ڈاکٹر نوید ملک : پاکستان میں جدید فاصلاتی تعلیم کے بانی


فاصلاتی تعلیم کی تاریخ سو برس سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ پاکستان میں فاصلاتی تعلیم کا پہلا ادارہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ہے جو کہ 1974 میں قائم کی گئی تھی۔ یہ ایشیا کی پہلی فاصلاتی تعلیم کی یونیورسٹی تھی، جبکہ دنیا میں دوسری تھی۔ یو کے اوپن یونیورسٹی دنیا کی پہلی اوپن یونیورسٹی تھی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے خط کتابت سے تعلیم کو پھیلایا اور اپنی کتب بذریعہ ڈاک طالب علموں تک پہنچائیں۔ پھر ویڈیو لیکچرز جو پی ٹی وی پر بھی نشر کیے جاتے تھے بنائے گئے۔

2002 میں حکومت پاکستان نے پاکستان کی دوسری فاصلاتی یونیورسٹی بنائی اس کا نام ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان رکھا گیا۔ ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان کے قیام کا سہرا دو لوگوں کے سر ہے، بانی ریکٹر ڈاکٹر نوید اختر ملک صاحب اور اس وقت کے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عطاء الرحمن جنہوں نے ورچوئل یونیورسٹی کے قیام میں ذاتی دلچسپی لی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ورچوئل یونیورسٹی پاکستان کی پہلی یونیورسٹی تھی جس کی بنیاد مکمل طور پر آئی سی ٹی یعنی انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی پر تھی۔

اس میں تمام طالب علم کمپیوٹر پر بذریعہ انٹرنیٹ یونیورسٹی سے منسلک ہوتے ہیں۔ جبکہ تمام تر لیکچرز کی ویڈیوز اب یوٹیوب، یونیورسٹی کے اپنے تعلیمی نظام ایل ایم ایس اور دوسرے میڈیا پر موجود ہیں۔ یونیورسٹی کے لئے ویڈیو لیکچرز اپنے اپنے شعبوں کے ممتاز اساتذہ، ماہرین اور مشاہیر ریکارڈ کرواتے ہیں۔ ڈاکٹر نوید صاحب نے بطور خاص پاکستان ٹیلی ویژن کے جانے مانے ہدایت کار اور تخلیق کار تاجدار عالم صاحب کو ورچوئل یونیورسٹی میں بطور ایم ڈی ٹی وی مدعو کیا۔

تاجدار صاحب نے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے یونیورسٹی میں لیکچر ریکارڈنگ کے لیے جدید ترین سہولیات سے مزین اسٹوڈیوز تیار کروائے۔ ابتدائی دور ذرا مشکل تھا، نا کافی سہولیات اور قلیل مالی وسائل کے باوجود ڈاکٹر نوید ملک نے تعلیمی معیار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ تاجدار صاحب نے ویڈیو ریکارڈنگ کی کوالٹی کا جو معیار مقرر کیا اس تک پہنچنا سب کے بس کی بات نہیں۔ اب تک ورچوئل یونیورسٹی ہزاروں گھنٹوں کی ریکارڈنگ کر چکی ہے، جو کہ اب یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔

اس معیار اور تعداد تک پہنچنا دوسرے اداروں کے لئے آ سان نہیں۔ ڈاکٹر نوید ملک صاحب کی کوشش تھی کہ طلبہ و طالبات تک تعلیم ہر ذریعے سے پہنچ سکے۔ ورچوئل یونیورسٹی کے چار ٹی وی چینلز بھی ہیں جو کہ ویڈیو لیکچرز کو براہ راست نشر کرتے ہیں اس کے علاوہ آج کل کے دور کے عین مطابق یوٹیوب، ڈیلی موشن اور دوسرے ذرائع پر بھی یونیورسٹی کے لیکچرز دستیاب ہیں۔

ڈاکٹر نوید صاحب ایک صاحب بصیرت تعلیمی رہنما ہیں، انہوں نے ورچوئل یونیورسٹی کا جو ماڈل بنایا وقت نے اسے بہترین ثابت کیا۔ کرونا کے دنوں میں جب ساری جامعات اور دوسرے تعلیمی ادارے بند ہو چکے تھے ورچوئل یونیورسٹی پورے جوش و خروش سے اپنے تعلیمی سفر میں مصروف تھی۔ ایک گھنٹے کے لیے بھی یونیورسٹی بند نہیں ہوئی۔ ریکارڈ شدہ لیکچرز تک طلب علموں کی مکمل رسائی تھی۔ جدید ترین لرننگ مینجمنٹ سسٹم کی بدولت تمام تعلیمی سرگرمیاں پوری آب و تاب سے جاری رہیں۔ امتحانات وقت پر منعقد ہوئے اور بچوں کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہوا۔ اور اب تو ہارورڈ، سٹینفورڈ اور ایم آئی ٹی جیسے بڑے ادارے بھی ویڈیو لیکچرز ریکارڈ کر کے فاصلاتی تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔

