حیاتِ مابعد۔ معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا کی طرف سفر
ہمارے اطراف میں ایسی معلومات، مثالیں یا لوگوں کے ذاتی تجربات تو موجود ہیں جو موت کے تجربے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ہمارے لئے رہنمائی کا سامان کرتے ہیں لیکن حیاتِ مابعد ایک ایسا موضوع ہے جس پر سوشل ورک، سائنس اور دیگر مغربی علوم سیر حاصل معلومات مہیا کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حیاتِ مابعد کی کوئی حقیقی یا حتمی تصویر نہ تو کسی کے سامنے ہے اور نہ ہی کوئی ایسی تصویر تخلیق کی جا سکتی ہے جس پر لوگ یقین کر لیں۔ وہ نامعلوم دنیا کیسی ہو گی اس کی تصویر ہم اپنے یقین اور ایمان کی بنیاد پر ہی ترتیب دے سکتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم موت کے تجربے کی بات کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ موجودہ ریسرچ اور لوگوں کے ذاتی تجربات اس سلسلے میں کیا معلومات فراہم کرتے ہیں۔
تجربہ قرب مرگ Near Death Experience NDE
قرب مرگ تجربہ یعنی NDE ایک بڑا تحقیقی شعبہ ہے۔ این ڈی ای ایک ذاتی تجربہ ہے جس کا تعلق موت یا موت کے نزدیک ہونے سے ہے۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق موت کے قریب پہنچنے والے شخص کو مثبت اور منفی دونوں طرح کا تجربہ ہو سکتا ہے۔ اگر یہ تجربہ مثبت ہو تو موت کے قریب پہنچنے والا شخص کئی طرح کے سنسنی خیز احساسات سے دو چار ہو سکتا ہے مثلاً اپنے جسم سے جدا ہونے کا احساس، امن و آشتی، تحفظ، گرم جوشی، تحلیل ہونے کا احساس اور روشنی۔ جب کہ منفی تجربہ سے گزرنے والے شخص کو بے چینی اور تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔
ریسرچ نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اس قرب مرگ تجربے میں کئی عوامل مشترک ہیں جیسے یہ محسوس کرنا کہ اب وہ اپنے طبعی جسم کے باہر ہیں یا جسم چھوڑ چکے ہیں، فوت ہو جانے والے اقربا یا مذہبی شخصیتوں کا نظر آنا۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ وہ شخص جن باتوں کو بیان کر رہا ہے یا تشریح کر رہا ہے اس کا زیادہ تر تعلق خود اس کے ذاتی تجربات، کلچر یا مذہب سے ہوتا ہے (کوئی آسمانی یا غیر مرئی بات کا ذکر نہیں ہوتا)
کینتھ رنگ Kenneth Ring ( 1980 ) کے مطابق این ڈی ای کو 5 درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
1۔ امن
2۔ جسم سے علیحدگی
3۔ اندھیرے میں داخلہ
4۔ روشنی دیکھنا
5۔ روشنی میں آ جانا
یوں تو اس تحقیق کے کئی پہلو ہیں لیکن سب سے اہم بات جو مختلف تحقیقات کے بعد سامنے آئی ہے وہ یہ مرتے وقت انسان کا رویہ بہت حد تک اس کے سماجی اور مذہبی اعتقادات پر منحصر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں 46 فیصد لوگ محافظ فرشتوں پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں مرتے وقت دکھائی دیتے ہیں۔
نرس کے تجربات۔ اور وہ میری نظروں سے اوجھل ہو گیا
یہ ایک ایسی صاحبِ دل، ہمدرد اور تجربہ کار نرس کی تحریر ہے، جسے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ایسے بے شمار مریضوں کی دیکھ بھال کا موقعہ ملا جو کینسر جیسی موذی بیماریوں کا شکار ہو کر آہستہ آہستہ موت کے منہ میں گئے۔ عام طور سے مریض اور لواحقین سب ہی اس بات کا ادراک رکھتے ہیں کہ مسافر اب اپنی آخری منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آئیے اسے پڑھیں، اس میں میرے اور آپ سب کے لئے عبرت ہے، سبق ہے اور سنبھلنے کا موقعہ ہے۔
ہر شخص موت کے قریب اپنے منفرد طریقہ سے پہنچتا ہے۔
