مظلوم کی مُذمت

  وقت بنا پوچھے اپنے ایک مخصوص دائرے میں گردش کرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے کہیں خوبصورت یادیں تو کہیں افسوس اور نہ ختم ہونے والی حقیقتیں چھوڑ جاتا ہے۔ تاریخ کے گرد و غُبار میں آپ جس سمت کا راستہ اپنائیں ہر قدم پر آپ مختلف اشخاص کی عجیب و غریب داستانوں کا سامنا کریں گے۔ کہیں ریاستوں کے نشیب و فراز دیکھیں گے تو کہیں علم و ادب کے خوبصورت بادلوں کے سائے تلے ایک ٹھنڈک محسوس

Read more

سیاہ بادلوں کی نذر

اپنے آپ میں مگن اس بے پرواہ پر تیز رفتار دنیا میں میں سوچتا ہوں کیا کبھی خون سے رنگے کفن پر بھی سیاست کی بدبودار نظر پڑھ سکتی ہے؟ کیا کبھی رنگین نظاروں کی المناک داستانیں لکھی جا سکتی ہیں؟ کیا کبھی ان دیکھے چہروں کے ناپاک ارادوں کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جاسکتا ہے؟ بلوچ سرزمین کے بظاہر غیر آباد مگر انسانی آنکھ سے اوجھل خزانوں سے مالامال سیاہ پہاڑ پر ایک دنیا کی رُخ بدلتی ہواؤں

Read more

اجنبی آنکھ سے تین قطرے

نئے سال کی سرد شامیں جب مختصر دن کے نرم و نازُک سورج کو خُدا حافظ کے پیغام دے رہی ہوتی ہیں تو جدید دور کے بنتے بِگڑتے حالات سے بے خبر ایک نوجوان اس سورج کو کچھ الگ انداز سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس ڈوبتے سورج کو وہ ایک ایسی ڈوبتی ہوئی کشتی سے جوڑ رہا ہوتا ہے جس کے مُسافر گہری نیند میں مدہوش ہوں۔ وہ نہ جانے کیوں خُشک آنکھوں میں ایک ہلکی نرم و نازُک

Read more

سرزمینِ بلوچان کا الگ نوجوان

میں کہوں زُلفِ درخشاں میں تیرے عکس کی مانند ڈوبے ہوئے دیوانے وطن دوست ہزاروں ہیں دسمبر کی سرد شامیں جب مختصر دن کے نرم و نازُک سورج کو خُدا حافظ کے پیغام دے رہے ہوتے ہیں تو جدید دور کے بنتے بِگڑتے حالات سے بے خبر ایک نوجوان اس سورج کو کچھ الگ انداز سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس ڈوبتے سورج کو وہ ایک ایسے ڈوبتے ہوئے کشتی سے جوڑ رہا ہوتا ہے جس کے مُسافر گہری نیند

Read more

باغی بلوچ، بد امن بلوچستان

سنو اے راہِ راست کے بے زبان دانشورو! اے جگر سوز لمحات کے نایاب مسافرو! میں حق و باطل کا فرق بھول گیا، میں تلوار تو لے آیا کفن بھول گیا۔ سنو آج زمین لرز نہ جائے تو بھی حیرت ہے یہ روتے بلکتے مسافروں کی آخری صدائیں ہیں، انہیں سمیٹ لو یہ وہ موتی ہیں جو کل تمھارے دامن سے بھی چمٹ سکتے ہیں۔ اے راہ راست کے دانشورو! آج پھر میں مجبور ہوا۔ میرے ضمیر نے مجھے زنجیر

Read more

آزاد وطن کے غُلام باشندے

صبح صبح جب ان دیکھے گہرے زنجیروں میں جکڑے میرے وطن کے سینے پر پُر کشش ہوائیں چلتی ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے دنیا کی تمام رعنائیاں میرے وطن کے گِرد چکر کاٹ رہے ہوں۔ درختوں سے اُڑتے بے شُمار پرندے جیسے کہے رہے ہوں ہم آزاد ہیں، ہم جو چاہیں جو کہیں، جو چاہیں سُنیں اک نئی صبح لیے اپنی قسمت پر رشک کرتے ہیں۔ یہ دیکھ کر انسانی تاریخ کے ہزاروں سالوں کی ایک کُھلی کتاب میرے

Read more

علم کا کفن

ایک وقت تھا جب دجلہ کے کنارے دلفریب نظاروں والا پُرکشش و خوبصورت شہر بغداد اپنے عروج کے دن دیکھ رہا تھا۔ علم و ادب ک محافل سجتیں، کتابوں سے بھری لائبریریاں، قدردان اُستاد، شوقِ تجسس میں ان گنت شاگرد علم سیکھنے اور جاننے کی نا ختم ہونے والی پیاس کو بُجانے کی غرض سے اس شہر کی آب و ہوا میں سانس لیتے تھے۔ مگر جہاں ایک طرف انسان اس زمین کے سینے پر روزِ اول سے امن کے

Read more

وطنِ عزیز کی خاموش فضائیں

یہ کہانی ہے 2022 کی جب بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بُگٹی پر امن کے بادلوں کا ایک گہرا سایہ تھا۔ امن کے یہ بادل بے شُمار جوانوں اور نہتے لوگوں سمیت خواتین اور بچوں کے خون اور آنسوؤں سے بنے وہ دھوئیں تھے جن کے گرجنے پر سسکیوں کی آوازیں محسوس ہوتی تھیں۔ ان کا برسنا خون کی مانند اور ہٹنا خونی انقلاب کا پیش خیمہ تھا۔ قبائلی نظام کی مضبوط روایات کو تہس نہس کر کے مصنوعی امن کا

Read more