جنوبی پنجاب کی دو یونیورسٹیاں

دنیا کو ”ورلڈ یونیورسٹیاں“ درکار ہیں جو عملی مظاہرے کی دانش گاہیں ہوں اور تنقیدی سوچ کی آماج گاہیں ہوں۔
میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کو ایک دہائی سے آسیب کے سایوں میں دیکھ رہا ہوں، میں وائس چانسلر خواجہ علقمہ جیسی جہاندیدہ شخصیت اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان ”ثالثی“ پر بھی اترا۔ عبداللہ سنبل اس وقت سیکرٹری تھے اور ان کی شدید خواہش تھی علقمہ صاحب معاملات کو اصولی اور سیدھی ڈگر پر لے آئیں۔ ایک ملاقات میں، میں نے علقمہ صاحب کو اس وقت کے بی زیڈ یو کے سو کالڈ لاہور کیمپس کے سربراہ میاں منیر کی موجودگی میں کہا تھا ( ایک گواہ موجود ہے ) ”آپ میاں منیر اور ڈاکٹر اکرم چوہدری میاں جاوید مالک یو او ایس لاہور کے سبب سلاخوں کے پیچھے جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اور بدقسمتی سے یہ ہی ہوا۔ اکثر پروفیسر جب وی سی ہو جائیں تو وہ پروفیسر کم ہی رہتے ہیں، یکا یک شہنشاہیت کا ایکو سسٹم ہاتھ لگ جانے اور ماضی میں ایسی تاب کا تجربہ نہ رکھنے کی بنیاد پر پروفیسر“ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا ”کے مصداق کھاتے کھول لیتا ہے۔ بتاتا چلوں کہ آج تک میں نے وائس چانسلروں کی صف میں ڈاکٹر اکرم چوہدری اور ڈاکٹر طاہر امین سا لیجنڈ اور اسکالر نہیں دیکھا۔
ڈاکٹر طاہر امین ڈاکٹر علقمہ کے بعد ریگولر وائس چانسلر تھے۔ یوں ڈاکٹر علقمہ اور ڈاکٹر منصور کنڈی سے پہلے اور بعد میں سرکار نے ایڈہاک ازم پر چلا چلا کر اور ”غیر مستقل و غیر مستحکم“ وائس چانسلرز دے دے کر ذوالفقار علی بھٹو کے خواب اور اس کی بنائی گئی جامعہ کو تہہ تیغ ہی رکھا۔ ملتان کے بڑے سیاستدانوں میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی خدمات بھی ضائع گئیں کہ اندر سے کوئی قدر دان نہ ملا۔ ڈاکٹر علقمہ اور ڈاکٹر طاہر امین سے یوسف رضا گیلانی کی خدمات کا تذکرہ سن چکا ہوں۔ مختصراً یہ کہ تختِ لاہور کو کل اور آج بھی پنجاب یونیورسٹی کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آیا! (آج بی زیڈ یو کی داخلی مرثیہ گوئی کو نہیں چھیڑنا)
بھلے ہی بی زیڈ یو بھنور سے نکل کر انٹرنیشنلائزیش، انٹرپرنیورشپ، کنسورشیم ڈویلپمنٹ، انڈسٹریل لنکس، اپلائیڈ تحقیق، سودمند آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور لینگویجز کی حقانیت تک نہیں پہنچی لیکن گرانٹس اور تاریخی اسکالر شپس فراہم کرنے کے لئے کوئی گیلانی تو دستیاب ہوا لیکن لگتا ہے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے لئے نواب صاحب وہ فرض کفایہ ادا کر گئے کہ بعد میں آنے والی لیڈرشپ جمال والی ہوئی یا کمال والی وہ اپنی یونیورسٹی کے لئے گیلانی صاحب نہ بن سکی! اور شاید جنوبی پنجاب کی عظیم درس گاہ ہونے کے سبب وہ تختِ لاہور کے ریڈار سے لاکھوں میل دور ہے۔
عشق میں بھی سیاستیں نکلیں
قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا
بہاولپور کے ان سیاست دانوں کا ذکرِ خیر نہیں کروں گا جو اپنے شریکے کی لڑائی میں روز اسلام آباد کی ”پارلیمانی کمیٹی برائے استحقاق“ میں سابق قیادت کو بلائے رکھتے۔ میں شہرہ آفاق سکینڈل کی بھی بات نہیں کروں گا کہ جس میں گھر کو آگ لگی گھر ہی کے چراغ سے۔
