جب ان چہروں کو دیکھتا ہوں


پاکستان کی گلیاں اور سڑکیں، جو روزانہ کی بنیاد پر صاف ستھری نظر آتی ہیں، دراصل ان بے آواز ہیروز کی محنت اور قربانیوں کی عکاسی کرتی ہیں جنہیں ہم سینٹری ورکرز کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر اور اپنی عزت نفس کو داؤ پر لگا کر ہمارے معاشرے کو صاف اور خوبصورت بناتے ہیں۔ مگر افسوس، وہ وہ مقام اور عزت نہیں پاتے جس کے وہ حق دار ہیں۔ جب میں ان معصوم چہروں کو دیکھتا ہوں، جو صبح سویرے اپنی جھاڑو اور پلاسٹک کے تھیلے اٹھائے ہمارے شہروں کو گندگی سے پاک کرنے نکلتے ہیں، تو میرے دل میں ایک درد کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

ان کی آنکھوں میں امید کی کوئی روشنی نہیں ہوتی، نہ ہی وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ ان کی دنیا محدود ہے۔ صرف اس دن کی مزدوری، جو انھیں اور ان کے بچوں کو ایک وقت کی روٹی فراہم کرے۔ ان کے بچے، جنہیں کتابیں ہاتھ میں ہونی چاہئیں، اسکول کے بجائے اپنے والدین کے ساتھ کچرا اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ یہ معصوم بچے جو ابھی کھیلنے اور سیکھنے کی عمر میں ہیں، اپنی چھوٹی سی زندگی کے خوابوں کو ان گلیوں میں دفن کرتے ہیں جہاں وہ صفائی کا کام کرتے ہیں۔

ان کے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ کچرے کے تھیلے ہیں، اور ان کے بچپن کی مسکراہٹیں روزی روٹی کے بوجھ تلے دب گئی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں سوالات ہیں۔ کیوں انہیں اپنی زندگی دوسروں کی گندگی صاف کرنے میں گزارنی پڑ رہی ہے؟ مگر ان کے ہونٹ ہمیشہ خاموش رہتے ہیں، جیسے زندگی نے انہیں خاموش رہنے کی تربیت دے دی ہو۔ جب میں انہیں دیکھتا ہوں، میرے دل میں ایک سوال اٹھتا ہے : کیا ہم، جو اس صاف ستھری دنیا کا حصہ ہیں، ان کی محنت کا صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں؟

کیا ہم ان کے بغیر ایک دن بھی گزار سکتے ہیں؟ ہماری زندگیوں میں صفائی کی اہمیت بہت زیادہ ہے، مگر کیا ہم نے کبھی ان ہاتھوں کے بارے میں سوچا ہے جو ہمارے لیے یہ کام کرتے ہیں؟ یہ وہ ہاتھ ہیں جنہیں معاشرہ کمتر سمجھتا ہے، اور وہی ہاتھ ہیں جو ہمیں صاف اور محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں۔ سینٹری ورکرز کو نہ صرف معاشرتی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ وہ صحت کے سنگین مسائل سے بھی دوچار ہیں۔ وہ اپنے جسم اور زندگی کو ان خطرناک حالات کے سپرد کرتے ہیں، جن میں کوئی اور جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

کچرے کے ڈھیروں میں وہ ایسی بیماریوں کا سامنا کرتے ہیں جو ان کی زندگی کو دن بدن کم کرتی جاتی ہیں۔ نہ ان کے پاس کوئی حفاظتی ساز و سامان ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی طبی سہولیات۔ ان کی زندگی بس ایک جنگ ہے، جہاں وہ اپنی زندگی کی بقا کے لیے مسلسل لڑتے رہتے ہیں۔ سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں جب ہم گرم بستروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں، یہ لوگ اپنے بچوں کے ساتھ گلیوں میں صفائی کر رہے ہوتے ہیں۔ گرمیوں کی شدت میں جب سورج کی تپش ہماری جلد کو جھلسا دیتی ہے، وہ پسینے میں شرابور ہو کر بھی اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹتے۔

ان کے لیے نہ کوئی چھٹی ہے، نہ کوئی آرام، اور نہ ہی کوئی معاشرتی پذیرائی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معاشرے کی نظروں میں ان دیکھے ہیں، ان کے وجود کو تسلیم کیا جاتا ہے مگر انہیں عزت یا محبت نہیں دی جاتی۔ سینٹری ورکرز اپنے خاندان کی عزت و وقار کی قربانی دیتے ہیں تاکہ ان کے بچوں کے پیٹ بھر سکیں۔ ان کی زندگیوں میں نہ کوئی خوشی ہے اور نہ ہی کوئی رنگ، بس ایک ابدی خاموشی ہے جس میں وہ اپنی مشکلات کو سہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم، ایک معاشرہ ہونے کے ناتے، کب تک ان کی قربانیوں کو نظر انداز کرتے رہیں گے؟

کب تک ہم ان کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے خود کو مطمئن کرتے رہیں گے کہ یہ ان کا فرض ہے؟ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ سینٹری ورکرز کی زندگی بھی قیمتی ہے، ان کے خواب بھی ہیں، ان کی ضرورتیں بھی ہیں، اور ان کا بھی حق ہے کہ وہ ایک باعزت زندگی گزار سکیں۔ حکومت اور معاشرے کو مل کر ان کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے، انہیں صحت کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں، اور ان کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی کے مواقع دیے جانے چاہئیں تاکہ ان کی آئندہ نسلیں اس مصیبت زدہ زندگی سے بچ سکیں۔

یہ مضمون لکھتے ہوئے، میری آنکھوں میں آنسو آتے ہیں۔ میں ان معصوم چہروں کو یاد کرتا ہوں جو گلیوں میں جھاڑو دیتے ہیں، جو اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ہمارے آرام اور سکون کے لیے قربان کرتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کو دیکھ کر، دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم ان کے لیے کچھ کریں۔ انہیں وہ عزت دیں جس کے وہ حقدار ہیں، اور انہیں ایک بہتر زندگی فراہم کریں تاکہ وہ اور ان کے بچے بھی عزت کے ساتھ جی سکیں۔

سینٹری ورکرز ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں، اور ہمیں ان کی محنت اور قربانی کو تسلیم کرنا ہو گا۔ یہ لوگ ہماری زندگیوں میں خاموشی سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں، اور ہمیں ان کے اس عظیم کام کو سراہنا چاہیے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے قدم اٹھائیں، تاکہ وہ بھی ہماری طرح ایک باعزت اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔

Facebook Comments HS