بس اب اور نہیں


قانون قدرت ہے کہ جب کوئی چیز انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اس کی واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ شاید پاکستانی معاشرہ بھی اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ اب انتہا پسندی کی مزید گنجائش باقی نہیں رہی بالکل اسی طرح کہ جب کوئی زہر یا ضرورت سے زیادہ ڈوز مل جائے تو اس کے مضر اثرات کو ختم کرنے کے لیے انٹی ڈوٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

مفتی طارق مسعود کی قرآن پاک کے متن میں نعوذ باللہ اغلاط کی نشاندہی اور پھر اس گستاخی پر پھٹکار کے بعد توبہ۔ معافی اور رجوع کے ڈرامے کے بعد لوگوں کے ذہن میں سوالات ابھرنا شروع ہوچکے ہیں کہ توبہ اور معافی ان تمام لوگوں کے لیے کیوں نہیں روا رکھی گئی جنہیں بغیر صفائی کا موقع دیے نہ صرف سفاکی سے قتل کر دیا گیا بلکہ ان کی نعشوں کی بھی بے حرمتی کی گئی۔ آج مفتی مسعود کی توبہ اور رجوع کی حمایت میں مختلف علما اور خطیب دلائل اور روایات پیش کر رہے ہیں جبکہ یہی علماء ان تمام افراد کو جو اسی قسم کے ”الزامات“ کے نتیجے میں مار دیے گئے ان کی کسی معافی اور توبہ کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور وہ سب بلاسفیمی کی بس ایک ہی سزا پر متفق تھے کہ توہین کی سزا سر تن سے جدا کے سوا کچھ نہیں۔ کسی کو سات سال سے قید پروفیسر جنید حفیظ کیوں نہیں یاد آتا۔ کوئی عدالت ایسی تو ہو جو اس کا کیس ہی سن لے کوئی وکیل تو اسے ملے جو اس کے موقف کی پیروی کرے۔ ایک جرات مند وکیل نے جنید کا کیس لیا تو اسے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ ایسے نجانے کتنے اور جنید حفیظ جیل کی کال کوٹھریوں میں بے یار و مددگار بغیر وکیل انصاف کے منظر ہوں گے ۔ عدالتیں خود خوف کا شکار ہیں اور وہ تاریخ پر تاریخ دیتی رہتی ہیں۔

جج حضرات مصلحت اور وکلا خوف اور ملنے والی دھمکیوں کے باعث بلاسفیمی کے ملزمان کا کیس نہیں لیتے اور ملزم اپنی صفائی بھی پیش نہیں کر پاتا اور ”انصاف“ کی کوئی امید بھی نظر نہیں آتی یہی نہیں وہ معاشرے کی نگاہوں میں بھی کہیں کا نہیں رہتا اور اس کے اہل خاندان بھی معتوب ٹھہرتے ہیں۔ توہین مذہب کی کوئی بھی قسم ہو اس کی ہمارے معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں اور کوئی بھی اس کی وکالت یا تائید نہیں کر سکتا۔ ملک کی اکثریت مسلمان ہے اور وہ کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ لیکن یہ کیا کہ آج جب ان علماء اور مفتیان کا ایک پیٹی بھائی ایسی ہی گستاخی کا مرتکب ہوا ہے تو انہیں تمام تاویلیں اور روایات یاد آ گئیں۔ علماء کے اس دوہرے معیار پر سوچنے والے بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہیں۔

شاید بہت ہو چکا۔ بس اب اور نہیں۔ ملک میں بڑھتی انتہا پسندی کے خلاف سندھ سے ہوا کا ایک تازہ جھونکا آیا جو یقیناً خوش آئند ہے۔ چند روز قبل امر کوٹ میں ڈاکٹر شاہنواز کو بلاسفیمی کے الزام میں پولیس کسٹڈی میں قتل کر دیا گیا۔ اس جرم میں ملوث اہلکاروں کو چند سیاسی اور مذہبی افراد نے پھولوں کے ہار پہنائے اور مقتول کی لاش کو دفن کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی اور نہ ہی کسی مولوی نے جنازہ پڑھانے کی حامی بھری۔ ایسے میں ایک ہندو جوان پریمو کولہی جرات سے کام لیتے ہوئے ڈاکٹر شاہنواز کی لاش لے بھاگا اور سلام ہے اس مسجد کے امام کو کہ جس نے مقتول کی نماز جنازہ پڑھائی۔ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے اور وہ انتہا پسند نہیں۔ اس واقعہ پر سندھ کے لوگ قابل تحسین ہیں کہ انہوں نے انتہا پسندی کے خلاف موثر آواز اٹھائی۔ مظاہرے کئیے اور جلوس نکالے صرف مرد ہی نہیں خواتین اور بچیاں بھی گھروں سے نکل آئیں۔ شاید یہ ایک پیغام ہے کہ۔ بس اب اور نہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب جہاں اس قسم کے متعدد واقعات ہوتے رہے ہیں۔ اکثر شدت پسندوں کے گروہ اور انتہا پسندوں کے ٹھکانے بھی وہیں ہیں۔ کیا کبھی پنجاب بھی سندھ کی طرح اٹھ کھڑا ہو گا۔ کیا وہاں سے کوئی تحریک شروع ہو سکے گی جو اس قسم کے واقعات کی روک تھام کرسکے۔ کیا پنجاب سے بھی کوئی آواز اٹھے گی کہ۔ بس اب اور نہیں؟

Facebook Comments HS