جامعہ پنجاب اور سٹوڈنٹ یونین
جامعہ کی انتظامیہ سے ہمیں لاکھوں گلے ہوسکتے ہیں لیکن اس کی ہوا میں ہی طلبہ سیاست اور سیاسی محرکات پنہاں ہیں۔ اس کی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام جیسے عظیم سائنسدان اور پاکستان کی تاریخ کا بد ترین آمر ضیا الحق بھی اسی جامعہ کی پیداوار ہیں۔
کل ہی دو سٹوڈنٹ یونینز، اسلامی جمعیت طلبہ اور بلوچ سٹوڈنٹ کونسل کے درمیان ایک نظریاتی لڑائی ہوئی تو سلیم ملک کی ہم سب پر شائع ایک تحریر ”پنجاب یونیورسٹی لاہور کی لڑکیاں“ نظر سے گزری۔ اس تحریر میں راقم نے 80 اور 90 کی دہائی کی جامعہ پنجاب اور اس میں موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا جس میں سلیم ملک بیان کرتے ہیں کہ گھٹن اور لڑکیوں کے لیے غیر موزوں حالات تھے۔ چونکہ یہ تحریر میری پیدائش سے پہلے کی جامعہ کے حالات کا منظر پیش کرتی ہے اس لیے اُس وقت کے حالات پر اپنی رائے دینے سے قاصر ہوں لیکن آج کی جامعہ پنجاب جہاں ہم اپنی فی میل کولیگ اور سٹوڈنٹس مغربی لباس میں ملبوس مین کینٹین پر ساتھ بیٹھ کر سگریٹ اور چائے پی سکتے ہیں بغیر اس خوف کے کہ کوئی انتہا پسند گروہ آ کر ہمیں ہتک کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ آزادی رائے اور پروگریسو ایکٹیوٹیز پر اگر لب کشائی کی جائے تو حالات ابھی بھی موافق نہیں ہیں۔ پروگریسو سوسائٹیز کو نہ تو پنپنے دیا جاتا ہے اور نہ ہی آزاد فکر اور تنقیدی سوچ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سوسائٹیز جو جامعہ پنجاب میں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں، ان کو انتہا پسند گروہوں اور انتظامیہ کی طرف سے سرگرمیاں سر انجام دینے کی یا تو اجازت نہیں دی جاتی یا ان کے راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔
اس تحریر کا مقصد سٹوڈنٹ یونین کے درمیان ہونے والی جھڑپیں، ان کے محرکات و وجوہات، انتظامیہ کا کردار اور اس کے پروگریسو طلبہ و طالبات پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لینا ہے۔
جامعہ پنجاب کو میں چھوٹا پاکستان سمجھتا ہوں جہاں آپ کو سیاسی عناصر اور ایسی سرگرمیاں ملیں گی جن کی وجوہات وہی، نظریاتی، قومی، لسانی قوتیں کارفرما ہوتی ہیں جو کہ سٹیٹ لیول پر ان بنیادوں پر سیاسی نعرے بازی اور جماعت بندی ہوتی ہے۔ جامعہ پنجاب میں چونکہ کئی قومیں اور زبان بولنے والے طلبہ، جو کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آتے ہیں، زیر تعلیم ہیں اور اپنے ساتھ اپنی سوچ اور نظریات و عقائد لے کر آتے ہیں۔
