پیتل کا بھگوان
دسمبر کی یخ بستہ شام، ہلکی ہلکی برف باری شروع ہو چکی تھی جب حامد نے اپنی کار میں لگے ریموٹ کنٹرول سے گیراج کا دروازہ کھولنے کے لیے بٹن دبایا، وہ گھر سے ابھی کچھ فاصلے پر تھا لیکن وہ گیراج ڈور کو دیکھ پا رہا تھا، اس کا گھر گلی کا آخری گھر تھا، اور گلی میں داخل ہوتے ہی نظر آنا شروع ہو جاتا تھا، اس کا گیراج ڈور کنٹرولر کتنی دور سے سگنل پکڑتا ہے؟ یہ اس کا روزانہ کا مشغلہ تھا، حالانکہ اسے پتہ تھا کہ گلی کے درمیان میں دائیں ہاتھ پر لگے دو درختوں تک پہنچتے ہی گیراج ڈور کا بٹن کام کرنا شروع کر دیتا ہے، لیکن پھر بھی وہ اسے روزانہ کی بنیاد پر تھوڑا اور پیچھے سے چیک کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
اسے گھر میں داخل ہونے کی جلدی تھی، ریڈیو اور فون میسجز پر آج رات شروع ہونے والے برف کے طوفان کے بار بار اعلانات کیے جا رہے تھے، اس انتباہ کے ساتھ کہ گھروں میں رہیں اور بلاوجہ باہر مت نکلیں، وہ آفس سے جلدی گھر لوٹا تھا، حالانکہ اسے گھر میں کوئی خاص مصروفیت نہیں تھی، جمعہ کی شام اور ایک لمبا ویک اینڈ اس کا منتظر تھا۔
امریکی ریاست مشی گن کے تاریخی خوبصورت شہر ”ڈیٹرائٹ“ کے نواح میں واقع ایک چھوٹا سا شہر ”ڈیئر بورن“ اس کا مسکن بنا، اس نے کمپیوٹر سائنسز کی تعلیم اسی اسٹیٹ کے ایک کالج سے حاصل کی جب پانچ سال پہلے اسٹوڈنٹ ویزا پر اس نے یہاں لینڈ کیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد خوش قسمتی سے یہاں کی ایک مشہور کار کمپنی سے نوکری کی آفر آئی جو اس نے فوراً قبول کر لی، اسی کمپنی نے حامد کو امریکہ میں مستقل رہائش کی سہولت فراہم کی اور صرف 25 سال کی عمر میں اس نے یہاں اپنا گھر بھی لے لیا، اپنے بقیہ طالب علم ساتھیوں کے مقابلے میں اس نے ترقی کی یہ منازل بہت جلدی طے کی تھیں، سب اس پہ رشک کرتے تھے لیکن کہیں کوئی خلش باقی تھی، حامد کو جتنا ان حالات سے لطف اندوز ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہو پا رہا تھا۔
امریکہ آنے کا فیصلہ اس کا ہرگز نہیں تھا، ابھی اس نے پاکستان میں ایک کالج میں ایڈمیشن ہی لیا تھا جب اس کے فوجی افسر باپ نے اسے یہ عندیہ سنایا کہ یہاں تعلیم مکمل کرنے کے بعد تم امریکہ جا رہے ہو، کیونکہ ان کے تمام ساتھی افسروں کے بچے اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا ہی رخ کر رہے تھے، انہوں نے تمام معلومات پہلے سے اکٹھا کرنا شروع کر دی تھیں۔
کچھ سینیئر ریٹائرڈ افسروں کے بچے تو وہاں بہت اچھی زندگی گزار رہے تھے، ان افسروں کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی مثالی تھی، کیونکہ گرمیاں وہ امریکہ میں گزارتے اور پاکستان کی خوشگوار سردیوں میں مختلف آفیسرز کلبوں میں منڈلیاں سجائے ملکی حالات کے رونے کے ساتھ امریکہ کی کہانیاں سناتے نظر آتے کہ بھئی ہم تو وہاں رہنا نہیں چاہتے، بس بچہ ضد کرتا ہے تو چلے جاتے ہیں، ورنہ ہم یہاں بہت خوش ہیں، نوکر چاکر، کام کرنے والے، دوست احباب اور پھر یہاں سڑکوں پہ پولیس والا بھی سلیوٹ کرتا ہے، وہاں تو انسان کی کوئی قدر ہی نہیں ہے، سب کام خود ہاتھ سے کرنا پڑتے ہیں، بھلا بتاؤ؟ یہ بھی کیا زندگی ہے؟ باجماعت قہقہہ۔
