آئی ایم ایف کا 24 واں بیل آؤٹ پیکج: لگے رہو منا بھائی


آئی ایم ایف ایک مالیاتی ادارہ ہے جو 1944 میں قائم ہوا تھا۔ قیام کے وقت آئی ایم ایف کے رکن ملکوں کی تعداد 44 تھی۔ آج 80 سال بعد 190 ممالک آئی ایم ایف سے وابستہ ہیں۔ آئی ایم ایف معاشی بحران میں گھرے ملکوں کو معاشی خود انحصاری کے مشوروں کے ساتھ ساتھ قرض بھی دیتا ہے۔ ذمہ دار ممالک آئی ایم ایف کے دیے گئے قرض اور مشوروں کی بدولت خود انحصاری کی منزل عبور کر لیتے ہیں۔

اس سلسلے میں دو مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اول میکسیکو جو 80 کی دہائی میں ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا۔ میکسیکو کا افراط زر اپنی مقرر حدود سے نکل چکا تھا۔ بے روزگاری بڑھ چکی تھی، زرمبادلہ گھٹ چکے تھے۔ ایسے میں میکسیکو نے آئی ایم ایف کے قرض کی چھتری تلے پناہ لی۔ ثمر آور معاشی پالیساں بنا کر ان کے تسلسل کو یقینی بنایا۔ اور آخر کار دنیا کی آٹھویں بڑی معیشت بن گیا۔ دوسری مثال برازیل کی ہے جس نے ڈیفالٹ ہونے سے بچنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرض لیا۔ بہترین معاشی پالیسیاں بنائیں تیزی سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے اور مقررہ تاریخ سے دو سال قبل قرض کی رقم ادا کر کے معاشی خود انحصاری کا اعلان کر دیا۔

پاکستان کی مثال میکسیکو اور برازیل سے یکسر مختلف ہے۔ پاکستان پہلی بار 1950 میں آئی ایم ایف سے قرض لینے گیا تھا۔ خیر سے یہ ”آنا جانا“ آج تک جاری ہے۔ پاکستان پچھلے 74 سالوں میں 23 بار آئی ایم ایف سے قرض لے چکا ہے۔ آئی ایم ایف ہر بار پہلے سے سخت معاشی شرائط پر قرض فراہم کرتا ہے اور پاکستان یہ کہتے ہوئے ان شرائط کو قبول کر لیتا ہے کہ ”تو تیر آزما ہم جگر آزماتے ہیں“ ۔ اس وقت پاکستان کا کل قرضہ 59 ہزار 2 سو 47 ارب روپے ہے۔ پاکستان اس ”مقام محمود“ پر فائز ہے جہاں بین الاقوامی اداروں کا قرض ادا کرنے لیے بین الاقوامی اداروں سے قرض لیا جاتا ہے۔ بے شک یہ ”مقام“ آسانی سے حاصل نہیں ہوتا اس کے لیے سخت بد دیانتی، ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن کرنی پڑتی ہے۔ جو ہماری حکمران اشرافیہ روز اول سے کر رہی ہے۔

معاشی ماہرین برسوں سے ارباب اختیار کو بتا رہے ہیں کہ قرض کے چنگل سے نکلنے کے لیے ہمیں ہر سال 15 فی صد برآمدات میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ شرح نمو کم از کم 6 فیصد پر لانی پڑے گی۔ بجلی کی چوری کو روکنا ہو گا تاکہ اربوں روپوں کا خسارا ختم ہو۔ وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج کا حجم گھٹانا پڑے گا۔ بیورو کریسی اور حکومتی ارکان کے اللے تللے ختم کرنے پڑیں گے۔ اگر ہم نے یہ سب نہیں کیا تو 25 ویں بار پھر ہمیں آئی ایم ایف سے قرض کی بھیک مانگنی پڑے گی۔ قرض مانگنے کا یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا اور دنیا ہمارا تمسخر اڑاتے ہوئے کہے گی ”لگے رہو منا بھائی!“۔ اخبارات کی شہ سرخیاں بتا رہی ہیں کہ آئی ایم ایف نے 7 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ پیکج منظور کر لیا ہے جو 37 مہینوں پر مشتمل ہے۔ قرضہ کی پہلی قسط تقریباً ایک ارب ڈالر ہے جو فوری فراہم کی جائے گی۔ ارباب اختیار قرض ملنے کی خوشی میں شادیانے بجا رہے ہیں۔ اور ان دوست ممالک کا شکریہ بھی ادا کر رہے ہیں جنھوں نے قرض کی فراہمی میں مدد کی ہے۔

ارباب اختیار یہ بھول جاتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بعد ہر بار ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آتا ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہے۔ متوسط طبقہ جو روکھی سوکھی کھا کر اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھے ہوئے تھا۔ بجلی کے بلوں کے ہاتھوں رسوا ہو رہا ہے۔ متوسط طبقے کو بجلی کے بلوں نے زمین پر یوں پٹخ مارا ہے جیسے اکھاڑے میں ایک پہلوان دوسرے پہلوان کو مارتا ہے۔ ماہرین معاشیات کی جانب سے بارہا انتباہ کیے جانے کے باوجود حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور تا دم تحریر حکمرانوں کے اللے تللے جاری ہیں اور قوی امید ہے کی جاری رہیں گے اور ملک یوں ہی قرضوں کی دلدل میں دھنسا رہے گا۔

Facebook Comments HS