اپنے بچوں کو کامیاب ضرور بنائیں مگر۔ ۔ ۔ مکمل کالم


کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کہ میں سچ مچ کا دانشور بن جاؤں، یعنی ایسا شخص جو ہر معاملے پر اپنی دو ٹوک رائے رکھتا ہے، اُس کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے اور لوگ اُس سے یوں گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ ولی اللہ قسم کی کوئی چیز ہو۔ بظاہر یہ مقامِ معرفت حاصل کرنا بہت مشکل ہے مگر یار لوگوں نے اِس کا ایک آسان حل تلاش کر رکھا ہے اور وہ یہ کہ خود ہی اپنے آپ کو دانشور کہنا شروع کردو، دیکھا دیکھی لوگ بھی کہنے لگیں گے۔

اِس معاملے میں رہی سہی کسر میڈیا نے پوری کردی ہے، ایسے مبینہ دانشور کو جب ٹی وی مذاکرے میں مدعو کیا جاتا ہے تو میزبان کا معاون پوچھتا ہے کہ سر آپ کا تعارف کیا لکھنا ہے (یعنی بلانے والے کو بھی وجہ شہرت معلوم نہیں ہوتی) تو جواب میں دانشور صاحب فرماتے ہیں کہ یار سینئر تجزیہ کار slash (/) دانشور لکھ دینا۔ یہ تمہید اِس باندھنی پڑی کہ آج میں بھی کسی دانشور کی طرح آپ کو بتاؤں گا کہ دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے اور وہ کیسے کرنا چاہیے۔

میں نہیں جانتا کہ آپ کے ذہن میں مشکل ترین کاموں کی کیا ترتیب ہے، مگر جس کام کو میں سب سے مشکل سمجھتا ہوں اُس پر ہم سب سے کم توجہ دیتے ہیں اور اسے انجام دینے کے لیے کسی کالج یا یونیورسٹی سے سند لینے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ یہ کام ہے اولاد کی پرورش۔ میں نے آج تک نہیں سنا کہ کسی ماں یا باپ نے اولاد کی پرورش کا طریقہ سیکھنے کے لیے کوئی تربیتی کورس کیا ہو۔ اولاد پیدا کرنے کا تو کورس ہوتا ہے مگر اُن کی تربیت کا شاید کوئی کورس موجود نہیں، اور پھر والدین اپنی اولاد کی تربیت کو بہرحال کوئی ایسا اہم کام نہیں سمجھتے جس کے لیے وہ محسوس کریں کہ پہلے اُن کی اپنی تربیت ہونی چاہیے۔

ممکن ہے آپ میں سے کچھ والدین کو یہ بات درست نہ لگے کیونکہ بظاہر ہم اپنے بچوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اُن کا مہنگے اسکولوں میں داخلہ کرواتے ہیں، قرض لے کر انہیں باہر بھجواتے ہیں، پلاٹ بیچ کر اُن کی شادیاں کرتے ہیں اور پھر آگے سے اُن کے بچوں کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ مگر کیا واقعی یہ سب کچھ اولاد کی تربیت کا حصہ ہے؟ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ بچوں کی پرورش جتنا کٹھن کام ہے اتنی ہی کم ہم اِس پر توجہ دیتے ہیں۔

تربیت کے نام پر والدین انہیں سکھاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں، سو نماز پڑھو، روزہ رکھو، پردہ کرو مگر ہمارے اجتماعات اور شادیوں میں دکھاوا اور مادیت پرستی دیکھ کر بچے الجھ جاتے ہیں، اِس کے بعد ہم اُن سے کیا توقع رکھیں؟ ہم اسکولوں، کالجوں میں بچوں کا داخلہ تو کروا دیتے ہیں مگر اُس کے بعد وہ فقط نوکری کے متلاشی بن کر رہ جاتے ہیں۔ اُن کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے مگر اُن کی اکثریت تنقیدی شعور سے عاری رہ جاتی ہے۔

والدین اور اساتذہ بچوں کو کتابیں پڑھنے کی ترغیب نہیں دیتے، جبکہ مطالعہ انسانی ذہن کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اِس سے مخالف نقطہ نظر کو سمجھنے اور قبول کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے، ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی کی ایک وجہ کتاب سے دوری بھی ہے۔ یہاں کچھ ذکر نصابی کتب کا بھی ہو جائے، ہمارے زمانے میں (مجھے اِس طرح جملہ شروع کرتے ہوئے کوفت ہوتی ہے لیکن یہاں مجبوری ہے ) انٹر میڈیٹ کی اردو کتاب کا نام مرقع ادب تھا، اب بھی یہی ہے، میں نے موجودہ مرقع ادب دیکھی ہے اور میری رائے میں اُس میں مضامین کا انتخاب بہت عمدہ ہے، ہمیں ادب کی جو لَت پڑی وہ مرقع ادب سے ہی پڑی، اور اُس میں بہت بڑا کردار اسکول اور کالج کے اتالیق کا تھا۔

نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ مرقع ادب ہونے کے باوجود اب طلبا میں ادب کا رجحان پیدا نہیں ہو رہا اور اُس کی واحد وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ بچوں کی تربیت اب والدین اور اتالیق کم، جبکہ میڈیا زیادہ کرتا ہے۔ میڈیا نے استاد کی جگہ سنبھال لی ہے، اب جو کچھ ہم ٹی وی پر دیکھتے ہیں وہی ہماری اقدار ہیں، موبائل فون کے اشتہارات ہوں یا ٹاک شوز میں بدکلامی، بچوں کی تربیت کا ذریعہ یہی ہے۔ والدین کا کردار گھٹتے گھٹتے تقریباٴ ختم ہو چکا ہے، وہ اپنے بچوں کو سکول بھیج کر مطمئن ہو جاتے ہیں اور اُس کے بعد اُن کی اکیڈمیوں اور ٹیوشن سینٹروں کی بھاری فیسیں ادا کر کے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اولاد سے محبت کا حق ادا کر دیا، اُس کے بعد وہ ہوتے ہیں اور اُن کا ٹی وی، جو دیکھتے دیکھتے وہ سو جاتے ہیں۔ لو جی ہو گئی تربیت۔

میری طرح کے چند دانشوروں کا یہ بھی خیال ہے کہ بچوں کو شروع سے ہی فنانشل منیجمنٹ کی تربیت دینی چاہیے اور کاروبار کی عادت ڈالنی چاہیے تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں، انہیں سرکاری دفاتر میں بھیجنا چاہیے تاکہ انہیں اندازہ ہو سکے کہ اِس ملک میں وہ شخص کیسے ذلیل ہوتا ہے جس کی کوئی سفارش نہ ہو، انہیں کسی اجنبی شہر میں چند دن اکیلے گزارنے کے لیے بھیجنا چاہیے تاکہ وہ لوگوں سے مل جُل کر دیکھیں کہ عام آدمی کیسے سوچتا ہے۔

یہ تمام باتیں درست ہیں، خود میں بھی اِن پر عمل کرتا ہوں لیکن اِن سب سے بڑھ کر اخلاقی تربیت ہے جس کی طرف کوئی توجہ نہیں بلکہ اُلٹا اکثر والدین اپنے بچوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ چونکہ اِن ملک میں کوئی قانون قاعدہ نہیں لہذا اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ آزمانا چاہیے، اِس تکلف میں پڑے بغیر کہ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز! جس سختی سے ہم حلال گوشت کھانے کی ترغیب دیتے ہیں اُس سختی سے اگر ہم نے حلال دولت کمانے کی ترغیب دی ہوتی تو آج قوم کا یہ حال نہ ہوتا۔

ایک مفروضہ ہم نے یہ بھی قائم کر رکھا ہے کہ ہماری قوم اِس قدر بگڑ چکی ہے کہ اب اِس کے سدھرنے کی کوئی صورت نہیں، بلکہ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ شاید ہم میں کوئی جینیاتی نقص ہے، ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں نے جینیات کا فقط نام ہی سنا ہے انہیں اِس کے ہجے بھی نہیں معلوم۔ کوئی بھی قوم اعلیٰ یا پست نہیں ہوتی، اُس کے افراد ماں کے پیٹ سے سب کچھ سیکھ کر پیدا نہیں ہوتے۔ ایک سال کے بچے میں دنیا کو جاننے کے حوالے سے جتنا تجسس پایا جاتا ہے، کسی بڑے میں اُس کا عشر عشیر بھی نظر نہیں آتا۔

بڑھتے ہوئے بچوں کو جو سکھایا جاتا ہے وہ سیکھ جاتے ہیں، ہم نے اپنے بچوں کو جو کچھ سکھایا اسی قسم کی قوم بن گئی۔ اگر ہم انہیں آئین اور قانون کی عملداری سبق سکھاتے تو وہ یہ سبق بھی سیکھ جاتے لیکن ہمارے تعلیمی اداروں میں یونین پر پابندی ہے، گویا سیاست کو جرم بنا دیا گیا ہے، اور آئین اور قانون کی حرمت کے بارے میں کوئی سبق کم ازکم میری نظر سے تو نہیں گزرا اور نہ ہی ہمارے گھروں میں اِس پر گفتگو ہوتی ہے، ہماری گفتگو تو محض اِس بات کے گرد گھومتی ہے کہ شادی بیاہ میں کون سا جوڑا پہننا ہے اور کس ماڈل کی گاڑی خرید کر شریکوں کو متاثر کرنا ہے۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ اِن کاموں میں ہمارا کوئی ثانی نہیں کیونکہ یہ کام ہمیں بچپن سے سکھائے جاتے ہیں، اِس کے برعکس اگر کوئی ڈھنگ کی بات سکھا دی جاتی تو یہی بگڑی ہوئی قوم وہ بات بھی سیکھ لیتی اور سدھر جاتی۔ افسوس اِس بات کا نہیں کہ ہم کچھ سیکھ نہیں سکے، ماتم اِس بات کا ہے کہ اپنے بچوں کو بھی نہیں سکھانا چاہتے۔ اخلاقی تربیت نہ کسی فرد کے ایجنڈے پر ہے اور نہ اجتماعی طور پر ہمارے ریڈار پر ہے، کامیابی کا معیار قومی سطح پر معیشت کی بحالی ہے اور انفرادی سطح پر دولت کمانا۔ اِن دونوں باتوں میں کوئی مضائقہ نہیں، ہمیں اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنے کی تمنا ضرور کرنی چاہیے مگر اُن کی اخلاقی تربیت پر سمجھوتہ کر کے نہیں، بس اتنی سی گزارش ہے۔

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada