چین کے کامیاب 75 سال اور چین کا سیاسی نظام
یکم اکتوبر 2024 کو عوامی جمہوریہ چین اپنے قیام کی پچھترویں سالگرہ منا رہا ہے۔ کسی بھی ملک کی تاریخ میں اس کے گزرتے سال انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ زندہ قومیں ہر گزرتے لمحے اور گزرتے سال کے ساتھ یہ سوچتی ہیں کہ ہم نے کیا حاصل کیا؟ دنیا میں ہمارا کیا مقام ہے؟ عالمی دنیا ہمیں کس نظر سے سیکھتی ہے اور دنیا کے بہتر مستقبل کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کی تاریخ اور اس خطے کی تہذیب کی بات کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ اس خطے کی تہذیب 5 ہزار سال سے زائد ہے۔
چین میں شاہی خاندانوں کی بادشاہت کے قدیم اور طویل ادوار ہیں جہاں کسی بھی معاشرے کی تمام ضروریات نے نمو پائی ہے لیکن موجودہ عوامی جمہوریہ چین کی تاریخ کی بات کی جائے تو اس کے نظام حکومت میں ایک بڑی تبدیلی 75 سال پہلے کا وہ عظیم دن ہے جب ایک نئے چین کی بنیاد رکھی گئی اور اس قوم نے عزم و ہمت کی تاریخ رقم کرنا شروع کی۔ ان 75 سالوں کے دوران، چین متعدد بڑی تبدیلیوں سے گزرا ہے اور مختلف شعبوں میں اس نے ترقی کے نئے ماڈلز اپنائے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو غریب تھا، جس کی آبادی اور وسائل میں تناسب نہیں تھا اور جو ایک نئے معاشی ماڈل کو اپنا کر اپنے مسائل حل کرنے چلا تھا، آج دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟
کئی ماہرین کا خیال ہے کہ چین کی کامیابی کے رازوں میں سے ایک راز اس کا منفرد سیاسی نظام ہے جس کی بنیاد چین کی اعلی ترین ریاستی اتھارٹی نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) ہے۔ ستمبر 1954 میں اپنے پہلے اجلاس کے بعد سے آج یہ کانگریس چین میں ہونے والی ہر سطح کی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے ضروری قانون سازی کرنا اور پیش رفت کے ساتھ رفتار برقرار رکھنے کے لیے موجودہ قوانین کو اپ ڈیٹ کرنا شامل ہے۔
چین کے اس نظام کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جو اپنی خصوصیات کے ساتھ چین میں ہی پروان چڑھا ہے۔ اسے ایک ایسا نظام بھی کہہ سکتے ہیں جو اپنی معاشرتی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ اب ایک نئے انداز میں وجود میں آیا ہے اس لئے اس کی موجودہ دور میں کامیابیوں اور اسے اپنانے کے حوالے سے اب کئی انداز میں بات بھی ہو رہی ہے۔
چین کی معیشت کی بات کی جائے تو چین نے اپنی قومی معیشت میں تاریخی پیش رفت کی ہے اور مینوفیکچرنگ اور تجارت میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ چین کی معیشت کی خاص بات اس کا کسی ایک جہت پر انحصار نہ کرنا بھی ہے۔ مینوفیکچرنگ کی تو پوری دنیا ہی معترف ہے لیکن اب اس میں زراعت سمیت خدمات کی صنعت نے بھی بے پناہ ترقی حاصل کر لی ہے۔ زراعت اور خدمات پر مشتمل معیشت چین کی معیشت کو مینوفیکچرنگ کے ساتھ مل کر دنیا میں ممتاز رکھے ہوئے ہے اور مسلسل کئی سالوں سے اس نے عالمی اقتصادی ترقی میں 30 فیصد سے زیادہ کا تعاون کیا ہے۔
