بک کلب، سہراب سپہری کی شاعری اور مرغوب حسین طاہر کی گفتگو


دور حاضر میں جدید ٹیکنالوجی نے ہمارے ذہنوں پر غلبہ حاصل کر لیا ہے۔ دن بہ دن ہمارے سوچنے، سمجھنے اور غور و فکر کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ مطالعہ کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے، کتب الماریوں کی زینت بنتی جا رہی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی نے جہاں کتب تک رسائی کو ممکن بنایا ہے، وہیں کتاب سے براہ راست تعلق ختم ہوتا جا رہا ہے۔ تمام تر مایوسیوں کے باوجود پھر بھی کہیں کہیں امید کی شمعیں روشن ہیں۔ جو کہ ہمارے لیے ڈھارس کا کام کرتی ہیں۔

انہیں روشن چراغوں میں سے ایک چراغ پنجاب یونی ورسٹی لائبریری میں قائم ”بک کلب“ ہے۔ اس کلب کے بنیاد گزار چیف لائبریرین ڈاکٹر ہارون عثمانی اور انگریزی کے استاد ڈاکٹر شاہ زیب خان ہیں۔ جہاں اس کا مقصد کتب بینی کے فروغ کو رواج دینا ہے، وہیں طلباء کے اندر مطالعہ کی تکنیکی صلاحیتیوں کو بیدار کرنا ہے۔ ماہ میں ایک بار یہ نشست برپا ہوتی ہے۔ جس میں ایک اردو اور ایک انگریزی کتاب پر مستند مقررین گفتگو کرتے ہیں۔ مقررین کا انتخاب کتاب کے موضوع کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

ماہ رواں کی نشست 8/ ستمبر2024ء کو منعقد ہوئی۔ اس مرتبہ جن دو کتابوں پر گفتگو کی گئی، ان میں سے ایک ”سہراب سپہری“ کی شاعری کا انتخاب و ترجمہ تھا۔ جو ”ڈاکٹر معین نظامی“ نے فارسی متن کے ساتھ ”آئینوں کی جھیل“ کے نام سے کیا۔ اس کتاب پر گفتگو کے لیے جس شخصیت کا انتخاب کیا گیا، وہ خود بھی بہت ہی عمدہ شاعر اور اورینٹل کالج کے سابق استاذ ڈاکٹر مرغوب حسین طاہر تھے۔ آج کل جاپان کی اوساکا یونی ورسٹی میں اردو ادب کے موتی لٹا رہے ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ اردو ادب کی خدمت میں بسر کیا اور کر رہے ہیں۔ شاعری پڑھنا اور پڑھانا آپ کی پہچان ہے۔

آپ نے اپنی گفتگو کا آغاز ماہ ربیع الاول کی مناسبت درود شریف پڑھتے ہوئے کیا۔ بعد از سہراب سپہری کے بابت بتانے لگے۔ سہراب سپہری 1928ء کو کاشان میں پیدا ہوئے۔ کاشان وسط ایران میں واقع آج کل اصفہان صوبے کا حصہ ہے۔ سہراب نے بطور مصور بھی خوب شہرت سمیٹی۔ 1980ء میں تہران میں وفات پائی۔ سہراب کا شمار جدید فارسی شعراء میں ہوتا ہے۔ خاص طور پر جدید فارسی نظم کا معتبر نام ہے۔ جس نے فارسی شاعری میں نئے رجحانات کو متعارف کروایا۔ اس سے پہلے اردو دان طبقہ اس شاعر سے اس طرح متعارف نہیں تھا۔ معین نظامی کے ترجمے سے جہاں ایک طرف اس شاعر کی شاعری سے دل چسپی پیدا ہوئی ہے، وہیں اردو میں نئے خیالات بھی در آئے ہیں۔

مرغوب حسین طاہر نے بتایا کہ ”عام طور پر دو چیزوں کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایک متن (جس کا ترجمہ کیا جائے ) اور دوسرا ترجمہ، لیکن میرے نزدیک ترجمے کے معیار کو پرکھنے اور سمجھنے کے لیے مترجم کی شخصیت کو بھی جاننا اور پرکھنا اتنا ہی ضروری ہے۔ تاکہ مترجم کے ترجمے کی کمالیت واضح ہو سکے“ ۔ مترجم کا تعارف کرواتے ہوئے کچھ یوں گویا ہوئے کہ ”ڈاکٹر معین نظامی نے سرگودھا کے ایک گاؤں میں آنکھ کھولی، خانوادہ مذہبی تھا، آپ کے گھرانے میں بہت سے صوفیاء اور اولیاء اللہ پیدا ہوئے، تصوف کی گھٹی آپ کو وراثت میں ملی۔ معین نظامی ابتدائی عمر میں تصوف کے اسرار و رموز کی وادیوں سے گزرے۔ قدیم بزرگان دین کا ادب سے بھی گہرا لگاؤ ہوتا تھا، چنانچہ انہوں نے بھی ادب خصوصاً فارسی کا کلاسیکی ادب پھر اس میں تصوف کی روایت کو اپنا خاص موضوع بنایا۔