ڈاکٹر نوید صاحب نے خواہشمندان علم کے لیے یونیورسٹی کے دروازے ہمیشہ کے لیے کھول دیے، ورچوئل یونیورسٹی کے تمام تر ویڈیو لیکچرز سب کے لیے مفت دستیاب ہیں۔ ضرورت مند اپنے علم کی پیاس بجھا سکتے ہیں، جب جی چاہے۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی بہت بڑی خدمت ہے۔ ورچوئل یونیورسٹی کی اوپن کورس ویئر ویب سائٹ پر تمام مضامین ترتیب کے ساتھ موجود ہیں۔ اس ویب سائٹ کو 2012 میں دنیا کی بہترین اوپن کورس ویئر ویب سائٹ کا اعزاز بھی دیا گیا۔ ورچوئل یونیورسٹی نے پاکستان کی تمام جامعات کو یہ پیشکش کر رکھی تھی کہ وہ ورچوئل یونیورسٹی کے تمام لیکچرز اپنے کمپیوٹر پر مفت ہم سے لے لیں۔ اور بہت سی جامعات نے اس کا فائدہ بھی اٹھایا، بعد میں یوٹیوب جیسی سہولت میسر ہونے کے بعد اب کوئی بھی ان لیکچرز کو بخوبی دیکھ سکتا ہے۔

جب حکومت پاکستان نے یہ ارادہ کیا کہ 10 لاکھ افراد کو ڈیجیٹل ہنرمند بنایا جائے تو حکومت پاکستان کے پاس سوائے ورچوئل یونیورسٹی کے کوئی اور ایسا ادارہ نہ تھا کہ جس کی استعداد کار اتنی زیادہ ہو کہ وہ دس لاکھ افراد کو ہنر مند کر سکے تو حکومت پاکستان نے ورچوئل یونیورسٹی کے تعاون سے ڈی جی سکلز پروگرام 2018 میں شروع کیا جو آج تک جاری ہے اور لاکھوں افراد کو ڈیجیٹل مہارت میں طاق کر چکا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنا پیشہ ورانہ سفر پنجاب یونیورسٹی سے بطور لیکچر شروع کیا۔ انہوں نے فزکس میں ایم ایس سی کی اور پھر ایم آئی ٹی سے ڈاکٹر آف سائنس کی ڈگری الیکٹریکل انجینئرنگ میں حاصل کی۔ ڈاکٹر صاحب نے پنجاب یونیورسٹی میں ڈیپارٹمنٹ آف کمپیوٹر سائنسز کی بنیاد رکھی، پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات کو بھی کمپیوٹرائزڈ کرنے کا سہرا ڈاکٹر صاحب کے سر ہے۔ ورچوئل یونیورسٹی کا جدید ترین امتحانی نظام، لرننگ مینجمنٹ سسٹم اور طلبہ و طالبات کے لیے ڈیٹ شیٹ کا انٹرفیس بھی ڈاکٹر صاحب کی قیادت میں ہی تیار کیا گیا اور یہ سب ڈاکٹر صاحب کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ورچوئل یونیورسٹی کا امتحانی نظام جدید ترین ہے اور اپنی مثال آپ ہے جس میں ہر طالب علم کے لیے ہر مضمون میں منفرد امتحانی پرچہ تیار ہوتا ہے۔ طلبہ و طالبات ایک خاص وقت کے دوران امتحانات کے لیے اپنی ڈیٹ شیٹ بھی خود تیار کر سکتے ہیں۔ ورچوئل یونیورسٹی کے امتحانی نظام اور ایل ایم ایس کو دوسرے ادارے بھی استعمال کر رہے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی اف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز، اور کنکورڈیا کالجز اس کی چند مثالیں ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی خدمات کے عوض حکومت پاکستان نے انہیں 2008 میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ پاکستان میں جدید فاصلاتی تعلیم کے اجرا اور ترویج کی تاریخ میں ڈاکٹر نوید ملک کا نام سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔

Facebook Comments HS