اس آخری تجربہ کو ، اس گائیڈ لائن کو استعمال کریں، یہ سوچتے ہوئے کہ یہاں کچھ بھی ٹھوس نہیں ہے، سب کچھ بہت لچکدار ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہاں بیان کی ہوئی سب علامتیں موجود ہوں اور کچھ بھی موجود نہ ہوں۔ کچھ لوگوں کو اپنے جسم سے الگ ہونے کے لئے مہینوں درکار ہوں اور کچھ کو فقط چند منٹ لگیں۔ موت اپنے وقت پر آتی ہے اور اپنے طریقے سے آتی ہے۔ موت ایک منفرد شے ہے، جس طرح اس شخص کی ذات، جو اس تجربہ سے گزر رہا ہے۔
اگر مندرجہ ذیل علامات کو کسی ٹائم ٹیبل میں سمویا جائے، کسی ایک بہت ہی لچکدار ٹائم ٹیبل میں، تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں موت سے قبل ایک سے تین مہینے کے اندر رونما ہوتی ہیں۔ اور مرنے کا حقیقی عمل اکثر مرنے سے دو ہفتے قبل شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ ایک تبدیلی ہے، جو انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے، جو موت کے ایک دماغی عمل سے شروع ہوتی ہے۔ اپنی سوچ اور عقیدے کے مطابق۔ بد قسمتی سے یہ سوچ اکثر اوقات دوسروں کے ساتھ شیئر نہیں کی جاتی۔
موت سے ایک تا تین مہینہ قبل۔
ایک شخص اپنے اطراف کی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ دنیا سے الگ ہونے کی ابتدا ہے۔ سب سے پہلے اخبارات، اور ٹیلی ویژن سے کنارہ کشی اور پھر لوگوں سے، کوئی بھی قریب نہ آئے "آنٹی سے کہہ دو آج میرا جی اچھا نہیں ہے۔ ملاقات کا جی نہیں ہے۔“
اس کے بعد اولاد سے، اپنے پوتے پوتیوں اور نواسی نواسوں سے اور پھر اس سے بھی جس سے وہ دل و جان سے محبت کرتا تھا۔ اور یہ وقت ہے اپنے سے باہر کی تمام چیزوں کے ترک کرنے کا جو اندر آ رہی ہیں۔ اندر کی دنیا جہاں اب اپنی ذات کا تجربہ ہو رہا ہے۔ اندر جہاں اب صرف ایک ذات کی گنجائش ہے، فقط اپنی ذات کی۔
لوگوں کے لئے یہ ایک نیند ہے۔
اپنی ذات کے اندر ایک بہت اہم کام ایسی سطح پر ہو رہا ہے، جس سے باہر والے واقف نہیں ہیں۔ اس کی وجہ سے لوگوں سے بات چیت کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ الفاظ طبعی زندگی سے جڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اس طبعی زندگی سے جسے اب پیچھے چھوڑا جا رہا ہے۔ الفاظ اپنی اہمیت کھو رہے ہیں۔ لمس اور بے زبانی کچھ اور معنیٰ لے رہے ہیں۔
غذا۔
غذا ایک ذریعہ ہے جس سے ہم اپنے جسم کو توانائی پہنچاتے ہیں۔ یہ ایک ذریعہ ہے جس کے توسط سے ہم اپنے جسم کو حرکت دیتے ہیں، چلتے ہیں اور ہم متحرک رہتے ہیں۔ ہم زندہ رہنے کے لئے کھاتے ہیں۔ جب ایک جسم مرنے کے لئے تیار ہے تو یہ ایک قدرتی بات ہے کہ کھانا چھوڑ دیا جائے۔ لیکن لواحقین کے لئے یہ نظریہ قبول کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ اشتہاء میں مسلسل کمی آتی ہے، کسی چیز میں لذت معلوم نہیں ہوتی۔ کھانے کے مقابلے میں پینا بہتر معلوم ہوتا ہے۔ سب سے پہلے گوشت ترک ہوتا ہے، پھر سبزیاں اور دیگر ٹھوس غذائیں اور یہاں تک کہ نرم غذا سے بھی اجتناب ہوتا ہے۔ نا کھانا بہت مناسب ہے۔ ایک مختلف قسم کی توانائی کی ضرورت ہے۔ ایک روحانی طاقت کی نہ کہ جسمانی۔ جو اب یہاں سے سہارا دے کر آگے لے جائے۔
موت سے ایک ہفتہ قبل۔
اب زیادہ وقت سونے میں گزرتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آنکھیں کھولنا دشوار ہے۔ دونوں دنیاؤں میں ایک ایک قدم ہے۔ ایک شخص اکثر الجھن محسوس کرتا ہے ایسی جگہوں اور ایسے واقعات کے بارے میں لوگوں سے بات کرتا ہے جو ان کے لئے نا معلوم ہیں۔ وہ ایسے لوگوں کو دیکھ سکتا ہے اور بات کر سکتا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ جسمانی حرکات بے معنی ہوتی ہیں۔ اب محور تبدیل ہو رہا ہے۔ اس دنیا سے اگلی دنیا تک۔ وہ اس زمین پر اپنی جگہ چھوڑ رہے ہیں۔
