مخصوص نشستیں اور الیکشن کمیشن


قومی سیاست میں اس وقت ایک بڑا نقطہ حکومت، حزب اختلاف، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے درمیان قومی و صوبائی اسمبلیوں کی سطح پر مخصوص نشستوں کی تقسیم کا ہے۔ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کی جانب سے مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کے حق میں تفصیلی فیصلہ میں یہ بات واضح طور پر کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں کو تسلیم کرے، اس کا فوری نوٹیفیکیشن جاری کرے۔ عدالت کی جانب سے دیے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے یکم مارچ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، یہ فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔

تفصیلی فیصلہ میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کو بھی کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ اسی فیصلہ میں لکھا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن بطور آئینی ادارہ ملک میں 8 فروری 2024 کو اپنا منصفانہ اور شفاف کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے اس تفصیلی فیصلہ پر عمل درآمد کرنے سے انکار کیا ہے۔ ایک بار پھر الیکشن کمیشن نے اپنے کئی اجلاسوں کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اس فیصلے کی تفصیلی وضاحت دے۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے رائے مانگی ہے کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم اور پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کی روشنی میں الیکشن کمیشن کو کس پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ایک طرف حکومت پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کی مخالف ہے اور اس کی سیاسی سمجھ بھی آتی ہے کیونکہ حکومت ان مخصوص نشستوں کی بنیاد پر اپنی پارلیمانی اور اقتدار کی سیاست کو مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ اسی مخصوص نشستوں کی بنیاد پر حکومت دو تہائی اکثریت یقینی بنا کر اہم قانون سازی کی طرف بھی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ نشستیں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر پی ٹی آئی کو ملتی ہیں تو حکومت کی سیاسی پوزیشن پارلیمانی سیاست میں کمزور ہوگی اور پی ٹی آئی کو سیاسی برتری حاصل ہوگی۔

حکومت کا موقف قانونی سے زیادہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اس میں وہ ریاستی اداروں کو اپنے حق میں استعمال کر کے سیاسی برتری چاہتی ہے۔ لیکن مسئلہ الیکشن کمیشن کا ہے۔ کیونکہ یہ ایک آئینی سطح کا ادارہ ہے اور اس کی حیثیت سیاسی کے مقابلہ میں قانونی یا آئینی نوعیت کی ہے۔ اس لیے سپریم کورٹ کا سیاسی مسائل کے ساتھ خود کو جوڑنا یا کسی کے حق یا مخالفت میں سیاسی پوزیشن لینا درست عمل نہیں۔ اصولی طور پر الیکشن کمیشن ایک آئینی اور خود مختار ادارہ ہے اور اسے ملک میں موجود سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے فل کورٹ فیصلہ پر عمل کرنا چاہیے اور یہ کہنا کہ ہم اس فیصلہ پر عمل نہیں کریں گے تو براہ راست

یہ عمل تصادم کے ماحول کو پیدا کرے گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر تنقید بھی ہو سکتی ہے مگر ان فیصلوں کو تسلیم نہ کرنے کا عمل ریاستی نظامیں ٹکراؤ کو بھی پیدا کرے گا اور نئے تنازعات کو بھی جنم دے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے مخصوص نشستوں پر مزید وضاحت مانگی ہے۔ مسئلہ وضاحت کا ہے یا مخصوص نشستیں نہ دینے کا ہے اور اس معاملہ میں الیکشن کمیشن مزید تاخیری حربے اختیار کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ میں وہ تمام وضاحتیں موجود ہیں جو الیکشن کمیشن کو درکار ہیں۔ اس لیے الیکشن کمیشن کی یہ نئی وضاحتی مشق وقت کا بھی ضیاع ہے۔ کیونکہ مخصوص نشستوں پر جو تفصیلی فیصلہ آیا ہے وہ فل بنچ کا ہے اور اس فیصلہ کی وضاحت بھی یہ ہی بنچ دے گا، نئے بنچ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اسی طرح جن پانچ ججوں نے اختلافی نوٹ لکھا ہے اس میں سے بھی تین ججوں نے الیکشن کمیشن کے مجموعی کردار اور مخصوص نشستوں پر کمیشن کے فیصلے پر تنقید کی ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ کمیشن کے فیصلوں میں سیاسی رنگ غالب ہے۔

یہ بات سمجھنی ہوگی کہ الیکشن کمیشن پر پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر تنقید ہو رہی ہے اور مسلسل الیکشن کمیشن کے اقدامات کو سیاسی فیصلوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے میں بہتر حل تو یہ ہی تھا کہ الیکشن کمیشن مخصوص نشستوں پر خود کو فریق بنانے یا پارٹی بننے سے گریز کرتا اور کہتا کہ جو بھی فیصلہ سپریم کورٹ کا آیا ہے ہم اس پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہیں۔ اس فیصلے کی سیاسی حرکیات کیا ہیں اور مزید کیا رونما ہوں گی اس کو حکومت اور حزب اختلاف کی سیاست تک محدود کرتا تو خود الیکشن کمیشن کی ساکھ بہتر ہوتی۔

