ڈاکٹر ذاکر نائیک کی آ مد اور آصف اشرف جلالی کی دعوت مناظرہ
ڈاکٹر ذاکر نائیک ایک انٹرنیشنل فیم شخصیت ہیں اور پاکستان میں آ نے کا ارادہ رکھتے ہیں، شنید ہے کہ ”نسٹ“ میں بھی طلباء سے خطاب فرمائیں گے۔
اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں علماء کرام و مفتیان اور مشائخ عظام کی پہلے ہی خاصی ریل پیل ہے جو دن رات ملک و قوم کی اصلاح میں مصروف رہتے ہیں۔ کوئی وقت تھا جب یہاں ڈاکٹر اسرار احمد کا طوطی بولتا تھا، ہزاروں اور لاکھوں کے مجمع سے خطاب کیا کرتے تھے۔ بالکل اسی طرح سے جب کہیں مولانا طارق جمیل خطاب فرماتے ہیں تو سامنے لاکھوں کا مجمع موجود ہوتا ہے۔
کسی زمانے میں مولانا اسحاق اور علامہ پرویز بھی خاصے مقبول تھے، بلکہ میں تو سوچتا ہوں کہ آج کے خطرناک دور سے پہلے ہی یہ ہستیاں دار فانی سے کوچ کر گئیں اور اگر آج وہ زندہ ہوتے تو شاید وہ بھی بلاسفیمی یا گستاخی ایسے الزامات کا سامنا کر رہے ہوتے اور اپنے ”ہم مذہب“ عوام و علماء کے سامنے معافیاں مانگ رہے ہوتے۔ جنہوں نے ان شخصیات کو سن رکھا ہے انہیں بڑی اچھے طرح معلوم ہے کہ ان کی تقاریر میں وہ سب موجود ہے جو بڑی آ سانی سے نفاق و انتشار کا سبب بن سکتا ہے۔
مولانا اسحاق تو خاصے نڈر انسان تھے، اختلافی موضوعات اور ضعیف و متروک احادیث کے متعلق کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا کرتے تھے، وحشت زدہ ماحول سے پہلے چل بسے۔
اب ڈاکٹر ذاکر نائیک تشریف لا رہے ہیں، ان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ تقابل ادیان پر خاصی گرفت رکھتے ہیں اور دوسرے مذاہب کی کتابوں کے حوالے ان کی فنگر ٹپ پر ہوتے ہیں۔
ایک وقت تھا ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح ان کے فوراً سے حوالہ دینے کے اسٹائل سے خاصے متاثر تھے، لیکن جب ان کی شخصیت کو مزید کریدا تو اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ بھی روایتی مولوی ہی ہیں بس انگریزی میں بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ مذہب کو سائنس کے ساتھ ملا کر پیش کرتے دیکھا تو مزید یقین ہو گیا کہ دراصل لباس جدیدیت میں چھپا ہوا ایک روایتی مولوی ہے جو اپنے موقف کو جدیدیت کا میک اپ کر کے پیش کرنے کی سعی کرتا ہے۔
مہمان شخصیت سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ ذرا دھیان سے گفتگو کیجیے گا، جس سماج سے آپ مخاطب ہوں گے ان کا ظرف بہت کم ہے۔ یہ اس طرح کا معاشرہ بن چکا ہے کہ جہاں ”سلپ آف ٹنگ“ کی گنجائش بھی موجود نہیں ہے اور ہجوم اشارے کا منتظر رہتا ہے۔
شنید ہے کہ بریلوی مکتب فکر کے محمد اشرف آصف جلالی نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کو مناظرے کا چیلنج بھی دے ڈالا ہے، ابھی مہمان شخصیت کی آ مد بھی نہیں ہوئی ہے کہ انتشاری سلسلے پہلے ہی چل پڑے ہیں۔ ڈائیلاگ اور فنگر ٹپ پر سمٹتے علم کے دور میں ہمارے علماء آج بھی مناظرہ بازی کے سحر میں کھوئے ہوئے ہیں۔
مناظرہ ضرور کریں لیکن شرط یہ ہے کہ ٹی وی پر ہونا چاہیے تاکہ عوام کو بھی تو پتا چلے نا کہ ہمارے علماء کی ذہنی سطح کیا ہے؟ ان کا لہجہ، انداز تخاطب، علمی سطح اور ظرف و زبان کیسی ہے؟ سب سے بڑھ کر اہل نظر و فکر پر یہ حقیقت بھی آشکار ہو گی کہ آج کے دور میں ان کی حیثیت کیا ہے اور وقت کے ساتھ ان کی مطابقت کتنی ہے؟


