پاکستان قائم رہے گا
20 ستمبر 2024 کے ہم سب ایڈیشن میں سید مجاہد علی صاحب کا تحریر کردہ اداریہ ”کیا پاکستان قائم رہ سکے گا“ کو اس وقت تک 5577 ناظرین دیکھ اور پڑھ چکے ہیں۔ ماہ ستمبر 2024 کے آغاز میں نارویجین انسانی حقوق کمیشن کے زیر اہتمام ناروے میں منعقدہ ایک سیمنار ”قومی سلامتی اور انسانی حقوق“ کے پس منظر میں سید مجاہد علی صاحب نے مندرجہ بالا اداریہ تحریر کیا ہے۔ اس سیمنار کا لب لباب یہ تھا کہ قومی سلامتی کی آڑ میں حقوق انسانی پائمال نہیں ہونے چاہئیں اور اگر کوئی اکائی باقی ملک کے ساتھ نہ رہنا چاہے تو اسے تشدد کے ذریعے ساتھ نہیں رکھنا چاہیے۔ اگرچہ صاحب مضمون نے یا سیمنار میں بلوچستان میں جاری صورت حال کا نام نہیں لیا ہے لیکن ان دونوں کا تعلق بلوچستان کی صورت حال ہی سے تھا۔
پہلے تو ناروے میں پاکستان کی قومی سلامتی اور حقوق انسانی کی پائمالی کے متعلق سیمنار کا انعقاد ہی شکوک و شبہات ظاہر کرتا ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں کبھی نہ کبھی حقوق انسانی کی پائمالی ہوتی رہتی ہے لیکن کسی دوسرے ملک میں اس کی صورت حال کے متعلق سیمنار نہیں ہوا۔ ابھی حال ہی میں بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف پر تشدد کارروائیوں میں تین، چار سو افراد ریاستی تشدد سے ہلاک ہوئے ہیں اور حسنہ واجد کا یہ بیان کہ ’سڑکوں پر مظاہرہ کرنے والے دہشت گرد ہیں ان کو کچل دیں‘ بھی میڈیا میں آیا تھا۔
ہندوستان کی کئی ریاستوں جیسے آسام، ناگا لینڈ مقبوضہ کشمیر اور پنجاب میں کئی علیحدگی پسند تحاریک چل رہی ہیں جن کو ختم کرنے کے لیے انتہائی ریاستی تشدد اپنایا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تو حقوق انسانی کی پائمالی بہت برسوں سے جاری ہے، جن کی بازگشت باقاعدہ سنائی دیتی رہتی ہے۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئینی شق 370 کا خاتمہ کر دیا جس کے مقبوضہ کشمیر کی الگ ریاستی پہچان ختم کردی گئی اور اس کو اپنے پرچم اور الگ پہچان سے بھی محروم کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ کشمیر کو بھارت نے تقسیم ہندوستان کے وقت بزور شمشیر اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور مہاراجہ ہری سنگھ کی الحاق بھارت کی جعلی دستاویز کو بنیاد بنا کر اس کو اپنا اٹوٹ انگ کہنا شروع کر دیا۔ اقوام کے ایجنڈے پر ابھی تک کشمیر میں استصواب رائے کرانے کی قراردادیں موجود اور موثر ہیں جس کا بھارت نے وعدہ بھی کیا ہوا ہے۔
اسی طرح میانمار میں ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ بوسنیا میں ہزاروں مسلمانوں کو اجتماعی طور پر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کے ظلم و ستم اور حقوق انسانی کی پائمالی ایک عرصے سے جاری ہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں اسرائیل نے پیجرز میں دھماکہ خیز مواد بھر کر سینکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا ہے۔ ان کے متعلق پاکستانی انسانی حقوق کمیشن یا نارویجین انسانی حقوق کمیشن کے سیمینارز نہیں ہوئے اور نہ ان کی رپورٹ کبھی سامنے آئی ہے۔
ہندوستان کی تقسیم کو کسی اور خطے کی تقسیم پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان پر انگریز تقریباً 90 برس تک قابض رہے۔ ہندوستان کے باسیوں کا ان سے آزادی حاصل کرنا ان کا پیدائشی حق تھا۔ انگریز خود بھی ہندوستان کو چھوڑنا چاہتا تھا۔ تقسیم ہند 3 جون 1947 کے منصوبے کے تحت ہوئی۔ مسلم اکثریت علاقے پاکستان بنے اور ہندو اکثریت کے علاقے ہندوستان میں شامل ہوئے۔ خود مختار ریاستوں کو کسی ایک ملک کے ساتھ الحاق کا حق دے دیا گیا تھا۔ اس میں بھی ہندوستان نے انگریز کی ہلا شیری اور فوجی قوت کے زور پر جونا گڑھ، منا باؤ، حیدر آباد دکن اور کشمیر پر اپنا قبضہ جما لیا تھا جو تقسیم ہند کے منصوبے کے بالکل برعکس تھا۔