پھر فارسی ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی۔ یہاں تک کہ معین لاشعوری طور پر ایران پہنچ گئے۔ وہاں ان کی ملاقات رومی، سعدی اور حافظ سے ہوئی۔ موصوف ان کے گرویدہ ہو گئے۔ یہ ایک ایسا ہالہ تھا، جس میں شاعری، نور اور تصوف یکجا تھے۔ اس کو زبان کے حوالے سے سمجھنا ناممکن تھا، اس لیے انہوں نے بھی نہ صرف فارسی زبان سیکھی بلکہ شعوری یا لاشعوری طور پر اس روایت کے عاشق ہو گئے، پھر رومی، سعدی، عطار اور حافظ نے اپنے بازوؤں کو اس شخص کے لیے کشادہ کر دیا اور اسے اپنی بانہوں میں لپیٹ لیا۔ پھر یہ اس کائنات کے اسرار و رموز سے واقف ہوتے چلے گئے ”۔

ترجمہ کرنا بہرحال مشکل فن ہے اور شاعری کا ترجمہ کرنا اس سے بھی دقت آمیز کام ہے۔ مرغوب حسین ترجمے کے فن پر بات کرتے ہوئے یوں لب کشا ہوئے ”نثر کا ترجمہ کرتے ہوئے مفہوم کو قاری تک پہنچانے میں کامیاب ہو جانا ترجمے کی کامیابی کا سبب بن سکتا ہے جبکہ شاعری کا ترجمہ اگر لغت کا اسیر ہو یا پھر صرف لفظوں کا ترجمہ ہو تو وہ کامیاب ترجمہ نہیں ہو سکتا، جب تک مترجم شاعری کی اس روح تک نہ پہنچ جائے، یا پھر جو کیفیات، احساسات اور جذبات شاعر پر گزرے ہوں، ان کو بیان نہ کر سکے تو وہ اچھا ترجمہ نہیں کہلایا جا سکتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مترجم رمز شناس اور خود شاعر ہو، تب ہی شاعری کے ایک اچھے ترجمے کی امید کی جا سکتی ہے۔

معین نظامی نے کسی شاہکار کا ترجمہ نہیں کیا، بلکہ ایک جدید فارسی شاعر کو پاکستان میں متعارف کروانے کی عظیم کوشش کی ہے۔ ان کے ترجمے سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے نوواردان کو ترجمے کا فن سکھا رہے ہوں۔ انہوں نے صرف لفظوں کا مفہوم نہیں پہنچایا بلکہ شاعر کے دل میں اگر کوئی کسک یا چیخ اٹھی ہے تو وہ چیخ اور اذیت ہمیں ان کے ترجمے میں سنائی دیتی ہے۔ معین نظامی نے اس تکلیف اور اذیت کو ترجمے کی سطروں میں مقید کر دیا ہے ”۔

مرغوب حسین نے سہراب سپہری کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ”سہراب سپہری کوئی عام شاعر نہیں ہے، اس کا زاویہ نگاہ متنوع جہات کا حامل ہے۔ اس کی شاعری میں تحیر، نیا پن اور یکلختگی کی کیفیات ہیں، جو اسے ایران میں فارسی شاعری کے حوالے سے ممتاز بناتی ہیں۔ معین نظامی کے ترجمے کے بعد اب پاکستان کے قاری بھی جان سکیں گے کہ سہراب کتنا بڑا، منفرد اور اچھوتا شاعر ہے۔ اگرچہ معین کی دل چسپی کلاسیکی ادب کی روایت میں مضمر ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے جدید فارسی شاعری کو پڑھا، پرکھا اور سمجھا۔ موصوف کا کمال یہ ہے کہ ترجمہ کرتے ہوئے ترجمے کا طرز بیان بھی جدید رکھا“ ۔

بعد از مرغوب حسین طاہر نے سہراب کی شاعری معین نظامی کے ترجمے کی مدد سے اپنے مخصوص انداز میں سامعین کے گوش گزار کی۔ شاعری سنتے ہی سر دھننے لگے اور ”واہ واہ“ کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ پیش کردہ کلام رقم کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔

اپنے اردگرد ایک سخت اور مضبوط دیوار بنانے کے لیے
میں دور دراز سے ننگے پاؤں
سخت اور بھاری پتھر ڈھو لایا
میں نے اونچی لمبی پتھریلی دیوار بنا لی
کہ جو کچھ بھی مجھے گھٹیا لگے، اسے نہ دیکھ سکوں
اور ان جنوں بھوتوں کے حملوں کا راستہ رک جائے

مرغوب حسین نے بتایا کہ ”یہ نظم اس لیے بھی اہم کہ معین نظامی نے اپنے مخصوص انداز کو دیکھتے ہوئے اسے منتخب کیا“ ۔

ایک نظم کا عنوان دیکھیے : دکھائی نہ دینے والے پرندے سے
مجھے تم سے کچھ کہنا ہے
اے میری آنکھوں سے اوجھل گاتے ہوئے
اور اپنی آواز سے زمانے کی گرہیں کھولتے پرندے
تمہیں کیا دکھ پہنچا ہوا ہے
کہ تم اپنی خلوت میں فریاد کرتے ہو
اور مجھ سے زندگی کی خوشی چھین لیتے ہو؟
سہراب کی شاعری میں پرندے، قدرتی مناظر اور فطرت کے نمونے ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔
میں نے جا کر اپنی انا پہاڑ کی ایسی چوٹی پر توڑ دی، جہاں عقابوں کے گھونسلے ہوتے ہیں
اور اب عاجزی کے جھکاؤ میں تمہارے نیچے رکا ہوا ہوں
جھکو قریبی ٹہنی!

