قلم کی طاقت اور دوستوں کی محفلیں


تحریر ایک ایسی طاقت ہے جس کا اثر نسلوں تک رہتا ہے۔ جب بھی کوئی قوم، معاشرہ، یا فرد زوال پذیر ہوتا ہے، تو یہ قلم ہی ہوتا ہے جو اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر ابھرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ الفاظ نے جنگیں روکی ہیں، انقلاب برپا کیے ہیں، اور وہ خواب حقیقت بنائے ہیں جن کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ چاہے علامہ اقبال ہوں جنہوں نے اپنی شاعری سے نوجوانوں کے ذہنوں کو بیدار کیا یا وہ مفکرین جنہوں نے اپنی تحریروں سے دنیا کے نظریات کو پلٹا دیا، قلم ہمیشہ تبدیلی کا پیش خیمہ رہا ہے۔

دوستوں کی محفلوں میں اکثر یہ گفتگو ہوتی ہے کہ ”تم اتنا لکھتے کیوں ہو؟ کیا تمہارے لکھنے سے کوئی تبدیلی آئے گی؟“ ایسے سوالات پر مسکراتے ہوئے کہتا ہوں، ”تحریر کا اثر فوری نہیں ہوتا، مگر اس کی گونج ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔“ جیسے اقبال نے اپنی شاعری سے نہ صرف فکری انقلاب برپا کیا بلکہ قوم کو خواب دیکھنے کی جرات بھی دی۔ آج کا قلم بھی اُسی راہ پر گامزن ہے، چاہے حالات کتنے بھی خراب ہوں، سوچنے اور سمجھنے والوں کو راستے دکھاتا ہے۔

میرے دوست اکثر مذاق میں کہتے ہیں کہ ”وقاص، مہینے میں تو 30 دن ہوتے ہیں جبکہ تمہارے آرٹیکل 30 دنوں میں 35 لکھے جاتے ہیں کیونکہ تمہارے آرٹیکلز کا کوئی حساب نہیں!“ وہ یہ بات ہنسی میں کہتے ہیں، لیکن مجھے احساس ہے کہ تحریر کا یہ سفر صرف میرے لیے نہیں، بلکہ اُن تمام نوجوانوں کے لیے ہے جو کسی نہ کسی شکل میں میری تحریروں سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان الفاظ کے ذریعے میں ان کی فکر کو نکھارتا ہوں، ان کے ذہنوں کو ایک نئی سمت دیتا ہوں، اور شاید ان کے دلوں میں تبدیلی کی وہ چنگاری پیدا کرتا ہوں جس کی انہیں ضرورت ہے۔

دوستوں کے ساتھ بیٹھنے کا ایک اور لطف یہ ہے کہ ان کے سوالات اور تبصرے اکثر گہری سوچ کو جنم دیتے ہیں۔ ایک دوست نے کہا، ”تم لکھتے رہو، حالات تو جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔“ میں نے جواب دیا، ”شاید، لیکن اگر ہم لکھنے والے خاموش ہو جائیں، تو سوچنے والے بھی خاموش ہو جائیں گے۔“ تحریر وہ چراغ ہے جو جلتا رہے تو امید باقی رہتی ہے۔ وہی تحریر جو کسی کے دل میں سوالات پیدا کرے، وہی تحریر جو کسی کے ذہن کو جھنجھوڑ دے، وہی تحریر جو کسی کی زندگی کا رخ بدل دے۔

یہی وہ تحریر ہے جس کی ضرورت آج کے حالات میں ہے۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ میری تحریریں صرف ملک کے مسائل یا نوجوانوں کے مسائل تک محدود نہیں ہیں۔ میرے لکھنے سے لوگوں کے دلوں میں تبدیلی آئی ہے۔ ایک دوست نے مجھے بتایا کہ میری ایک تحریر نے اس کے گھر میں سکون واپس لایا۔ اس کی بیوی کے خیالات میں وہ تبدیلی آئی کہ جس نے اس کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ یہ سن کر مجھے احساس ہوا کہ قلم صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کے پیچیدہ رشتوں اور مسائل کا حل بھی پیش کر سکتا ہے۔

قلم کی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال کی شاعری نے جس طرح قوم کی فکری رہنمائی کی، آج بھی تحریر وہی کام کر رہی ہے۔ لکھنے والوں کے الفاظ ذہنوں کو بیدار کرتے ہیں، دلوں کو جوڑتے ہیں، اور قوموں کو آگے بڑھنے کی راہ دکھاتے ہیں۔ ملک کے حالات، نوجوانوں کی امیدیں، اور معاشرتی مسائل۔ سب کچھ میری تحریروں میں شامل ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ میں لکھتا ہوں۔ دوستوں کی محفل ہو یا لکھنے کا سفر، دونوں میرے لیے لازمی جزو بن چکے ہیں۔ قلم سے اٹھائے گئے الفاظ دلوں میں گھر کرتے ہیں، ذہنوں کو بدلتے ہیں اور تبدیلی کی راہیں ہموار کرتے ہیں۔ جیسے اقبال نے کہا تھا۔

”ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں ”
بس، یہی عشق قلم کا ہے، اور اسی عشق میں میری محنت جاری رہے گی۔

Facebook Comments HS