بلوچستان میں جاری علحدگی کی شورش کو اس پس منظر میں دیکھنا انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ بلوچستان وہاں کے خان اور سرداروں کے جرگہ کے الحاق کے نتیجہ میں پاکستان کا حصہ بنا جس کی دستاویزات آج بھی محفوظ ہیں۔ پاک فوج بلوچستان پر قابض نہیں ہے بلکہ اس کی محافظ ہے۔ کوئی بھی خود مختار ملک اپنی جغرافیائی حدود کو کم کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا ہے اور نہ اپنے کسی خطہ زمین کو اپنے سے الگ ہونے کی اجازت دے سکتا ہے۔ پاکستان پانچ صوبوں اور ریاست آزاد جموں کشمیر کی اکائیوں کا وفاق ہے۔ یہ ریاستوں کی کنفیڈریشن یا یونین نہیں ہے کہ جب اور جس وقت کسی ریاست کا دل چاہے وہ اس سے باہر نکل جائے جیسے سویت یونین کی ریاستیں اس سے آزاد ہوئی تھیں۔
بلوچستان لبریشن آرمی جیسی دہشت گرد تنظیم نے پورے بلوچستان میں کئی برسوں سے دہشت گردی کا بازار گرم کئیے رکھا ہے۔ پنجابیوں کو شناخت کر کے اور بسوں سے اتار کر ناحق قتل کیا جاتا ہے جو حقوق انسانی کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ بلوچستان کے بہت سے طلبہ اور طالبات پنجاب کی جامعات میں پڑھتے ہیں لیکن ان سے ایسا کوئی نسلی یا صوبائی تعصب جیسا سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔ پورے پنجاب میں کوئٹہ نام کے ہوٹل اور ریستوران آزادانہ اور پر امن طریقے سے اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔
کیا کسی پنجابی کی ہمت ہے کہ وہ اپنی صوبائی اور شہری شناخت کے ساتھ کوئٹہ یا کے پی کے میں اپنا کاروبار اسی طرح آزادانہ طور پر کر سکے۔ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کی انہی کارروائیوں کے باعث گوادر بندر گاہ پوری طرح فعال نہیں ہو سکی اور گوادر ہوائی اڈے کا افتتاح بھی نہیں ہو سکا ہے۔ اسی طرح کئی بار ملک کے دوسرے علاقوں کو سوئی گیس مہیا کرنے والی پائپ لائنوں کو بارودی دھماکوں سے اڑا دیا جاتا ہے۔
بلوچستان کی پاکستان سے علحدگی کو مشرقی پاکستان سے قیاس کرنا بھی کسی طور بھی قرین انصاف نہیں ہے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان میں ایک ہزار میل کی جغرافیائی دوری تھی اور ملک کے دونوں حصوں کا آپس میں کوئی زمینی راستہ بھی نہیں تھا۔ فضائی راستے کے سوا مشرقی پاکستان جانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ مشرقی پاکستان کی علحدگی میں بہت سی غیر ملکی اور ملکی سازشیں کار فرما تھیں۔ بلوچستان میں عوام کی منتخب کردہ صوبائی اسمبلی موجود ہے، اس کی ایوان زیریں میں اپنی مقررہ نشستیں ہیں اور ایوان بالا میں اس کے ارکان کی تعداد چاروں صوبوں کے مساوی ہے۔
عدالت عالیہ سمیت تمام صوبائی محکمے فعال ہیں اور اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو تمام مساوی حقوق میسر ہیں، اگر کوئی کمی ہے تو اس کی ذمہ دار صوبائی حکومت، سردار، خان اور سیاست دان ہیں۔ لاپتا افراد کا مسئلہ مسلم ہے اور اس کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بلوچستان پاکستان سے الگ ہو جائے گا تو یہ ایک انفرادی اور مجموعی خام خیالی ہے۔ اس علحدگی کو روکنے کے لیے اگر مقتدر اور طاقت ور حلقوں کو خون کی ندیاں بھی بہانی پڑیں تو اس سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
خاکم بدہن اگر بلوچستان پاکستان سے الگ بھی ہو جاتا ہے تو کیا اس کی مزید تقسیم در تقسیم کا عمل رکے گا۔ بلوچستان کی ہزارہ، پختون اور بلوچ کی تقسیم ہوگی۔ چند سال قبل جب ملک کے سارے صوبوں کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنے کی بات کی گئی تھی تو پنجاب کے سوا تمام صوبوں نے اس کی بھر پور مخالفت کی تھی۔ سندھ کی حکومت نے سرکاری طور پر کہا تھا کہ ہم اپنے صوبے کو کبھی بھی مزید چھوٹے صوبوں میں تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔
سندھ کے ایک قوم پرست رہنما نے وصیت کی تھی کہ اس کو زنجیروں سے باندھ کر دفن کیا جائے اور اس کے چہرے کو سندھ کی زمین کے رخ میں کیا جائے اور ایسا ہی کیا گیا تھا۔
پاکستان جیسا بھی ہے اور اس کے حالات جیسے بھی ہیں اس کی قومی اور جغرافیائی یک جہتی قائم رہے گی۔ مسائل اور مشکلات کس ملک میں نہیں ہوتے ہیں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ اس ملک کی وحدت کو تقسیم کر دیا جائے۔ دنیا میں سو سے زائد ممالک ہیں ہیں لیکن تقسیم، علحدگی اور شکست و ریخت کی باتیں اور سیمینارز صرف پاکستان کے متعلق ہی ہوتے ہیں، کسی اور ملک کے متعلق یہ باتیں اور سیمینارز کیوں نہیں ہوتے ہیں۔