سب سے پہلے ذکر پختون طالب علموں کا کروں گا۔ جامعہ پنجاب میں ان کی نمائندہ جماعت ”پختون ایجوکیشن ڈویلپمنٹ موومنٹ“ یعنی ”پیڈم“ ہے۔ جو کہ اپنی وابستگی کسی بھی مین سٹریم سیاسی جماعت سے ظاہر نہیں کرتے اور ان کے بقول یہ ایک خود مختار سٹوڈنٹ باڈی ہے جو کہ نہ صرف جامعہ پنجاب بلکہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں بھی اپنا وجود رکھتی ہے۔ جامعہ پنجاب میں پختون بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ پیڈم جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، پختون نیشنلزم کا دعویٰ کرتی ہے اور ان کی جھڑپیں یونین یعنی اسلامی جمعیت طلبہ سے اسی نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ پیڈم باوجود اکثریت میں ہونے کے ایک شناختی بحران کا شکار ہے شناختی بحران سے مراد ان کی وہ انسیکیوریٹیز ہیں مثال کے طور پر سٹیٹ سپانسرڈ دہشت گردی، جبری گمشدگی، ریاست کی طرف سے استحصالی رویہ ہیں۔ پیڈم ترقیاتی نظریے کے بجائے پختون قومیت پرستی کو زیادہ ترجیح دیتی ہے اور اسی پختون قومیت پرستی کی وجہ سے جہاں ایک طرف پیڈم میں محض پختونوں کو ہی ترجیح دی جاتی ہے اور غیر پختون کو پیڈم کے نزدیک بھی پھٹکنے نہیں دیا جاتا۔ ان، ان سیکیوریٹیز کو آپ پختون قومیت پرستی کا نعرہ لگا کر ایڈریس نہیں کر سکتے بلکہ انسانیت کی اور روا سلوک کے حق دار ہونے کے لیے آواز بلند کر سکتے ہیں۔ پیڈم میں یہی خامی ہے کہ انسانیت اور بحیثیت جامعہ پنجاب کا طالب علم ہونے کے پیڈم نے ہمیشہ پختون قومیت پرستی کو اجاگر کیا اور نتیجتاً اس کا خمیازہ بھی بھگتا۔
یہ حقیقت ہے کہ جامعہ پنجاب کی ہر سٹوڈنٹ باڈی میں ایسے بندے ضرور رکھے یا ریکروٹ کیے جاتے ہیں جو محض لڑائی جھگڑے میں کام آتے ہیں اس سے بے غرض ہو کر کہ لڑائی کی شروعات کس کی طرف سے کن وجوہات پر ہوئی جوابی کارروائی کے لیے یہ بندے کام آتے ہیں۔ جامعہ پنجاب کی غیر فعال انتظامیہ، اور وی سی جس کا کام محض داخلوں کے سلسلے کو یقینی بنانا اور مہینے میں ایک دو بار مختلف شعبہ جات کا وزٹ کر لینا شامل ہے۔ جامعہ میں نراجیت پسندی کا سماں ہے جہاں انتظامیہ کو ان سٹوڈنٹ باڈیز نے ہائی جیک کیا ہے، جس میں، غیر قانونی داخلے، سفارش، انتظامیہ اور ان سٹوڈنٹ باڈی کی ملی بھگت سے کیا جانے والا لڑکیوں پر ہراسمنٹ ہے۔ فہرست بہت لمبی ہے اور میرا قلم اور حالات اس بات کی اجازت نہیں دے رہے کہ تمام تفصیلات بیاں کی جائے کیونکہ یہ تحریر میں اس وقت جامعہ پنجاب کے ہاسٹل نمبر 14 میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں۔
اسی نراجیت پسندی کے دور میں پیڈم جہاں لڑائی جھگڑوں میں ملوث رہتی ہے تو دوسری طرف ہاسٹل پر ان کے قبضے ( کچھ ہاسٹل اور کمرے ) جاری رہتے ہیں۔
پیڈم کے سیاسی محرکات کی اگر بات کی جائے تو ان کی وفاداریاں اور سپورٹ پاکستان کی پختون نمائندہ جماعتوں سے ہے جو پختون قومیت کی بنیادوں پر قائم ہے۔ بظاہر پیڈم کو الگ جانا جاتا ہے لیکن نظریاتی ہم آہنگی انہیں جماعتوں کے ساتھ ہے۔
پختون قومیت پرستی کا اندازہ اس نعرے سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ”ازم ازم نیشنل ازل“ جو کہ حال ہی میں متعارف کروایا گیا ہے۔
