وطنِ عزیز کی خاموش فضائیں
یہ کہانی ہے 2022 کی جب بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بُگٹی پر امن کے بادلوں کا ایک گہرا سایہ تھا۔ امن کے یہ بادل بے شُمار جوانوں اور نہتے لوگوں سمیت خواتین اور بچوں کے خون اور آنسوؤں سے بنے وہ دھوئیں تھے جن کے گرجنے پر سسکیوں کی آوازیں محسوس ہوتی تھیں۔ ان کا برسنا خون کی مانند اور ہٹنا خونی انقلاب کا پیش خیمہ تھا۔ قبائلی نظام کی مضبوط روایات کو تہس نہس کر کے مصنوعی امن کا ایک کمزور جمہوری نظام نافذ کر کے جب ریاست خاموش بیٹھ گئی۔
تب 28 جنوری 2022 کی سرد ٹھنڈی ہواؤں میں ضلع ڈیرہ بُگٹی کے شہر سوئی میں ایک خونی بلاسٹ کے گرم شعلے نمودار ہوئے۔ اس بلاسٹ کے گرد و غُبار میں امن کے وہ مصنوعی بادل ایسے چھٹ گئے جیسے اُن کا کوئی وجود تھا ہی نہیں۔ اس بلاسٹ میں بُگٹی قبیلے کے 13 لوگوں کا خون سرزمینِ ڈیرہ بُگٹی کے سینے پر گِرا۔ یہ دھماکہ آنے والے وقت کے خون آلود طوفان کا چیختا چلّاتا قاصد تھا۔ اس بلاسٹ میں مرنے اور زخمی ہونے والوں میں سے بیشتر وہ تجربہ کار اور بہادر لوگ تھے جنہوں نے نواب اکبر بُگٹی کی شہادت کے بعد ایک لمبے عرصے تک پہاڑوں کو اپنا مسکن بنائے رکھا اور پھر مختلف وجوہات کی بنا پر سرینڈر کر کے ریاست کی امان میں رہنے لگے۔
مگر یہ اُس طوفان کے آنے کا پیش خیمہ تھا جو 15 سال قبل کئی خاندانوں کو اُجاڑ چُکا تھا۔ اس بلاسٹ کا ہونا تھا کہ قبائلی درجہ حرارت زور پکڑنے لگا۔ روایتی کھوج شروع ہوا تو اس بلاسٹ میں فراریوں کا ہاتھ سامنے آیا۔ مگر یہ سر زمین قبائلی نظام کا ایک مضبوط خیمہ تھا، جہاں ایک بندے کے ملوث ہونے کی قیمت قبیلے کی پوری شاخ کو چُکائی پڑتی تھی۔ اور یہاں 13 بندوں کے خون کا مطلب تھا خون کی ندیاں۔ تو پھر ہوا وہی جس کا ڈر تھا یعنی قبائلی جنگیں۔
یہاں سے اُس دن کا آغاز ہوا جس کی خون آلود ہواؤں نے ڈیرہ بُگٹی کو آئندہ نہ جانے کتنے برسوں تک اپنی لپیٹ میں لینا تھا۔ پھر سرزمینِ بُگٹی نے وہ وقت بھی دیکھا جب عید کی گھڑیاں اپنوں سے بچھڑنے کے سوگ میں گُزرنے لگیں۔ وہ وقت بھی آیا جب نوجوان رات کی نیند خود پر حرام سمجھنے لگے، آئے دن ٹارگٹ کلنگ کے واقعات شدت اختیار کرنے لگے اور گھروں پر فائرنگ ایک عام سی بات بن گئی۔ سولر سسٹم پر چلتا بورنگ کا نظام جو یہاں کے باشندوں کا سالانہ اناج پورا کرتا تھا آہستہ آہستہ اُن پر بھی حملے ہونے لگے۔
روزانہ کسی کے سولر پلیٹس توڑ کر اُن سے بھتہ وصول کیے جانے کا بازار گرم ہوا۔ یہاں تک کے سرینڈر ہونے والے سابقہ گوریلا کمانڈروں کو دن دیہاڑے سرِبازار ٹارگٹ کر کے فیس بُک پر (ایک اور وکٹ گِرنے ) کا سٹیٹس لگایا جاتا۔ یہ اس دور کا شاید سب سے بڑا المیہ تھا کہ ریاست جو پاکستان کے کسی بھی کونے میں رہنے والے ہر سانس لیتے جاندار کے تحفظ کی ذمہ دار تھی یہاں خاموش تماشائی بنی رہی۔ اس چیز کا فائدہ اُٹھایا اُن ان دیکھے چہروں نے جنہیں ریاست دہشتگرد کا نام دیتی ہیں اور آہستہ آہستہ بھتے کا وہ نظام اس حد تک مضبوط ہوا کہ آج ڈیرہ بُگٹی میں رہنے والا ہر فرد بھتہ ادا کیے بغیر اس سرزمین میں اپنا کاروبار نہیں چلا سکتا۔
سوئی سے کشمور سفر کرنا جان پر کھیلنے کے برابر ہے۔ دن بھر کے ڈھلتے سورج کی آخری شُعائیں زمین پر گِرنے سے قبل بازار کی آخری دُکان اپنا شٹر گِرا دیتی ہے۔ پھر بازار کی سُنسان گلیاں جنگ سے پہلے اُس خوفناک خاموشی کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں جو کسی حادثے کے بعد ایک نوخیز بچے کی لرزتی زبان میں محسوس کی جاتی ہے۔ یہاں سانس لیتے ہر شخص کو سخت سے سخت حالات کے لیے ہر وقت تیار رہنا پڑتا ہے کیونکہ کبھی بھی اُس کے کانوں میں جانی یا مالی نقصان کی خبر پہنچ سکتی ہے۔ اور یہ کہانی آج بھی اپنی داستان لکھ رہی ہے کیونکہ اسی خونی بارش میں کندھوں پے اُٹھائے لاشوں نے مُجھے قلم اُٹھانے پر مجبور کیا۔