پاکستان میں کالج کے دنوں میں اس کی ملاقات پروفیسر منیر سے ہوئی جو اپنے لبرل اور سیکولر خیالات کی وجہ سے مشہور تھے، وہ تھے تو ریاضی کے پروفیسر لیکن معاشرتی، مذہبی اور سماجی موضوعات پر ان کی گرفت اور کام بہت مضبوط تھا، وہ سوشل میڈیا اور مختلف چینلز پر بھی نظر آتے تھے، اکثر ان کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز نظریاتی تنازعے کا سبب بن جاتی تھیں، سوشل میڈیا پر لمبی اور چھوٹی داڑھیوں والے سوشل میڈیا یوزرز، پروفیسر منیر کو آڑے ہاتھوں لیتے، بعض اوقات ایسے کلمات سے نوازتے کہ جن کو و یژولائز کرتے ہوئے جسم میں ایک جھرجھری سی تیر جاتی، خاص طور پر وہ نوجوان جو مذہبی بنیادوں پر بنی طلبہ تنظیموں کے سرگرم کارکن یا ان کے مداح تھے، وہ اکثر کہتے کہ ریاضی میں انہوں نے کون سا تیر چلایا ہے جو یہ معاشرتی اور مذہبی پہلوؤں پر اپنے آلودہ اور بے ہودہ خیالات نچھاور کرتے رہتے ہیں۔
حامد نے پروفیسر منیر کی وساطت سے ایک نئی دنیا کو ایکسپلور کرنا شروع کیا، مختلف لیٹریری سرکلز اور محفلوں میں اس نے کچھ ایسے موضوعات پر مباحث سنے جو اس کے لیے بالکل نئے تھے شاید ایک روایتی معاشرے میں رہتے ہوئے شجر ممنوعہ۔
کلاس فیلوز کے علاوہ اس کے نئے دوست بننے شروع ہوئے، روشن خیال، صاحب مطالعہ اور دنیا بھر میں ہونے والی سیاسی و مذہبی تحریکوں اور تبدیلیوں سے مکمل آگاہ، یہ لوگ اس کے لیے اثاثہ بنتے جا رہے تھے، اس کے سامنے ایک نئی دنیا کھل رہی تھی، مختلف پرتوں میں چھپا یہ معاشرہ اس کے سامنے برہنہ ہوتا محسوس ہو رہا تھا، مادیت پرستی، گاڑیاں، گھر، بنگلے، پلاٹ اور بینک بیلنس اسے ثانوی محسوس ہونے لگے، ابھی وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پایا تھا کہ اس کی روایتی پڑھائی مکمل ہوئی اور ایک دن اچانک جب وہ اپنے شہر کے ہوائی اڈے پر چیک ان کرنے کے بعد بورڈنگ کے انتظار میں بیٹھا تھا تو اسے احساس ہوا کہ وہ یہ سب چھوڑ کر جا رہا ہے۔
لیکن ایک نئی دنیا اس کی منتظر تھی، صرف ایک تسلی کہ وہ ایک نئے معاشرے کو دیکھ پائے گا، ان کے نظام کا مطالعہ کرے گا اور اس فرسٹ ہینڈ نالج کو بروئے کار لاتے ہوئے دوسرے معاشروں سے اس کا مقابلہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچ پائے گا، شاید یہ وہ اپنے آپ کو سمجھانے کے لیے سوچ رہا تھا، اب جو ہو گا دیکھا جائے گا، والدین کی خواہش اور سرمایہ بھی اس کے نزدیک بہت اہمیت کا حامل تھا۔
حامد نے گیراج میں گاڑی پارک کی اور گھر میں داخل ہوتے ہی چینج کیا، کافی بنائی، ٹی وی سیٹ آن کیا اور یوٹیوب پر پاکستانی شمالی علاقہ جات کے ولاگز ڈھونڈنے لگا، اچانک اس کے فون کی بیل بجی، فون کی اسکرین پر نام ”دیپک بھائی“ ناچ رہا تھا، اس نے فون اٹھایا تو ایک پرجوش آواز نے اس کا استقبال کیا،
حمید صاحب مٹن کڑاہی چڑھا دی ہے، پاکستانی اسٹائل اور پاکستانی مصالحے ڈال کر ، آپ کے گھر کا فاصلہ 15 منٹ ہے، راستے میں انڈین سٹور سے آپ نے گارلک نان اٹھانے ہیں، دس منٹ اس کے لگا لیں، پھر سیدھے تیر کی طرح میرے اپارٹمنٹ پہنچنا ہے، تب تک مٹن کی بوٹیاں آپ کے انتظار میں اچھل رہی ہوں گی۔
جب بھی دیپک حامد کو حمید بلاتا، وہ سمجھ جاتا کہ ”اولڈ مونک“ رم کا تیسرا پیگ شروع ہو چکا ہے، یہی دیپک کی لمٹ تھی، دیپک 50 سال کا ایک ادھیڑ عمر بھارتی انجینئر جو 25 سال پہلے دہلی سے وزٹ ویزا پر شکاگو آیا اور یہیں کا ہو کر رہ گیا، گوری سے شادی کی، جو نا چل سکی، گوری سے جائیداد کا تنازعہ کچھ سال تک چلتا رہا، اس دوران اس نے بھارت میں شادی کر لی، جس سے اس کی ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی، بدقسمتی سے امریکہ میں ابھی اس کی طلاق موثر نہیں ہوئی تھی کہ بھارت میں اس کے ہاں بیٹی بھی پیدا ہو گئی، اب جب اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کو امریکہ بلانا چاہا تو اس کا کیس سرد خانے میں پڑ گیا۔
وہ اکثر کہتا کہ حمید، کیا فائدہ میری ساری زندگی کی محنت کا ؟ پیسہ کمانے کا ، کہ میں اپنے بیوی بچوں کو امریکہ بھی نہیں لا سکا، مجھے سال میں صرف چند ہفتے ان کے ساتھ وقت گزارنا نصیب ہوتا ہے، وہ دن کب آئے گا جب میں گھر آؤں گا تو میرے بیوی بچے میرا انتظار کر رہے ہوں گے، ہم سب ایک ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھائیں گے، ویک اینڈ پر کہیں گھومنے جائیں گے، میرا گھر ایک گھر ہو گا، اور وہ زار و قطار رونا شروع کر دیتا، حامد، عمر میں بہت چھوٹا تھا لیکن پھر بھی ہمت باندھ کر اسے تسلی دینے کی کوشش کرتا، بعض اوقات اسے عجیب محسوس ہوتا، کیونکہ اتنی بڑی عمر کے بندے کو اس طرح اپنے سامنے روتے دیکھنا حامد کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔
حامد کی دیپک میں دلچسپی اس کے لبرل خیالات کی وجہ سے تھی، وہ ایک مذہب بیزار آدمی تھا، ہر وقت بھگوانوں اور ان کی کہانیوں پر تنقید کرتا، دھرم کو انسانی تقسیم کا سبب جانتا، ذات پات اور اونچ نیچ پر شدید سوال اٹھاتا، حامد بھارت میں موجود مختلف دھرموں اور تاریخی واقعات کو لے کر دیپک سے سوالات پوچھتا اور اپنے بہت سے تصورات واضح کرتا۔
دیپک کی کمپنی حامد کے لیے ایک بہت بڑا ریلیف تھی، کیونکہ امریکہ پہنچ کر اس کے لیے سب سے بڑا دھچکا امریکہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی تھی، ہر محفل اور دعوت سطحی مذہبی اور سیاسی مباحث سے لبریز اور خاص طور پر سیاست کو لے کر بعض اوقات لڑائی کی حد تک بد تہذیبی لیے، حامد کی شخصیت اور انٹلیکٹ پر بہت گراں گزرتی تھی، اس لیے اس نے اپنے آپ کو خاص موقعوں کے علاوہ بہت محدود کر لیا تھا۔
