فلسطین اور بالادست قانون


بالفور ڈیکلریشن نے 1917 میں اسرائیلی ریاست کی بنیاد رکھی۔ جنگ عظیم دوم کے بعد مغربی قوتوں کے بدولت جب اسرائیلی ریاست کی عملی طور بنیاد رکھی گئی تو خطے میں نئی جنگ چھڑ گئی۔ نتیجہ صیہونیت کے حق میں نکلا اور عرب اسرائیل کا یہ جنگ اتنا طویل ہوا کہ آج تک اس کا کوئی مستقل حل نہیں نکل پایا۔ 1967 کی چھے دن کے عرب، اسرائیل جنگ نے فلسطین اور خطے کی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ فلسطینیوں کی آدھے سے زیادہ علاقہ صیہونی قابض افواج کے زیر تسلط آ گیا۔

بعد میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں کو فلسطین کا نام دیا گیا اور یروشلم کو بین الاقوامی قانون کے تحت بین الاقوامی شہر قرار دیا گیا اور دیگر تمام علاقے اسرائیل نے آہستہ آہستہ ہڑپ لیے۔ مگر اسرائیل یروشلم کو اپنا دارالحکومت کہتا ہے جہاں اس کا تسلط بدستور قائم ہے۔ اسی طرح مغربی کنارے میں ابھی تک یہودی آبادکاری جاری ہے۔

واضح رہے کہ مغربی کنارہ فتح تحریک کے زیر انتظام ہے جو کہ اسرائیل کے ساتھ دو ریاستی حل کا خواہاں ہے۔ یاسر عرفات ان کے پیش رو تھے جنہوں نے دو ریاستی حل کے لئے بہت کوششیں کئی۔ کیونکہ، فتح سنی عرب حامی تحریک ہے اور بہت حد تک سوشلسٹ نظریات کی حامل ہے اس لیے ایران اس کی حمایت نہیں کرتا بلکہ یہ مشرقی وسطیٰ کے عربوں کی حمایت یافتہ جماعت ہے۔ دوسری طرف حماس نے 2007 سے غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھالا ہوا ہے۔ حماس فلسطین کی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد پر یقین رکھتا ہے۔

کیونکہ، حماس 1980 کی دہائی میں یاسر عرفات کی مسلح تنظیم پی، ایل، او سے اختلافات کی صورت میں قائم ہوئی اس لئے فتح اور حماس کے درمیان نظریاتی اور سیاسی جنگ آج تک بدستور قائم ہے۔ حماس ایک سنی تحریک ہونے کے باوجود ایران کی حمایت یافتہ جماعت ہے۔ سعودی عرب اور مشرقی وسطیٰ کے دیگر عرب ممالک حماس کو خطے میں ایک حریف کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یعنی نہ تو فلسطینی اسرائیل کے خلاف متحد ہیں اور نہ ہی مسلم دنیا کی قوتیں۔ بلکہ، شیعہ، سنی تقسیم نے مسلم دنیا کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ فرقہ ورانہ تقسیم کے علاوہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مشرقی وسطیٰ کے تسلط کے لئے سیاسی اور معاشی سرد جنگ بھی شامل ہے۔

غزہ میں جنگ کو ایک سال ہونے کو ہے لیکن صیہونی فوج نے اپنی کارروائیاں بدستور جاری رکھی ہوئی ہیں متعدد بار جنگ بندی کرنے کی کوششیں کی گئی لیکن اسرائیل اپنے مطالبات منوائے بغیر جنگ بندی پر متفق نہیں ہو رہا۔ اس کے لئے اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل میں قراردادیں پیش کی گئی لیکن ویٹو پاور نے سب بے سود ثابت کیا اس کے باوجود بھی اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بضد ہیں کہ جب تک حماس اسرائیل کے سرحدوں سے دور نہیں ہو جاتا تب تک سیز فائر نہیں کیا جا سکتا۔

سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک خاموش اسرائیلی اتحادی بنے بیٹھے ہیں۔ کیونکہ، مشرقی وسطیٰ کے عرب ممالک اسرائیل سے زیادہ ایران اور اس کے اتحادیوں جیسے حماس، حزب اللہ اور یمنی حوثیوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ اس جنگ میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر رہے اور نہ مغربی دنیا پر کوئی سیاسی زور ڈال رہے ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی یہی کوشش ہے کہ خطے میں جتنا ایران کا اثر و رسوخ کم ہو سکتا ہے کیا جائے۔ اب دیکھتے ہیں کہ عربوں کی یہ پالیسی کتنی کامیاب ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔

دوسری طرف اس جنگ میں اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ہاتھوں اب تک تقریباً 40 ہزار سے زیادہ فلسطینی عام شہری شہید ہو چکے ہیں۔ رواں سال جولائی میں صیہونی افواج نے حماس کے سیاسی لیڈر اسماعیل ہنیہ کو تہران میں ایک فضائی حملے میں ان کے فیملی سمیت شہید کر دیا۔ اس سے پہلے جنوری 2020 میں ایران کے ایک بڑے فوجی جرنیل قاسم سلیمانی کو عراق میں شہید کیا گیا اور اب کی بار حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو لبنان میں شہید کر دیا گیا۔ دوسری طرف مغربی طاقتیں امریکی سربراہی میں اسرائیل کے اس طرح کی تمام تر کارروائیوں کو جائز تسلیم کرتے ہوئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق ہر ملک اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق کسی بھی حملے یا جنگ کی صورت میں پہلے معاملہ سیکورٹی کونسل کو جانا چاہیے اگر سیکورٹی کونسل اس پر کوئی حل نہ نکال سکے تو تب اس ملک کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ لیکن اسرائیل کا رویہ لامحدود دفاع سے بڑھ کر اب جارحانہ ہو گیا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ دفاع کا حق صرف اور صرف اسرائیل کو حاصل ہے۔ فلسطینیوں کو بھی اتنا دفاع کا حق حاصل ہونا چاہیے جتنا کہ اسرائیل کو حاصل ہے۔

مگر یہاں طاقت برابر نہیں اس لیے اسرائیل اب یہ جنگ لبنان اور یمن تک لے گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اسی چارٹر کے ایک اور آرٹیکل 2 ( 4 ) کے مطابق کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک میں دخل نہیں دے سکتا۔ مگر اسرائیل دفاع کے حق کا نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اب پورے خطے کو اپنے لپیٹ میں لینا چاہتا ہے۔ رواں سال جولائی میں اسماعیل ہنیہ کو تہران میں براہ راست فضائی حملے میں شہید کر کے اسرائیل نے ایران کے خودمختاری اور سالمیت پر ڈائریکٹ حملہ کیا تھا۔ اس طرح جارحانہ حملوں کا مقصد کسی بھی طرح ایران کو اس جنگ میں براہ راست شامل کرنے کی کوشش ہے۔ مگر ایران اس وقت کسی بڑے جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے وہ کوئی بڑا قدم اٹھانے سے کترا رہا ہے۔

اسی طرح اسرائیل بڑے دھڑلے سے مشرقی وسطیٰ میں کسی بھی ملک کے خودمختاری اور اس کی سالمیت پر براہ راست حملے کرتا ہے جس پر نام نہاد مغربی قوتیں اور بین الاقوامی کمیونٹی خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہتی ہے۔ بلکہ، امریکہ اور اس کے حواری اسرائیل کے اس طرح کے حملوں کو درست تسلیم کرتے ہیں۔ حالانکہ، یہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف لیے جایا جا رہا ہے۔ مگر، بین الاقوامی قانون ایک لاقانونی نظام ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ، فاتح اتحادی حکومتوں نے جنگی جرائم اور دیگر جنگی مظالم کے لیے اعلیٰ سطح کے سیاسی حکام اور فوجی حکام پر مقدمہ چلانے کے لیے پہلے بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل قائم کیے تھے۔ چار بڑی اتحادی طاقتوں فرانس، سوویت یونین، برطانیہ اور امریکہ نے جرمنی کے شہر نیورمبرگ میں انٹرنیشنل ملٹری ٹریبونل (IMT) قائم کیا تاکہ ”یورپی محور کے بڑے جنگی مجرموں کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے۔ یہ وہ سیاسی اور فوجی سربراہان تھے جنہوں نے دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالا تھا اور عام شہریوں کا قتل عام کیا تھا۔ اسی طرح افریقہ کے متعدد سیاسی رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمات بنائے گئے جنہوں نے اپنے ملکوں میں خانہ جنگی کے دوران قتل عام کیا تھا جیسے کہ سوڈان، روانڈا اور دیگر افریقی ممالک۔

جنگ عظیم دوم میں امریکہ نے بھی جاپان کے عام شہریوں پر دو ایٹمی حملے کر کے انسانیت کا قتل عام کیا مگر چونکہ امریکہ اس وقت فاتح تھا اور ایک سپر پاور کی حیثیت سے اپنا لوہا منوا چکا تھا اس لیے امریکی حکام کا کوئی احتساب نہ ہو سکا۔ اگر آج غزہ جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اسرائیل بالادست قوت نظر آتا ہے۔ باوجود اس کے صیہونی افواج ہزاروں بے گناہ عام فلسطینیوں کا خون بہا رہے ہیں مگر ان کے احتساب کے لئے کوئی بین الاقوامی قانون ہے نہ ہی کوئی عدالت۔ کیونکہ، قانون ہمیشہ بالادست طبقے کی رہی ہے اور زیر دست طبقہ پستہ رہا۔

 

Facebook Comments HS