لیکن اب ایسے لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے خود کو عملی طور پر حکومت کے ساتھ کھڑا کر لیا ہے اور یہ دونوں سیاسی و آئینی ادارہ مل کر مخصوص نشستوں کے فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے تیار نہیں۔ جہاں تک حکومت اور پارلیمنٹ کا تعلق ہے تو وہ اگر سیاسی پوزیشن لینا چاہتی ہے تو یہ اس کا حق ہے مگر اس سیاسی فیصلہ سے الیکشن کمیشن کو خود کو مکمل طور پر فاصلے پر ہی رکھنا چاہیے تاکہ ادارہ سیاست کی بھینٹ نہ چڑھے۔ پی ٹی آئی کو بطور سیاسی جماعت یا پارلیمانی جماعت کے طور پر سپریم کورٹ نے تسلیم کر لیا ہے تو بات یہاں ختم ہونی چاہیے تھی۔ لیکن لگتا ہے کہ یہاں قانون و آئین سے زیادہ سیاسی مفاد یا سیاسی انا کو بالادستی حاصل ہے اور یہ ہی عمل سیاسی تقسیم میں سیاسی انتشار اور بداعتمادی یا ٹکراؤ کے ماحول کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

الیکشن کمیشن کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ خود حکومت کی پوزیشن سیاسی نوعیت اور پی ٹی آئی مخالفت کی بنیاد پر قائم ہے۔ اگر سپریم کورٹ اپنے تفصیلی فیصلہ کے بعد الیکشن کمیشن کی وضاحت پر پھر وہی فیصلہ دیتا ہے تو الیکشن کمیشن کہاں کھڑا ہو گا اور اگر الیکشن کمیشن پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو نہ مان کر عدالت ان پر توہین عدالت لگاتی ہے تو خود الیکشن کمیشن کہاں کھڑا ہو گا۔ یہ سمجھنا کہ الیکشن کمیشن پر اگر کوئی مشکل وقت آتا ہے یا توہین عدالت ان پر لگتی ہے تو حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہوگی، ممکن نہیں۔

حکومت کے فیصلوں کی بنیاد سیاسی ہوتی ہے اور اگر اسے لگے گا کہ الیکشن کمیشن پر کوئی برا وقت آیا تو وہ ان کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے کوئی نیا سیاسی راستہ تلاش کر کے الیکشن کمیشن کو تنہا چھوڑ دے گا۔ جہاں تک الیکشن کمیشن کی یہ منطق ہے کہ اگر ہم نے 14 ستمبر کے عدالتی حکم پر عملدرآمد کیا تو وہ پارلیمنٹ کے قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ سوال یہ بنتا ہے کہ اگر پارلیمنٹ کے قانون کی خلاف ورزی ہوگی تو اس کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ خود کرے نہ کہ سارا بوجھ الیکشن کمیشن پر ڈالا جائے یا وہ خود اس بوجھ کو بطور الیکشن کمیشن اپنے اوپر ڈال لیں۔

جہاں تک مخصوص نشستوں کا تعلق ہے تو اس کا سیاسی جائزہ لیں تو یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ان مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی یا جے یو آئی یا ایم کیو ایم کا کیسے حق ہے۔ سب سیاسی طور پر جانتے بھی ہیں اور تسلیم بھی کرتے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں جو لوگ آزاد جیتے ہیں ان کی حیثیت آزاد امیدوار کی نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی تھی۔ یہ لوگ مقامی سطح پر پی ٹی آئی کے ساتھ تھے اور ان ہی لوگوں کے ناموں کا اعلان پی ٹی آئی نے اپنے امیدوار کے طور پر کیا اور ان ہی کے آزاد انتخابی نشان کی سیاسی طور پر تشریح بھی کی۔

اسی طرح اتنی بڑی تعداد میں جیتنے والے یہ آزاد امیدوار آج بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہی کھڑے ہیں اور پی ٹی آئی کو ہی اپنی سیاسی جماعت سمجھتے ہیں۔ آج جب حکومت ہو یا الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو ان کی مخصوص نشستیں دینے سے انکاری ہیں تو اس کی وجہ سوائے سیاست یا سیاسی مخاصمت کے اور کچھ نظر نہیں آتی اور یہ عمل سیاست میں مزید تقسیم بھی پیدا کر رہا ہے اور سیاسی انتشار کو بھی بن گلی میں دھکیل رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ حکومت، الیکشن کمیشن کے درمیان پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ کے بعد اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

سپریم کورٹ کیا الیکشن کمیشن کے تناظر میں توہین عدالت کی طرف بڑھے گی یا دوبارہ وضاحت دے کر کمیشن کو پابند کرے گی کہ وہ پی ٹی آئی کی مخصوص نشستوں پر نوٹیفیکیشن کو جاری کرے۔ لیکن اس سارے کھیل یا محاذ آرائی یا ٹکراؤ کی سیاست میں سوائے ہم نے اپنے سیاسی، ریاستی، آئینی و قانونی اداروں کی ساکھ کو خراب کرنے کے اور کیا کیا ہے۔ ہم آج بھی خود کو تماشے کی سیاست سے باہر نکالنے کے لیے تیار نہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی سیاسی سطح پر اس طرح کے تماشوں سے ہمارا سیاسی، معاشی استحکام اور آئین و قانون کی حکمرانی کا تصور اور زیادہ خراب ہو گا۔

Facebook Comments HS