ان مذہبی سکالرز کی یہاں خوب چاندی تھی جو لوگوں کو یہ بتائیں کہ مذہب نے جن جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، ان میں سے وہ چیزیں، جن کے بغیر امریکہ جیسے ممالک میں رہنا ناممکن ہے، دراصل وہ اتنی بھی حرام نہیں، آئیے ہم آپ کو بتائیں گے کہ ان کو حلال کیسے بنانا ہے، پینٹ سوٹ کے ساتھ ٹائی 100 فیصد حلال ہے، کس رنگ کی ٹائی کے ساتھ کس رنگ کی ٹوپی حلال ہے وہ بھی ہم آپ کو بتائیں گے، ہاں البتہ پگڑی سے تو امریکہ جیسے ممالک میں ویسے ہی پرہیز صحت کے لیے بہتر ہے۔
یہاں کی مساجد کے مولوی حضرات کا خطبات میں زور، امن سے شروع ہو کر مسجد کے چندے پر ختم ہوتا ہے، جنت کے نظریات بھی پاکستان سے بہت مختلف ہیں، دودھ و شہد کی نہریں، تیتر بٹیر، تکے کباب اور قیمے والے نان کی بجائے علماء کا زور دائمی سکون و سیٹسفیکشن پر ہے، ہاں البتہ حور کے معاملے میں کوئی بھی کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں، وہ جنت میں تخت سجائے، ٹرانسپیرنٹ کپڑوں میں ملبوس آپ کا انتظار کرتی ہی رہے گی، جب تک آپ مر نہیں جاتے۔
جب حامد انڈین اسٹور سے گارلک نان اور پودینے کا رائتہ لے کر نکلا تو آسمان سے برف کے بڑے بڑے گالے گر رہے تھے، سڑکوں پر جگہ جگہ سٹی گورنمنٹ کے ٹرک، برف ہٹانے کا کام شروع کر چکے تھے، ٹریفک نا ہونے کے برابر تھی، چند دن پہلے ہوئی برف باری کی وجہ سے سڑک کی دونوں جانب سفید، دودھیا برف کے ڈھیر ابھی موجود تھے کہ اس نئے طوفان نے آ لیا۔
خیر حامد نے بمشکل دیپک کی اپارٹمنٹ بلڈنگ کے سامنے گاڑی پارک کی کیونکہ اس کے پارکنگ لاٹ میں صفائی کا کام ابھی شروع نہیں کیا گیا تھا، برف باری کے ساتھ تیز طوفانی ہوائیں جیسے ہڈیوں میں سے گزر رہی تھیں، وہ جلدی سے بلڈنگ میں گھس گیا، سیڑھیاں چڑھ کر دوسری منزل پر جب اپارٹمنٹ کا دروازہ دیکھا تو وہ دیپک نے پہلے سے ہی اس کے لیے کھلا چھوڑ رکھا تھا، اس کے لیونگ روم میں دیوار پر ٹنگے بڑے ٹی وی سیٹ پر امیتابھ بچن کے فلمی گانوں کی ویڈیوز چل رہی تھیں، وہ خود کچن میں کام کر رہا تھا، جہاں سے اس کے گنگنانے کی آواز بھی آ رہی تھی، حامد کچن میں گھسا تو دیپک نے اسے دیکھتے ہی ہاتھ میں رم کا خالی گلاس پکڑا اور گنگنانے کے ساتھ ہلکا ہلکا جھومنا بھی شروع کر دیا۔
حامد کو ڈرنکنگ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، ہاں مگر پاکستانی کھانے اس کی کمزوری تھی، یہ بات دیپک کو پتہ چل چکی تھی، اسی لیے وہ ہمیشہ حامد کو کھانے کا ہی لالچ دیتا، وہ بہت اچھا کک تھا، ساری زندگی اکیلے رہنے کی وجہ سے اس نے طرح طرح کے کھانے بنانا سیکھ لیے تھے۔
