کیا پاکستان کے حالات 2027 میں ٹھیک ہو جائیں گے؟
پچھلے دو ماہ میں تین سے چار ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جو پاکستان کے بارے میں الگ ہی رائے رکھتے تھے۔ وہ مختلف ترین بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے، الگ الگ شعبہ ہائے جات سے وابستہ تھے اور مجھ سے ملاقاتیں بھی الگ الگ نوعیت کی تھیں۔ لیکن انداز سب کا ایک ہی جیسا تھا۔
امجد صاحب میرے کلائنٹ تھے، ایک پلاٹ کے وزٹ کے لیے جانا ہوا، فتح جنگ کی طرف کا سفر تھا، جو اچھا خاصا تھکا دینے والا سفر ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے کوشش ہوتی ہے کہ ایسے وزٹ میں گپ شپ کا ماحول لازمی قائم ہو، تاکہ خود کو بھی تھکاوٹ نہ ہو اور کلائنٹ بھی فریش رہے۔ اب گفتگو کا سلسلہ جاری ہوا تو بات چلتے چلتے ملکی حالات تک پہنچی، ہلکی پھلکی تجزیاتی جذباتیت کے بعد امجد صاحب نے بڑے دلچسپ انداز میں کہا، ”سہیل بھائی! نوٹ کر لیجیے 2027 کے بعد ملک کے حالات ایسے ہونا شروع ہو جائیں گے کہ ابھی اگر میں کُھل کر کہہ دوں تو آپ ہنس پڑیں گے۔“
”آپ کھل کر کہہ دیں، میں اس وقت تک نہیں ہنسوں گا، جب تک مجھے یقین نہ ہو جائے کہ آپ واقعی مجھے ہنسانا چاہتے ہیں۔“ میں نے سنجیدگی سے جواب دیا تو وہ کمفرٹیبل ہو گئے۔ پھر وہ بڑے خوش گوار انداز میں گویا ہوئے۔
”بھائی جان! نوٹ کر لیجیے کہ 2027 کے بعد پاکستان اس فیز میں داخل ہو جائے گا کہ یہاں کے حالات بھی ٹھیک ہو جائیں گے، بے روزگاری کا خاتمہ ہو جائے گا اور پاکستان اتنی اہم پوزیشن پر چلا جائے گا کہ دنیا کے اہم ترین ممالک میں سے شمار ہو گا۔“
دعوی تو عجیب ترین تھا۔ اس وقت کے حالات سے بالکل بھی لگا نہیں کھا رہا تھا۔ لیکن میرے لیے یہ دلچسپ کنڈیشن تھی، مجھے تجسس ہوا کہ ایسے عجیب دعوی کے پیچھے کیا سوچ چل رہی ہو گی۔ اس لیے میں نے بجائے ان سے اختلاف کرنے یا اپنی رائے کا اظہار کرنے کے انہیں کریدنے کا فیصلہ کیا۔ ان سے کھل کر پوچھا کہ آخر کیا سوچ کر اتنا بڑا دعوی کر رہے ہیں۔
ان کا پہلا جواب تو وہی سادہ سی جیو سٹریٹیجک امپورٹنس پر مبنی تھا۔ لیکن دوسرا جواب بڑا منفرد تھا۔ اُن کے کوئی استاد ہیں، جو تصوف اور ویدک اسٹرالوجی کے ماہر ہیں۔ اُن استاد صاحب کی دور اندیشی اور کامیاب ترین پیشین گوئیوں کی بہت سی مثالیں سُنانے کے بعد امجد صاحب نے مجھے بتایا کہ 2027 کے بعد والی یہ پیشین گوئی بھی اُن استاد صاحب کی ہی ہے۔
خیر وقت گزرا، یہی کوئی پندرہ بیس دن بعد مبشر چوہدری اور تفہیم احمد کے ساتھ اسلام آباد کی ایک اہم لوکیشن کے اہم عہدے دار سے ملاقات ہوئی۔ بڑے بذلہ سنج اور شدید پڑھے لکھے آدمی تھے۔ تفصیلی گپ شپ کے دوران اُنہوں نے بھی پاکستان کے بارے میں یہی دعوی کر دیا۔ دانشوروں کی محفل تھی، مجھے پھر تجسس ہوا۔ جہاں باقی لوگ اُن سے اختلاف کرنا چاہ رہے تھے، وہاں میں نے انہیں وضاحت دینے پر مجبور کر دیا۔ اتفاق دیکھیے کہ ان کی وضاحت کا پہلا حصہ پھر وہی پاکستان کی لوکیشن کی اہمیت، پاکستان کی تاریخ اور مستقبل کے بارے میں چند مضبوط حوالے تھے۔
دوسرے حصے میں انہوں نے بھی اپنے ایک مرشد صاحب کی تعریف شروع کی۔ ان کی ولایت اور کرامات کا ایک عمدہ نقشہ کھینچا۔ داستان گو آدمی ہیں، اس لیے بات میں کشش تو تھی ہی، اس پر خرق عادت واقعات کا بیان بھی کمال تھا۔ انہوں نے بھی مرشد صاحب کی آتھنٹیسٹی ثابت کرنے کے بعد اگلے مرحلے میں ان کی ایسی ہی پیش گوئی کا ذکر کیا جس کے مطابق پاکستان 2027 کے بعد یورپی ممالک سے بھی خوش حال ہونے جا رہا ہے۔
اسی طرح یہاں سعودی عرب میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کا دعوی بھی وہی تھا۔ پہلے حصے میں البتہ انہوں نے پاکستان کی اعلی ترین کامیابی کی ذمہ داری عمران خان کے سر پر ڈالی، عمران خان کی رہائی اور دوبارہ وزارت عظمی کو اس کامیابی کے ساتھ مشروط کیا جبکہ دوسرا حصہ پھر وہی کسی پیر صاحب کی تعریفوں اور ان کی پیشین گوئی پر مشتمل تھا۔
اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیا چکر ہے۔ ایسا محض اتفاق ہے یا ”تصوف“ اور اسٹرالوجی کے ماہرین کا اندر کھاتے کوئی گٹھ جوڑ چل رہا ہے۔ پاکستان کے بارے میں اچھی امید تو بہرحال ہے لیکن یہ 2027 کا سال اتنی اہمیت کیوں اختیار کیے ہوئے ہے؟ کیا واقعی ایسا کچھ ممکن ہے؟
راہ چلتے مجھے بھی ایک پیر صاحب نے ذاتی طور پر بتایا تھا کہ 2027 تک صبر کر لو، تم بھی کمال کامیابی حاصل کرو گے۔