بہاولپور تو دور ہے تختِ لاہور کی ناک تلے گجرات یونیورسٹی ہے اس کے لئے دوربین اور خوردبین کا فقدان ہے میرے لاہور میں۔ ڈاکٹر نظام کی وہ یونیورسٹی جو ابتدائی دنوں ہی میں یونیورسٹی کی تعریف پر پوری اتری اس کو تخت لاہور نے اپنے ہاتھوں سے تختہ دار پر چڑھا دیا۔ عالم یہ ہے کہ پچھلے دنوں وزیر اعظم آفس میں، میں نے ایک وفاقی شخصیت کو کہا گجرات کا چکر لگائیں تو جواب دوستی میں سیدھا ملا کہ ”گجرات میں چوہدریوں کی مرضی کے بغیر جانے اجازت نہیں“ ۔
رولے، بازگشت، چرچے، محبتیں اور پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں تو وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سے گورنر ہاؤس تک صرف پنجاب یونیورسٹی کے لئے، میڈیا، بلاگر، نامور دانشور، پریس کانفرنسیں ہیں تو پنجاب یونیورسٹی کے تناظر میں۔ بہاولپور کی عظیم یونیورسٹی جو سٹیٹس کو سے نکل کر ، یونیورسٹی کی خودمختاری پر فرنٹ فٹ پر کھیل کر پنجاب یونیورسٹی سے بڑا کر دیا تو اس قیادت کو ایچ ای ڈی سے سی ایم آئی ٹی اور وزرائے اعلیٰ اور نام نہاد ماہرین نے اپنے ہاتھوں سے پھانسی دی۔
ہمارے پیارے اور ہردلعزیز حفیظ اللہ نیازی کا ولولہ پنجاب یونیورسٹی سے شروع ہوتا ہے پنجاب یونیورسٹی پر ختم۔ نیازی صاحب نے سرگودھا یونیورسٹی کا ممبر سنڈیکیٹ بن کر اس کے لئے تو کبھی پیچ و تاب نہیں کھائے تھے، کبھی کوئی ولاگ کیا تھا؟ ساری جامعات کے لئے کیا؟
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا وی سی چُن کر ، اسے ہی پنجاب یونیورسٹی میں پینل نمبر دو پر رکھ کر بعد میں ”خفیہ رپورٹ“ سے ذبح کر دیا حالانکہ وہ اعلیٰ اعصاب اور وسیع تجربہ والا اسکالر ہے، اس نے یونیورسٹی آف بلتستان کو قانوناً اور اصولاً چلا کر دکھایا خود مختاری کا علم اٹھا کر صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے علاوہ مرکزی حکومت اور وفاقی بیوروکریسی سے یونیورسٹی کی خاطر لڑا لیکن اس مردِ آہن کو اس کی انڈیپنڈنٹ سوچ کی سزا کہاں کہاں نہ دی گئی، سٹیس کو کے تعلیمی و سیاسی مریضوں نے کیا نکالا؟ میں سمجھتا ہوں نکالنے والوں کا خود حسد سنڈروم ہی نکلا۔ کل بھی اور آج بھی! کیا کرپشن پکڑی؟ کیا منی لانڈرنگ پکڑی گئی؟ کون سے ایون فیلڈ والے پلاٹ پکڑے گئے۔ خفیہ والوں کی رپورٹس اور انکوائریاں تو وزرائے اعلیٰ سے وزیر اعظم تک فائلوں کی زینت ہیں۔ یہ شخص کہاں سے سزا یافتہ تھا۔ پھر کوئی نیا بھی نہ لگایا۔ پنجاب یونیورسٹی کے علاوہ بہاولپور کے لئے کسی 105 کا اطلاق کیوں نہیں؟ شکر ہے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کو ایک مستقل وی سی مل گیا، جس کے لئے متذکرہ تاریخ کا صریر خامہ پیش کیا۔ اب وہ سوچیں اپنی یونیورسٹی کو آسیب کے سایوں سے کیسے نکالنا ہے؟ وہ لیڈر بنیں تو برکت ہو گی۔
قصہ مختصر، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا پنجاب یونیورسٹی سے کوسوں آگے نکلنے کی حقیقت صرف ایک اچھی جامعاتی قیادت اور کسی گیلانی لیول وزیر اعظم کی نہ سہی ایک مقامی ایم این اے کی دسترس کی دوری پر ہے۔