کھانے کی ٹیبل پر دیپک جوش میں کچھ نہ کچھ بولے جا رہا تھا، حمید جی، آپ میرے چھوٹے بھائی ہیں، یہ دین اور دھرم صرف انسانوں کو بانٹنے اور غریبوں پر حکمرانی کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، یہ سب انسانی دماغوں کی پیداوار ہیں، سب دھرم ”مین میڈ“ ہیں، میں کسی بھگوان کو نہیں مانتا، میں صرف انسانیت کو مانتا ہوں، لوگ بھی بے وقوف ہیں، متھس پر یقین کرتے ہیں اور دھرم کے نام پر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔
اب آپ بھارت میں دیکھ لیں، دھرم کے نام پر کتنا دھرؤ ہوا ہے، سیاست میں مذہب گھسا دیا گیا ہے، مسجد اور مندر کے نام پر لوگوں کو لڑوایا جا رہا ہے، حالانکہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے، مجھے تو لگتا ہے جو کچھ پاکستان میں ہوا وہی اب بھارت میں ہونے جا رہا ہے، ہم بربادی کی طرف جا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
تقریباً دو گھنٹے کے بعد جب حامد نے چیزیں سمیٹنا چاہیں تو دیپک فوراً بولا، جو جہاں ہے سب ادھر ہی چھوڑ دیں، میں صبح اٹھ کے سب ٹھیک کر لوں گا، وہ بمشکل اٹھ کر دروازے تک اسے الوداع کہنے آیا۔
کچھ عرصے بعد جب کووڈ کی پہلی لہر آئی تو دیپک کو کسی نے بتا دیا کہ الکوحل کرونا وائرس کے خلاف امیون سسٹم کو مضبوط بناتی ہے، اب اس نے روزانہ کی بنیاد پر ڈرنکنگ شروع کر دی، تین پیگ کے بعد دیپک روز حامد کو کال کرتا، لیکن حامد کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتا، ایک دن دیپک کی کال کا ناغہ ہوا، حامد کو حیرانی ہوئی لیکن اس نے توجہ نہ دی، اب جب دوسرے دن بھی دیپک نے کال نہ کی تو حامد کو تشویش ہوئی اور اس نے خود کال ملا لی، دوسری طرف سے انتہائی نحیف آواز میں دیپک بولا کہ میں دو دن سے شدید بیمار ہوں، سر درد اور بخار اترنے کا نام ہی نہیں لے رہے، میں آج صبح کووڈ ٹیسٹ دے کر آیا ہوں لیکن ابھی تک رزلٹ نہیں آیا، ساتھ ہی اس نے رونا شروع کر دیا وہ بولا، اگر آپ آ سکتے ہیں تو آ جائیں، میں مر رہا ہوں، مجھے گھر والے بہت یاد آرہے ہیں۔
حامد سے رہا نا گیا اور اس نے دیپک کے اپارٹمنٹ پر جانے کے لیے تیاری شروع کر دی، حالانکہ اس پہلی لہر کا خوف بہت شدید تھا، جب وہ اپنی گاڑی میں سوار ہوا تو دیپک کی کال آئی، وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا، میرا کووڈ ٹیسٹ پوزیٹو نکل آیا ہے، آپ مت آئیے، حامد کو بھی پریشانی ہوئی، اس نے پوچھا، کیا آپ نے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کیا؟ دیپک نے بتایا کہ اس کے ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں لکھ کر دی ہیں، مجھ میں ہمت نہیں، اگر آپ فارمیسی سے وہ دوائیاں اٹھا کر میرے دروازے پر چھوڑ دیں تو بہت مہربانی ہوگی، حامد نے فوراً گاڑی دوڑائی، دوائیاں پک کر کے اس کے اپارٹمنٹ کے دروازے کے سامنے رکھ دیں۔
