منظور حسین کرلو، رچناوی تہذیب کا امان اللّٰہ


تلمبہ رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے ایک چھوٹا مگر تاریخی شہر ہے۔ لیکن اس نے علم، ادب اور فنون لطیفہ میں پاکستان سمیت دنیا بھر کو بڑے بڑے نام دیے ہیں۔ وہ عالمی مبلغ طارق جمیل ہوں، یا باکمال شاعر فیصل عجمی تلمبہ کسی بھی میدان میں پاکستان کے بڑے شہروں سے پیچھے نہیں ہے۔ معروف قوال عزیز میاں نے بھی اپنے عمر کا ایک بڑا حصہ تلمبہ میں گزارا ہے۔ موضع رام پور مگھہ اور تلمبہ کے درمیان ایک پرانا شہر موجود ہے۔ جسے آج بھی لوگ اسی نام سے پکارتے ہیں لیکن وہاں شہر کے اب کوئی بھی آثار باقی نہیں ہیں۔ اس جگہ پر نٹ برادری آباد ہے جو فن موسیقی سے وابستہ ہے۔ تلمبہ سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر بستی سنپال میں منظور حسین کرلو کا آبائی گھر تھا لیکن وہ بعد میں چھے کلومیٹر دور چراغ شاہ چلے گئے۔ 7 جون 2023 کو منظور حسین کرلو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ کرلو صاحب کے نام اور کام سے 2005 کی واقفیت ہے۔

اس سے پہلے کی کیفیت اور ان کی فنکارانہ زندگی کے بارے میں تو مجھے نہیں معلوم لیکن اس وقت سے تو جانتا ہوں جب ٹی پی گولڈ کے آڈیو ویڈیوز پنجاب میں ہر جگہ عام ہوتے تھے۔ خاص کر دیہات میں ٹریکٹر پر روزانہ کی بنیاد پر نت نئی تقاریر، گانے، اور پنجابی مشاعرے سننے کو ملتے تھے۔ دیہی علاقوں یہ اس وقت کی مقبولیت کا سب سے بڑا پیمانہ ہوتا تھا۔ ان دنوں پاکستان بھر میں مقامی سطح پر رچناوی لہجہ بولنے والوں میں مزاح کے حوالے سے ایک نام گونجتا تھا وہ تھا منظور حسین کرلو۔ سکول کے دنوں میں جب کبھی شہر آنا ہوتا اور کرلو صاحب کو دیکھ لیتے تو اگلے دو دو دن دوستوں کو بتاتے، ان کے لطیفے یاد کرتے سنتے سناتے گزر جاتے تھے۔

اس تحریر کا عنوان رچناوی تہذیب کا امان اللّٰہ اس لیے بھی ہے کہ آپ امان اللہ صاحب کو دیکھیں انہوں نے ایک دنیا کو اپنے فن سے متاثر کیا ہے اور منظور حسین کرلو نے بھی کچھ ایسا ہی کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ انہیں پوری دنیا میں مواقع ملے، بڑے بڑے اداکاروں، ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز سے سیکھنے کا موقع ملتا گیا اور وہ خود بھی خداداد صلاحیتوں سے مالا مال تھے تو پوری دنیا پر چھا گئے۔ اس کی اور وجہ اردو زبان اور باقاعدہ تھیٹر کرنا بھی ہے۔ لیکن وہ کون سی خوبی یا فن ایسا ہے جو امان اللّٰہ صاحب کے پاس تھا اور منظور حسین کرلو کے پاس نہیں تھا۔ موسیقی کے بات کریں تو منظور حسین خوبصورت آواز کے مالک تھے، طبلہ اور ڈھولک بجانے کے ماہر اور کلاسیکی موسیقی سے پوری طرح آشنا تھے۔ سٹینڈ اپ کامیڈی ہو، نقل اتارنا ہو، لطیفے ہوں یا مشہور گیتوں کو الٹنے کی روش یا پھر لوک ڈرامہ اور فلم منظور حسین ہر دو حوالے سے رچناوی تہذیب کا امان اللّٰہ ہے۔ مالک سے دعا ہے کہ اللّٰہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے۔

Facebook Comments HS