اس طرح کی کیفیات اور احساسات ہمیں ان کی شاعری میں نظر میں آتے ہیں۔ ان کی شاعری کو پڑھنے لگیں تو سحر کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور قاری پڑھتے چلا جاتا ہے۔ بلاشبہ اس میں ڈاکٹر معین نظامی کے ترجمے کا کمال عیاں ہے۔

ہونٹ لرزتے ہیں، رات تڑپتی ہے، جنگل سانسیں لیتا ہے
تمہیں کس چیز کی فکر ہے، مجھے اپنے بازوؤں کی راحت میں سفر کرواؤ
میں تمہاری رات والی انگلیاں دباتا ہوں، ہوا دور کے لالہ کے پھولوں کو پتی پتی گراتی ہے
تم جنگل کی چھت کو دیکھتے ہو،
تمہاری آنکھوں کی نمی میں ستارے دوڑتے ہیں،
آنسوؤں کے بغیر تمہاری آنکھیں نامکمل ہیں،
اور جنگل کی نمی نارسا ہے

اس طرح کے چونکا دینے والے لمحے ان کی شاعری میں بدرجہ اتم نظر آتے ہیں۔ مرغوب حسین نے بتایا کہ ”ہائیکو کا شاعر درخت کا پتا زمین پر گرنے سے پہلے اس کا عکس اتار لیتا ہے۔ ایسے بہت سے عکس ان کی شاعری میں دکھنے کو ملتے ہیں“ ۔

مزید ترجمے کی تخلیقیت کو واضح کرتے ہوئے فرمانے لگے ”معین نظامی نے مکالمے کا ترجمہ بھی اس نہج کا کیا ہے، یوں گماں ہوتا ہے کہ گویا شاعر نے اسی زبان میں کلام کیا ہو“ ۔ ایک مکالمے کی نظم دیکھیے۔

نظم کا عنوان : اور
ہاں، ہم ایک خواب کے غنچے ہیں
خواب کے غنچے؟ کیا ہم کھل پائیں گے؟
کبھی نہ کبھی پتوں کی جنبش کے بغیر
یہاں؟
نہیں، موت کی گھاٹی میں
تاریکی؟ تنہائی؟
نہیں، دل نشیں خلوت
ہمیں کون دیکھنے آئے گا؟ کون ہماری خوشبو سونگھے گا؟
کوئی ہوا ہماری پتیاں بکھیر دے گی؟
ایک اور زوال

یہ نظم جہاں اپنے طور پر ایک منفرد نوعیت کی ہے، وہیں اس انداز میں ترجمہ کرنا بھی ایک بہت بڑی فنکاری ہے۔

مکالمے کا سارا تجسس اور وسعت چند سطور میں لپٹ گیا ہے۔
ایک اور بند ملاحظہ کیجیے۔
مجھے یاد رہ جائے کہ صبح حسن کے باغ سے ٹماٹر اور آڑو خریدنے ہیں
مجھے یاد رہ جائے کہ صبح ذبح ہوتی بکریوں کا سکیچ بنانا ہے
جھاڑو کا سکیچ، پانی پر جس کا سایہ پر رہا ہو
مجھے یاد رہ جائے کہ جتنی تتلیاں بھی پانی میں گر جائیں، انھیں نکالنا ہے
مجھے یاد رہ جائے کہ زمین کے قانون کے خلاف کوئی کام نہیں کرنا
مجھے یاد رہ جائے کہ کل ندی پر بیلنے کے ساتھ اپنا تولیہ بھی دھونا ہے
مجھے یاد رہ جائے کہ میں اکیلا ہوں
چاند تنہائی کے سر پر چمک رہا ہے

یہ فضا سپہری کے ہاں نظر آتی ہے۔ مرغوب حسین نے سپہری کی اسی فضا کے بابت بتایا ”سپہری کے ہاں میں نے یہ کمال دیکھا ہے کہ وہ آپ کو ایک فضا میں لے جاتا ہے، پھر اچانک ہی اس فضا سے باہر نکال کر چونکا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ قاری ششدر رہ جاتا ہے۔ ایک نیا پن اور ایک نئی فضا کا احساس ہوتا ہے“ ۔ نظم کا ایک بند دیکھیے۔

مثلاً میں نے ایک شاعرہ کو دیکھا
وہ فضاؤں کے نظارے میں ایسی مگن تھی
کہ اس کی آنکھوں میں آسمان نے انڈے دے دیے
یہ ہے سہراب سپہری کی شاعری۔ جس کا ترجمہ ڈاکٹر معین نظامی نے اس طرح کیا ہے کہ طبع زاد معلوم ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS