سے، یہ ہر دوسرے دن کا معمول تھا نہ ہماری آوارہ گردی کم ہوتی تھی اور نہ ہی امی جان کے ہمارا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنے کے جذبے میں کوئی کمی آتی تھی۔ اس وقت یہ سب بہت ناگوار لگتا تھا لیکن مجھے اس بات کی قطعی خبر نہ تھی کہ ایک دن میں ان لمحات کو ترسوں گا۔ جب عملی زندگی کی مشکلات سے مقابلہ ہو گا تو اس وقت جھوٹ موٹ کا کوئی بہانہ جان بچانے میں معاون ثابت نہیں ہو گا۔
جب سے عملی زندگی میں قدم رکھا ہے مصروفیت کا ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور ہر آنے والا دن اپنے ساتھ ایک نیا امتحان اور آزمائش لیے ہوتا ہے۔ ایک مصروفیت ختم ہوتی ہے تو چار نئی منتظر ہوتی ہیں۔ بچپن کی فراغت اور لاپرواہی اب قصے کہانیوں کی بات لگتی ہے۔ میں آپ کے ساتھ اپنے گزشتہ ہفتے کا احوال بانٹنے لگا ہوں۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے کسی جگہ پر آپ کو یہ آپ کی اپنی کہانی لگنے لگے تو مجھے بالکل حیرت نہیں ہو گی کیوں کہ ہر فرد کے حالات معمولی فرق کے ساتھ تقریباً ایک جیسے ہی ہیں۔
پیر:
اگر کوئی مجھ سے دنیا کے مشکل ترین کاموں کی فہرست مرتب کرنے کو کہے تو میں اس فہرست میں سب سے پہلا نمبر پیر کی صبح دفتر کے لئے تیار ہونے کو دوں گا۔ دو بار الارم بند کرنے کے بعد بادل نخواستہ بستر سے اٹھنا ہی پڑا۔ نیم خوابیدہ حالت اور مشینی انداز میں دفتر کے لیے تیار ہونے کے بعد بوجھل قدموں سے دفتر پہنچ گیا۔ دفتر پہنچنے کے بعد جب کام شروع کیا تو پھر ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دو پہر کو کھانے کے وقفے میں جب گزرے ہوئے چھٹی والے دن کو یاد کرنے کی کوشش کی تو یوں محسوس ہوا جیسے میں گزرے کل نہیں بلکہ ایک نوری سال پہلے کے واقعات کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔
منگل:
صبح دفتر پہنچنے کے بعد اپنا لیپ ٹاپ کھول کر جب اپنا ای میل باکس چیک کیا تو اس میں جو پہلی ای میل نظر آئی وہ یہ خوش خبری سنا رہی تھی کہ میں نے جو چھٹیوں کی درخواست کی تھی وہ ایک unplanned urgent task کی وجہ سے منظور نہیں ہو سکی اور اب مجھے اپنا چھٹیوں کا پروگرام موخر کرنا ہو گا۔ ای میل پڑھنے کے بعد میرے ارمانوں پر اوس پڑ چکی تھی۔ تھوڑی دیر بعد خود کو نارمل کرنے کے بعد کام کی طرف متوجہ ہوا۔ دوپہر کے بعد ایک میٹنگ میں شرکت کی جو کہ خلاف توقع بہت اچھا تجربہ ثابت ہوا۔ اس میں بہت سی نئی چیزوں کے بارے میں سیکھنے کا موقع ملا، شرکا نے اپنے تجربات اور کام کرنے کے طریقہ کار کے متعلق بتایا جس سے بہت سی نئی باتوں کے بارے میں آگاہی ہوئی۔ دن کے اختتام تک میں صبح ہونے والے سانحے کے اثرات سے باہر آ چکا تھا۔
بدھ:
کچھ مصروف اور بوریت سے بھرپور دنوں کے بعد ، ہم (ساتھیوں ) نے دفتر کے بعد رات کے کھانے کے لیے باہر جانے کا فیصلہ کیا، تاکہ ہم تھوڑا تازہ دم ہونے کے بعد ہفتے کے باقی دنوں کے لئے اپنی توانائیاں بحال کرسکیں۔ لیکن جیسے ہی ہم مین روڈ پر آئے، تو پتہ چلا کہ بجلی کے ہوشربا بلوں کی ستائی ہوئی عوام آگے احتجاج کر رہی ہے۔ ارد گرد راستے بند ہونے کی وجہ سے ہم ٹریفک جام میں پھنس گئے اور اگلے تین گھنٹے تک وہیں پھنسے رہے۔
اس دوران سب نے حسب توفیق ایک دوسرے کی مناسب عزت افزائی کر کے اپنے اپنے دل کی بھڑاس نکالی جس میں سے سب سے زیادہ حصہ میں نے وصول کیا کیوں کہ یہ آئیڈیا میرا تھا۔ بات یہیں پر ختم نہیں بلکہ اصل تماشا گھر میں منتظر تھا کیوں کہ جانے سے پہلے گھر کھانا بنانے سے منع کر دیا تھا کہ آج موڈ نہیں ہے اور کھانا باہر سے کھاوٗں گا سو واپسی پر خالی برتن منہ چڑا رہے تھے اور اپنی حالت پر گھر والوں کی طنزیہ ہنسی کی وجہ سے میں سنجیدگی سے سوچ رہا تھا کہ اس وقت کرہ ارض پر ہم سے زیادہ احمق کوئی ہے یا یہ اعزاز ہم بلامقابلہ حاصل کر چکے ہیں۔