جامعہ پنجاب میں لڑائی زیادہ تر یا تو ایک جماعت کا دوسری جماعت کے لیے ردعمل ہوتا ہے یا پھر نظریاتی تضاد اور فروعی باتوں پر ہوتا ہے۔ فروعی سے مراد، فلاں لڑکا فلاں لڑکی کے زیادہ قریب کیوں بیٹھا یا پھر ہاسٹل روم پر قبضے، ہاسٹل میں موسیقی سننے پر یا پھر سٹڈی سرکل پر حملہ کرنا اور جوابی کارروائی کرنا ہے۔
یہاں پر یہ بات رقم کرنا بے حد ضروری ہے کہ جامعہ پنجاب میں پاور پالیٹکس ہوتی ہے۔ پاور ڈائینامکس اور آلات وہی زیر استعمال لائے جاتے ہیں جو مین سٹریم سیاست میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر پیڈم کی یہی کوشش رہتی ہے اپنے مخالفین یعنی اسلامی جمعیت طلبہ کو کسی نہ کسی طریقے سے زچ کیا جائے جس میں نفرت، ہتک، اختلاف کی صورت میں انتہا پسندانہ رویہ شامل ہے۔ اختلاف اور اس نراجی ماحول میں اگر یہ بات تسلیم کر بھی لی جائے کہ مخالفین کے حملے کی صورت میں تحفظ کے لیے ڈنڈے پتھر اور کبھی کبھار اسلحہ اٹھانا پڑتا ہے تو کیا پیڈم کے پاس انتظامیہ اور پرامن احتجاج کا راستہ نہیں بچتا؟ یا پھر ان لڑائی جھگڑوں کو اول ہوا کون دیتا ہے؟ کیا پیڈم جو محض اسلامی جمعیت طلبہ کے اثر کو کم کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی جس میں اُس وقت کی انتظامیہ بھی شامل تھی۔ کیا پیڈم جامعہ کے ماحول کو سیاسی نعرے بازی اور انتشار پسند عناصر سے پراگندہ نہیں کرتی؟ یہی حربے اسلامی جمعیت طلبہ بھی استعمال کرتی ہے۔
اس تمام لڑائی اور بے ہنگم صورت میں پیڈم میں نفرت کے عناصر، تعصب اور احساس کمتری میں مبتلا کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب جمعیت ایک وار کرتے ہے تو پیڈم فوراً جواب دیتی ہے۔
پیڈم کا بنیادی مسئلہ ہی ان کی ہائیپر نیشنل ازم ہے میں سٹوڈنٹ یونین کے حق میں ہوں کیونکہ اسی طرح ہم اپنی آواز اٹھا سکتے ہیں لیکن ان یونین کو باقاعدہ ریگولیٹ کرنا پڑے گا۔ پیڈم میں جہاں اتنی خامیاں ہیں وہاں خوبیاں بھی ہیں کہ ان کے سٹڈی سرکلز اور سرگرمیاں کافی پروڈکٹو اور پروگریسو ہوتی ہیں۔ سٹڈی سرکل میں اول تو پشتو زبان کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن جب سامعین پختون نہ ہوں تو اردو زبان استعمال کی جاتی ہے۔ پروگریسو سرگرمیاں زیادہ تو پختونوں کے لیے ہی مختص ہوتی ہیں۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کا نام ہی پختون ایجوکیشن ڈویلپمنٹ موومنٹ ہے تو پختونوں کی ہی بات ہوگی۔ عرض یہ ہے کہ کیا حق کے لیے آواز محض قومیت پرستی کے دریچے سے ہی بلند کی جا سکتی ہے؟
قومیت پرستی کا نعرہ لگا کر آپ اپنے نظریات اور آواز کو محدود کر دیتے ہیں کہ ہمارے لیے ہماری قوم ہی سب سے عزیز ہے باقی جائے بھاڑ میں۔
میں کسی بھی سٹوڈنٹ باڈی کا حصہ نہیں ہوں بلکہ ان تمام مسائل کا ناقد ہوں جو جامعہ پنجاب کی تعلیم پر ، اور ہم جیسے موجود ہزاروں ایسے طالب علم جو تنقیدی اور پروگریسو فکر رکھتے ہیں، ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس تحریر کا دوسرا حصہ جلد ہی شائع کیا جائے گا جس میں اسلامی جمعیت طلبہ اور دیگر یونین کا ذکر کیا جائے گا


