پختون بھائیو بس بہت ہوگیا
دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے لوگ سب سے پہلے اپنے مستقبل اور لیڈر کو منتخب کرنے کے لئے ہر طرف سے سوچتے ہیں کہ مستقبل کو کیسے سدھارنا ہے اور آگے کیسے بڑھنا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایک قوم ایسی ہے جس کو آج تک یہ پتا نہیں کہ ہم نے کس کے ساتھ چلنا ہے اور قوم کو خوشحال اور ترقی پذیر کیسے بنانا ہے۔ دنیا کے باقی ممالک میں لوگ جس شخص کے پیچھے چلتے ہیں یا پھر کسی پراجیکٹ کا حصہ بنتے ہیں سے پہلے وہ پراجیکٹ اور لیڈر دونوں کو صحیح معنوں میں جانچنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر طرف سے جب مطمئن ہو جاتے ہیں تب جاکر لیڈر کے ساتھ ہر مشکل میں نہ صرف ساتھ دیتے ہیں بلکہ پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش بھی کرتے رہتے ہیں۔
جبکہ دوسری جانب پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں بسنے والے باسی پچھلے چالیس سال سے کبھی ایک نام پہ تو کبھی دوسرے نام پہ استعمال ہوتے رہے ہیں۔ افغانستان پر جب روس نے حملہ کیا تب خیبرپختونخوا کے لوگوں کو کہا گیا کہ یہ وقت ہے شہید ہونے اور غازی بننے کا پھر لوگوں نے یہ نہ سوچا کہ واقعی ہم شہید ہو رہے ہیں یا استعمال ہو رہے ہیں بس سر جھکا کے لگے ہوئے تھے۔ پھر جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تب بھی ہمارے سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانے کی ایک بار پھر کوشش کی گئی جو کہ کامیاب بھی ہو گئی۔
ہمارے پختون بھائیوں کو جنت اور دوزخ کے نام پر خوب استعمال کیا گیا۔ اس جنگ میں پختون بھائیوں کی جانی و مالی جو نقصان ہوا اس کا اندازہ شاید میں نہ لگا سکوں اور آج بھی اس جنگ کا حصہ بننے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر پختون بھائیوں پر مختلف قسم کے اذیتیں ڈھائی جا رہی ہیں۔ دو جنگوں کے باوجود پختون قوم آج تک صحیح اور غلط میں فرق کرنے سے قاصر ہے۔ کبھی مزاحمتی تحریک کا حصہ بن جاتے ہیں تو کبھی کسی سیاسی جماعت کا حصہ بن جاتے ہیں جب وہ تحریک یا سیاسی جماعت ہمیں خوب استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں تب چیخیں مارنا شروع کر دیتے ہیں۔
اب چونکہ دنیا بدل چکی ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے آپ کو بدلیں، دنیا سے سیکھنے کی کوشش کریں اور دوست، دشمن کو پہچانیں لیکن نہیں ہم پھر بھی وہیں کریں گے جو دوسرے ہمیں بتائیں گے کہ اس بار ہم نے یہ کرنا ہے اور امید ہے کہ اس بار ہم کامیابی حاصل کر پائے گے۔ سیاست کرنی ہے تحریک کا حصہ بننا ہے جو بھی کرنا ہے مستقبل اور قوم کے فائدے کے لئے کروں ناکہ تمہیں کوئی سیاسی جماعت یا تحریک والے استعمال کر کے پھینک دیں۔
میں بذات خود پاکستان مسلم لیگ ( ن) کو بڑے فخریہ انداز سے سپورٹ کیا کرتا تھا لیکن جب میں اسلام آباد آ گیا اور یہاں کچھ عرصہ قیام پذیر رہا تو مجھے اپنی اوقات اور جس کو میں سپورٹ کر رہا تھا کی اوقات کا پتا چلا تو میں نے فوراً فیصلہ کیا کہ آج دو ہی چیزیں جو میں با آسانی کر سکتا ہوں کاروبار یا صحافت۔ صحافت یا کالم لکھنے کا جو سلسلہ ہے یہ تو پچھلے دو سالوں سے چلتا آ رہا ہے لیکن اب میں نے سیاست کو خیر باد کہہ دیا ہے اور مکمل طور پر غیر جانبدار ہو کر کھل کر ہر سیاسی جماعت پہ تنقید کرتا رہتا ہوں۔
آپ لوگ حیران ہوں گے کہ سیاست کو آپ نے خیر باد کیوں کہا؟ سیاست کو خیر باد میں نے اس لیے کہا کہ جس کو میں سپورٹ کر رہا ہوں انہیں خود نہیں پتا کہ میں نے صبح کیا کرنا ہے کیونکہ وہ بھی کسی اور جگہ سے آپریٹ ہور رہا ہے تو پھر ایسے شخص یا پارٹی کو سپورٹ کرنے کا کیا فائدہ؟ آپ شاید سوچ رہے ہوں گے کہ جس سیاسی جماعت کو ہم سپورٹ کر رہے ہیں وہ تو کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے، نہیں یار! آپ بالکل غلط سوچ رہے ہیں وہ بھی وہیں سے آپریٹ ہو رہا ہے۔
میرا مشورہ کبھی بھی آپ کے لئے یا نہ ہو گا کہ آپ سیاست نہ کریں یا کسی مزاحمتی تحریک کا یا سیاسی جماعت کا حصہ نہ بنیں۔ ضرور بنیں لیکن خدا کے لئے دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے اپنے آپ کو بچائیے۔ جنگ ہو احتجاج ہو تو پختون قوم کا بیٹا آپ کو ضرور نظر آئے گا۔ مزید قوم اور علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنے آپ کو استعمال کریں ناکہ قوم کی بربادی اور بے توقیری کے لئے استعمال ہو جائیں۔


