برق کیوں گرتی ہے بیچارے مسلمانوں پر ؟
اگر ہم دنیا کے موجودہ حالات پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بہت سارے خطوں میں امن و امان کی صورتحال بہت مخدوش ملے گی۔ ان خطوں پر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھرتی ہوئی نظر آئیں گی۔ محکومیت و مظلومیت اور بے بسی کی تصویر بنے مرد و زن، جوان اور بوڑھے سینہ کوبی کرتے نظر آئیں گے۔ یوں لگے گا کہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں اور نہ کوئی ان کی آواز سننے والا دنیا میں موجود ہے۔ بدقسمتی سے حالات کی ستم ظریفی کا شکار یہ کوئی اور نہیں بلکہ صرف اور صرف مسلمان ہی ہوں گے۔ فلسطین، کشمیر، میانمار وغیرہ ہر جگہ مسلمان ہی ظلم و ستم کا شکار نظر آتے ہیں۔ بقول اقبالؒ "برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر” ۔
مشرق وسطیٰ میں حالات بہت گمبھیر ہو چکے ہیں اور شاید کسی بڑے عالمی سانحے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ فسلطین کا سلگتا ہوا مسئلہ بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ بنتا نظر آ رہا۔ پچھلی صدی میں اقبالؒ نے کہا کہ تھا کہ "فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے”۔ تب تو صورتحال اتنی بدتر نہیں تھی۔ لیکن اب صورتحال اس سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ پورے مغرب بلکہ پوری دنیا کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے۔ صہیونیت کے علمبردار ہی دنیا کے اس وقت فیصلے کر رہے ہیں۔ ایک مختصر سی قوم اس قدر طاقتور ہے کہ اس کے سامنے پوری دنیا جھکی ہوئی ہے۔ مہینوں سے صہیونی غزہ کے بے بس مسلمانوں پر بربریت اور وحشت کے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں لیکن انھیں روکنے کی کسی میں ہمت نہیں۔ اب انھوں نے لبنان کا رخ کر لیا ہے۔ اپنی ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر وہ جسے چاہیں اور جہاں چاہیں جان سے مار دیتے ہیں۔ ہر طرح کی ٹیکنالوجی ان کی پوری دسترس میں ہے۔ ان کی ان کارروائیوں پر عالمی ضمیر (اگر اس نام کی کوئی چیز ہے ) بھی نہیں جاگتا۔ وہ دن دور نہیں کہ اس غنڈہ گردی کا دائرہ کار بڑھتا جائے گا لیکن کسی کی ہمت نہیں پڑے گی کہ اسے روکا جائے۔ صہیونیت کے پیروکار اپنے توسیع پسندانہ عزائم میں تیزی سے کامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن ہم اس سارے عمل کو روکنے سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی بدنصیبی کی وجہ کیا ہے؟ برق ہم پر ہی کیوں گرتی ہے؟ بہت ساری وجوہات میں ایک اہم ترین وجہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے دوری ہے۔ مجموعی طور پر مسلمان معاشی بدحالی کا شکار نہیں۔ اگر کہیں بدحالی ہے تو ان کے نالائق اور کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے ہے۔ خوشحالی کے باوجود تعلیم کے ساتھ ہمارا مجموعی رویہ کیا ہے؟ مسلمان ملکوں میں یونیورسٹیاں سالانہ کتنے سائنسدان تیار کرتی ہیں؟ فی الوقت کتنی ایجادات مسلمانوں کے ساتھ منسوب کی جاتی ہیں؟ ہم ماضی پرست بن کر رہ گئے ہیں۔ ہم بڑے فخر سے ابن الہیثم، جابر ابن حیان، ابن رشد، ابن سینا وغیرہ کا نام لیتے ہیں اور مغرب کو طعنہ دیتے ہیں کہ تم ہمارے ان اکابرین کی بدولت آج اس مقام پر ہو۔ کیا یہ بدقسمتی نہیں کہ مغرب نے تو ہمارے اکابرین سے علمی فیض حاصل کر لیا اور ہم نے کیا حاصل کیا؟ ہمارے تعلیمی اداروں میں سائنس کا جنازہ پڑھا جاتا ہے۔ وہ نظریات جو جدید دنیا میں متروک ہوچکے ہیں، وہ ابھی تک ہماری درسگاہوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ رٹا بازی پر زور ہے۔ تعلیمی معیار پست ترین ہے۔ سائنس میں بدلتے رجحانات سے آگاہی نہیں دی جاتی۔ تحقیق سے ہمیں اتنی شدید نفرت ہے کہ تحقیق کا دروازہ بڑے جہازی سائز کے قفل لگا کر ہم نے مستقل طور پر بند کر دیا ہے۔ ستاروں پر کمند ڈالنا تو بس اب شاعرانہ سی بات بن کر رہ گئی ہے۔ اور جہاں تک بات ہے ہماری مذہبی درسگاہوں کی تو وہاں تو سائنس کا نام لینا بھی گوارا نہیں کیا جاتا۔ ہمارے نوجوان جب مغرب کی یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں تو کمال کر دیتے ہیں لیکن اپنی درسگاہوں کے گھسے پٹے ماحول میں یہ کچھ بھی کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ہم ہر چیز کے لیے مغربی ماہرین اور سائنسدانوں کے محتاج ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی سے بیزاری ہمیں آج اس مقام پر لے آئی ہے کہ آج ہم مسلمان اپنا دفاع کرنے کے بھی قابل نہیں رہے۔
ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے کسی ایسے مسیحا کے منتظر ہیں جو ہمیں اس مشکل سے نکالے۔ دوسرے لفظوں میں ہم معجزوں اور کرامتوں کا انتظار کر رہے ہیں۔