طبعی تبدیلیاں۔
کچھ ایسی تبدیلیاں ہو رہی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اب بدن اپنے آپ کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کھو رہا ہے۔ اکثر اوقات بلڈ پریشر کم رہتا ہے۔ نبض کی رفتار میں تبدیلی ہو رہی ہے۔ کبھی معمول کی 80 سے بڑھ کر 510 تک پہنچ جاتی ہے اور کبھی کم ہو کر صفر بھی رہ جاتی ہے۔ کھال کا رنگ تبدیل ہونے لگتا ہے۔ سانس لینے کے عمل میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔
موت سے ایک دو دن یا چند گھنٹے پہلے
بعض دفعہ ایک دم سے توانائی کی لہر آتی ہے۔ انسان بہت چوکنا ہو کر بہت صاف آواز میں بات کرتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے ہلنا تک دشوار تھا۔ کسی پسندیدہ ڈش کی فرمائش ہوتی ہے، جب کہ گزشتہ کافی عرصہ سے کچھ کھایا پیا نہیں ہوتا ہے۔ ملاقاتی کمرہ میں بیٹھ جاتا ہے اور ملنے والوں سے بات چیت کرے گا۔ جب کہ گزشتہ کافی عرصے سے وہ لوگوں سے کتراتا رہا ہے۔ یہ ایک روحانی طاقت ہے جو اس میں آ چکی ہے اور اسے اس دنیا سے اگلی دنیا میں لے جانے کے لئے ہے اور یہ کوچ کرنے سے پہلے کی طبعی اور جسمانی علامت ہے۔ توانائی کی یہ لہر ہمیشہ محسوس نہیں ہوتی، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، لیکن عموماً اسے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ہفتے دو ہفتے پہلے کی جو علامتیں موجود تھیں اب بہت واضح ہو جاتی ہیں، جیسے جیسے موت نزدیک آتی ہے بے چینی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے خون میں آکسیجن کی کمی واقع ہوتی ہے، سانس لینے کا عمل آہستہ ہونا شروع ہو جاتا ہے، اور اکثر بے ترتیب ہوجاتا ہے۔ اکثر 15 سے 20، 25 بلکہ 40، 45 سیکنڈ کے لئے سانس رک کر دوبارہ بحال ہوتی ہے۔ سینے میں Congestion بہت بلند ہو سکتا ہے۔ ایک طرف سے دوسری طرف کروٹ لینے میں اس پر اثر ہو سکتا ہے، پھر بھی یہ آتا جاتا رہتا ہے۔ آنکھیں عموماً کھلی یا نیم وا رہتی ہیں، لیکن کچھ دیکھ نہیں رہی ہوتیں۔
ہم موت کے نزدیک کس طرح پہنچتے ہیں اور اس کا سامنا کس طرح کرتے ہیں یہ ہمارے زندگی کے خوف پر منحصر ہے۔ ہم نے یہاں زندگی میں کیسے حصہ لیا اور ہم اب ایک معلوم مقام سے نامعلوم مقام تک کوچ کرنے کے لئے کتنے تیار ہیں۔
خوف اور ادھورے کام دو بڑے عوامل ہیں اور اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ ہم موت کو قبول کرنے میں کتنی مزاحمت کرتے ہیں۔
جدائی کی گھڑی آجاتی ہے، جب سانس رک جاتی ہے، جسے ہم آخری سانس کہتے ہیں۔ اس کے ذرا لمبے وقفے سے ایک دو ہچکیاں آتی ہیں اور اس کے بعد جسم ساکت ہو جاتا ہے۔ اس کے مالک کو اب اس بھاری اور غیر متحرک والی سواری کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ اب ایک نئے شہر اور نئی دنیا میں داخل ہو چکا ہے۔
میں ساحلِ سمندر پر کھڑا ہوں۔ میرے ساتھ ایک کشتی کھڑی ہے۔ جس نے صبح کی ہوا کے ساتھ اپنے سفید بادبان پھیلا دیے ہیں اور نیلے سمندر کی طرف رواں ہو رہی ہے۔ یہ کشتی ایک خوبصورتی اور توانائی کی علامت ہے۔ میں کھڑا ہوں اور اسے دیکھ رہا ہوں یہاں تک کہ وہ جہاں سمندر اور آسمان مل رہے ہیں ایک بادل کے ٹکڑے کی طرح ضم ہو جاتی ہے۔
میرے برابر کھڑا ہوا کوئی شخص کہتا ہے۔ "وہ دیکھو وہ چلی گئی“۔ کہاں گئی؟
میری نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ مجھے اتنا ہی معلوم ہے۔ اس کا معدوم ہوتا ہوا وجود میری ذات کے اندر ہے۔ اس میں کہیں ہے۔ عین اسی وقت کسی نے میرے برابر سے کہا۔ ”وہ چلی گئی۔“
دوسری طرف کچھ اور آنکھیں ہیں جو اسے آتے دیکھ رہی ہیں، آوازیں ہیں جو اس کے استقبال کے لئے تیار ہیں "لو وہ آ گئی۔“ اور یہ موت ہے۔