اس سیاسی نظام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری اور طلب اور رسد کے تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ رکھتا ہے اور یوں ملک کی معیشت کے لئے کیے جانے والے فیصلوں کو بروقت بحث کے بعد نافذ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے جس سے چین کی معیشت کی رفتار سست نہیں ہوتی۔ اس کی ایک مثال چین کی بیسویں کانگریس کا تیسرا کل رکنی حالیہ اجلاس ہے۔ اس اجلاس کی ماضی سے مناسبت ہی یہ ہے کہ اس اجلاس کو چین میں کھلے پن کے اقدامات کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ اب تقریباً یہ پانچویں دہائی ہے جب چین میں کھلے پن کی پالیسی پر عمل در آمد ہو رہا ہے لیکن اس اجلاس میں اب بھی ملک بھر میں کھلے پن کی موجودہ پالیسیوں اور دنیا کے نئے تصورات اور پالیسیوں کو سامنے رکھ کر مستقبل کے فیصلے کیے گئے ہیں۔
سی پی سی کے جنرل سیکٹری اور چین کے صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں چین نے حالیہ کچھ دہائیوں میں جس انداز میں جدیدیت اور تکنیکی ترقی سمیت پائیدار معیشت کی جانب سفر کا آغاز کیا ہے اس نے بھی چین کی معیشت کے بارے میں دنیا کی رائے کو تبدیل کیا ہے۔ مقدار کی بجائے اب معیاری مصنوعات کا اصول چین بھر کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں لاگو ہے اور اس کے ثمرات خاص طور پر نیو انرجی وہیکل میں دنیا کو نظر آ رہے ہیں۔
یہ نظام ہی ہے جو چین کی دنیا بھر میں ماحولیاتی ذمہ داریوں کی قیادت کر رہا ہے۔ سبز اور کم کاربن تبدیلی اب آہستہ آہستہ بڑے شہروں سے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں منتقل ہو رہی ہے چینی ٹیک کمپنیاں مستقبل کے لیے زیادہ پائیدار اور موثر حل پیش کرنے میں قابل ذکر پیش رفت کر رہی ہیں۔ چین نے سبز اور کم کاربن کی منتقلی میں اہم سنگ میل حاصل کیے ہیں، جو پن بجلی، ہوا سے چلنے والی توانائی، شمسی توانائی اور بائیو ماس توانائی کے لیے نصب شدہ صلاحیت میں عالمی رہنما بن گیا ہے۔
غرض یہ کہ گزشتہ 75 سالوں میں چین کی جانب سے سمیٹی گئی کامیابیوں میں ہر جگہ چین کا سیاسی نظام نمایاں نظر آتا ہے جو اپنی تاریخ، اپنے ثقافتی و سیاسی ورثے، اپنی معاشی طاقت اور سیاسی استحکام کے مطابق نہ صرف اقوام عالم میں اپنے آپ کو مزید نمایاں کر رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں معاشی اور سلامتی کے مسائل کے حل کے لیے اپنی خدمات بھی پیش کر رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں چین نے اپنے سیاسی اور معاشی استحکام کی ہی بدولت بین الاقوامی دنیا کو بیلٹ اینڈ روڈ اور گلوبل سیکیورٹی جیسے عالمی منصوبوں اور اقدامات دیے ہیں اور نہ صرف عالمی سطح پر موجود امن کو پائیدار بنانے کی کوشش کی ہے بلکہ موجود بحرانوں کو بھی حل کرنے میں ایک ذمہ دار ملک کا کردار ادا کر رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ قوموں کی بلندی اور کامیابی میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ استحکام پیدا کر سکتی ہے تو قوم کے مزاج میں مستقل مزاجی اور سیاسی استحکام کے لیے سیاسی نظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جو بنیادی قدرتی وسائل سے مالامال ہیں لیکن وہاں سیاسی عدم استحکام کامیابیوں کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ آج چین کے کامیاب 75 سالوں کو دیکھ کر کئی ترقی پذیر ممالک اس عزم کا اظہار کر سکتے ہیں کہ قومیں اپنی تاریخ سے جڑی رہیں اور روایات کا علم تھامے رہیں تو مستقل مزاجی اور سیاسی استحکام کی بدولت دنیا میں اپنا مقام کسی کی مدد کے بغیر بھی حاصل کر سکتی ہیں۔