دیپک کے ڈاکٹر نے اسے دو دن دیکھنے کو کہا کہ اگر دوائیاں اثر نہ کریں، یا سانس میں تکلیف محسوس ہو تو فوراً ایمبولینس کال کر کے ہاسپٹل شفٹ ہونا ہے، یہ دن دیپک کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے، وہ مسلسل اپنی فیملی، ڈاکٹر اور حامد کے ساتھ رابطے میں رہا، اسے جو کچھ چاہیے ہوتا تھا، حامد بازار سے خرید کر اس کے دروازے پر چھوڑ دیتا، لیکن اس کی طبیعت سنبھل نہیں پا رہی تھی۔
دوسرے دن شام میں حامد نے دیپک کو کال کی، دیپک کی آواز جیسے دور کسی کنویں سے آ رہی تھی، حامد کو شدید پریشانی لاحق ہوئی، اس نے دیپک کو تسلی دینا چاہی، اس کے منہ سے قدرتی طور پر نکلا کہ انشاءاللہ، اللہ خیر کرے گا اور آپ صحت یاب ہو جائیں گے، انشاءاللہ کا منہ سے نکلنا تھا کہ دیپک کی بے جان آواز میں حرارت پیدا ہوئی اور وہ فوراً بولا، ہری اوم، ہری اوم، میری ماتا کی خیر، اور کوئی بھجن بڑبڑانے لگا، یوں محسوس ہوا جیسے وہ انشاءاللہ کا تریاق کر رہا ہو، اسی شام اس نے حامد سے درخواست کی کہ اسے اگر بتیوں کی ضرورت ہے اگر وہ انڈین اسٹور سے خرید کر اس کے اپارٹمنٹ تک پہنچا دے، حامد نے اگر بتیوں کا ایک بڑا بنڈل خریدا اور دروازے پر چھوڑ آیا۔
اسی شام دیپک کا سانس اکھڑا، اس نے 911 پر کال کی اور اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہو گیا، جو کووڈ کے مریضوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مختص کر دیا گیا تھا، اس دن کے بعد حامد اس کی فیملی سے رابطے میں رہا اور اس کا حال چال پوچھتا رہا، خوش قسمتی سے اس کی حالت بہتر ہونا شروع ہوئی اور تقریباً دو ہفتوں کے بعد اس کا نام پھر حامد کے سیل فون پر نظر آیا، حامد نے فون اٹھایا تو دوسری طرف ٹھہری ہوئی لیکن مطمئن آواز نے استقبال کیا، اس نے صرف اتنا بولا حامد بھائی کچھ نہ پوچھیں، موت کو ہاتھ لگا کر لوٹا ہوں۔
تقریباً تین مہینوں کے بعد ، جمعہ کی ایک خوبصورت شام، دیپک کا مکمل رینویٹڈ اپارٹمنٹ، نیا پینٹ اور فرنیچر، دیوار پر ٹی وی اتنا بڑا کہ وہ ساری دیوار کو چھپا رہا ہے، ٹی وی سیٹ سے کنیکٹڈ، برینڈ نیو ساؤنڈ سسٹم سے کشور کمار کی مدھر آواز میں امیتابھ بچن پر فلمایا گیا ”شرابی“ فلم کا خوبصورت گیت ”انتہا ہو گئی انتظار کی” بج رہا ہے، ٹیبل پر مٹن قورمہ، چکن تکہ، گارلک نان، پودینے کا رائتہ، دہی بڑے اور کوک زیرو سجے ہوئے ہیں، دیپک“ اولڈ مونک ”کا چوتھا پیگ بناتے ہوئے بولا،
حمید بھائی، دھرم غریبوں کے لیے ایک بہت بڑی تسلی ہے، جو سمجھدار لوگوں نے ان پر حکمرانی کرنے کے لیے ایجاد کیا، تاکہ وہ سر نا اٹھائیں اور اپنے ہی حال میں خوش رہیں، میں بتاؤں تو ، دھرم سے بڑا دنیا میں کوئی دھوکا نہیں۔
مٹن قورمہ پلیٹ میں ڈالتے ہوئے، حامد کی نگاہیں لیونگ روم میں پڑی کتابوں کی نئی الماری کے ایک خانے میں تین انچ کے چھوٹے سے پیتل کے بھگوان پر اٹک گئیں، جس کے بالکل سامنے لکڑی سے بنا ایک خوبصورت اگربتی دان تھا اور اس میں بہت سی بجھی اگر بتیاں پڑی تھیں۔