جمعرات:
میں ایک تجزیاتی رپورٹ پر کام کر رہا تھا اور آج رپورٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی۔ صبح 11 : 00 بجے کے قریب وہ رپورٹ مکمل ہو گئی اور میں فخریہ انداز سے چلتا ہوا اپنے منیجر کے کمرے میں گیا تاکہ انہیں یہ خوش خبری سنا کر داد سمیٹ سکوں۔ جب میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے بے نیازی سے صرف سر ہلانے کے بعد مجھے ایک گھنٹے بعد رپورٹ کے ساتھ آنے کو کہا۔ جیسے ہی میں اپنی نشست پر واپس پہنچا، میرا اسسٹنٹ تیر کی طرح سیدھا میرے پاس آیا۔
اس کے چہرے پر اڑتی ہوائیوں اور پیلے پڑتے رنگ کو دیکھتے ہی میرے اندر خطرے کا الارم بجنے لگا۔ میں نے مصنوعی پرسکون لہجے میں اس سے پوچھا کہ وہ اتنا پریشان کیوں ہے (حالانکہ میری چھٹی حس پہلے ہی کسی گڑبڑ کا اشارہ کر رہی تھی) ۔ اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں جواب دیا کہ جس رپورٹ پر میں ایک ہفتے سے کام کر رہا تھا وہ اس سے غلطی سے ڈیلیٹ ہو گئی ہے۔ یہ سننے کے بعد مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا اور میرے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکل سکا۔ کچھ دیر بعد جب حواس بحال ہوئے تو میں نے دوبارہ جا کر مینیجر کو ساری بات بتائی جس کو سننے کے بعد وہ خوب گرجا اور برسا۔ میں اس عزت افزائی کے بعد مردہ قدموں سے واپس آ گیا۔
جمعہ:
آخر کار یہ اس ہفتے کا آخری دن تھا۔ میں ذہنی طور پر بہت بری طرح تھکا ہوا تھا جس کی وجہ سے مجھے روزمرہ کے کام مکمل کرنے میں بھی بہت دشواری پیش آ رہی تھی۔ دن کا بیشتر وقت کام کی بجائے گھڑی کی سوئیوں کا تعاقب کرتے ہوئے گزرا ہر بار گھڑی پر نظر ڈالنے کے بعد مجھے یوں لگا جیسے آج وقت سست روی کا شکار ہے۔ جیسے تیسے کر کے بالآخر پانچ بجے اور میں نے جیل سے فرار ہونے والے کسی قیدی کی طرح سکھ کا سانس لیا اور اپنی سیٹ سے اٹھ کر دوڑ لگا دی۔
ہفتہ:
یہ میرے ہفتے کا سب سے زیادہ آرام دہ دن تھا کیونکہ ہفتے کو میں اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہوں۔ صبح دیر سے ناشتہ کرنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو آج کے دن کے لیے دو تجاویز پیش کیں، دوبارہ سو جاوٗں یا گھر کا سودا سلف خریدنے کے لیے بازار جاوٗں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ میں دوسرے آپشن کے بارے میں جاننے سے پہلے ہی دوبارہ سونے کے لیے لیٹ چکا تھا۔ ہفتے کے دن کا بیشتر وقت سوتے ہوئے گزرا۔
اتوار:
اتوار کے دن کی ایک الگ اہمیت اور خصوصیت ہوتی ہے۔ کیوں کہ یہی ایک دن ہوتا ہے جب دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرنے اور وقت گزارنے کا موقع ملتا ہے۔ آج بھی ناشتے کے بعد دوستوں کے ساتھ کچھ دیر کرکٹ کھیلی۔ پھر گھر واپس آ کر گھر کے کچھ ضروری کام نمٹائے۔ کچھ دیر تک ایک کتاب کا مطالعہ کیا جسے شروع کیے ہوئے کافی وقت ہو چکا ہے لیکن مصروفیت کے سبب ابھی تک مکمل نہیں کر سکا۔ شام میں تھوڑی دیر کچھ معلوماتی اور مزاحیہ وڈیوز دیکھیں۔ اس سے ذہنی تناوٗ کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور مجھے خود کو آنے والے ہفتے کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے مثبت توانائی ملتی ہے۔
اتوار کی رات:
رات کو جب میں سونے کی تیاری کر رہا تھا، تو میرے ذہن میں ایک دم سے ایک خیال آیا اور میں دوبارہ سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ میں یہ سوچ کر پریشان ہو گیا تھا کہ، ”اگر کل شروع ہونے والا ہفتہ گزشتہ ہفتے کا سیزن 2 ثابت ہوا تو پھر کیا بنے گا؟“


