تعلیمی اداروں میں ویڈیو لرننگ کی ضرورت و اہمیت


 

دنیا بھر میں ویڈیوز کے ذریعے دی جانے والی تعلیم اور ٹیکسٹ کی صورت میں دی جانے والی تعلیم میں موازنہ کرنے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ویڈیو کے ذریعے سیکھنے کا عمل ٹیکسٹ سے 50 فیصد زیادہ ہو سکتا ہے اور مواد کو یاد رکھنے کی صلاحیت 25 سے 65 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

ویڈیوز کے ذریعے تعلیم دینے کی ابتداء 1950 کے شروع میں ہوئی۔ اس وقت یہ تعلیمی ویڈیوز، شوز اور ڈاکومینٹریز وغیرہ تک محدود تھی۔ اس کے بعد فلم بھی اس میں شامل ہو گئی اور یو ٹیوب آنے کے بعد پوری دنیا کے لیے آسانی پیدا ہو گئی۔ بہت سے ممالک نے اس سے فائدہ اٹھایا مثلاً چین، یو ایس اے، ساؤتھ کوریا، فن لینڈ، جاپان وغیرہ اور اپنے تعلیمی اداروں میں ویڈیو لرننگ کو فروغ دیا۔ آج وہ تعلیم اور ترقی کی دوڑ میں دنیا پر راج کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں اگر دیکھا جائے تو یہ رجحان چند پرائیویٹ گروپس کے تعلیمی اداروں کے علاوہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے اور جہاں ہے وہاں بھی برائے نام ہی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یہاں بھی زیادہ سے زیادہ کسی سائنسی تصویر کو سمجھانے تک ان کا استعمال ہے۔ اس کے علاوہ کسی چیز کو ڈاکومینٹری یا فلم کے ذریعے سمجھانے یا بچوں کو ویڈیوز کے ذریعے سکھانے کا رجحان نہیں ہے۔ مثلاً اگر کوئی ٹیچر بچے کو تتلی کے بارے میں پڑھا رہی ہے تو اگر وہ اسے اڑتی ہوئی تتلی کی ایک ویڈیو دکھا دے تو بچے کو زیادہ سمجھ آئے گی۔ لہذا ویڈیوز کے ذریعے سیکھنے کے عمل کو ہر تعلیمی ادارے میں لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے لیے پرائمری سے یونیورسٹی لیول تک کے کلاس رومز میں ڈیجیٹل سکرینز کا ہونا ضروری ہے۔ تا کہ ٹیکسٹ کے ساتھ ویڈیو پلیٹ فارمز تک ٹیچرز کی آسان رسائی ہو۔ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری لیول پر عموماً سائنس، ٹیکنالوجی یا کسی بھی فیلڈ سے متعلقہ بنیادی چیزیں پڑھائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ویڈیوز سے یو ٹیوب بھری ہوئی ہے۔ لہذا اگر ان کو ٹیکسٹ کے ساتھ ساتھ ویڈیوز کے ذریعے سمجھایا جائے تو رٹا سسٹم کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

اسی طرح جب یونیورسٹی لیول کی بات کریں تو طلباء کی ساری توجہ نوٹس اور اسائنمنٹس پر ہوتی ہے اور ہر پروفیسر کو یہ لگتا ہے کہ صرف اس کے لکھے نوٹس درست ہیں۔ یہ بالکل غلط رویہ ہے جسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں ویڈیو لرننگ کی سب سے زیادہ ضرورت ہی یونیورسٹی لیول پر ہے جہاں پریکٹیکل تعلیم ناپید ہے اور ڈگریاں صرف رٹے کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں کم از کم ڈاکومینٹریز اور فیلڈ سے متعلقہ فلمز طلباء کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ انہیں اپنی معلومات کو کہاں اور کس طرح استعمال کرنا ہے اور ان کی فیلڈ سے جڑے فوائد و مسائل کیا ہیں ایگریکلچرل سائنس کے سٹوڈنٹ کو زراعت کے جدید طریقوں کے بارے میں پڑھانے کے بعد کم از کم ویڈیوز ہی کے ذریعے ان کا استعمال بھی بتایا جائے تو وہ بہتر سمجھ سکے گا لیکن اگر اسے اس موضوع سے جڑی ایک اچھی فلم دکھائی جائے یا دیکھنے کو کہا جائے تو اسے یہ بھی سمجھ آئے گا کہ اس فیلڈ میں ہمارے ملک میں جو مسائل ہیں ان کا حل کیا ہے۔ یعنی آپ اس کے اندر اس کام کو کرنے کا جذبہ بڑھا رہے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ زیادہ پریکٹیکل بن کر سوچنے میں اس کی مدد کر رہے ہیں۔

اسی طرح ہر شعبے سے متعلقہ فلمز اور ڈاکومینٹریز، جو پاکستان میں تو نہیں مگر دوسرے ممالک میں ضرور بنائی جاتی ہیں، نوجوانوں کے سوچنے اور کام کرنے کی صلاحیت میں واضح نکھار پیدا کر سکتی ہیں۔ لہذا تعلیمی نظام میں جدید ریفارمز کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی اور ویڈیو لرننگ کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت کے علاوہ تعلیمی اداروں کو خود بھی اس کے بارے میں سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو دودھ اور نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دینے کی بجائے اگر ان کے کلاس رومز میں ڈیجیٹل سکرینز لگوا دی جائیں تو ان کا زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے

Facebook Comments HS