یکساں نصاب تعلیم


نظام تعلیم کسی قوم کی مجموعی روایات، نفسیات اور ترجیحات سے ترتیب پاتا ہے۔ اسے موجود اور آئندہ حالات کو پیش نظر رکھ کر تیار کیا جاتا ہے۔ نظام تعلیم میں یکتائی نہ ہونے سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں اور یکساں نصاب تعلیم نہ ہونے کی بنا پر کئی ذہنوں، نظریوں اور خیالات کو پروان چڑھنے میں مدد ملتی ہے۔ جس کی وجہ سے باہم ٹکراؤ، کشمکش اور عدم مطابقت پیدا ہوتے ہیں۔ کسی قوم کی مجموعی ترقی میں یکساں نصاب تعلیم کی بے حد اہمیت ہے۔

یکساں نصاب کی زبان ایک ہوتی ہے۔ یوں ایک ہی زبان میں نصاب پڑھنے والے ایک دوسرے کے مافی الضمیر کو آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔ اعلیٰ اور ادنیٰ درجے کا فرق ختم ہو جاتا ہے اور ذہنی مطابقت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے اثرات بتدریج سوسائٹی کے طبقات پر ظاہر ہوتے ہیں اور ان میں فاصلہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ کسی ملک کی تعلیمی زبان کی یکسانیت لوگوں کے مابین صحت مند مکالمے کا باعث ہوتی ہے۔ پاکستان میں تعلیمی زبان یکساں نہ ہونے کی وجہ سے ایک قوم بننے کا تصور مجروح ہوا ہے۔

یکساں نصاب کی بدولت ذہن سازی کا عمل تیزی سے پروان چڑھتا ہے اور سٹوڈنٹس کے اختلافی موضوعات پر ضرب لگتی ہے۔ یوں علاقائی، صوبائی، لسانی، مسلکی اور ثقافتی معاملات میں وسعت نظری دیکھنے میں آتی ہے۔ پاکستان میں معاملات کے الجھاؤ میں الگ الگ نصاب کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہاں شناخت کا مسئلہ اور بھی پیچیدہ صورت حال کی غمازی کرتا ہے۔ کلی شناخت کے بجائے جزوی شناخت پر اصرار کی بڑی وجہ نصاب ہی ہے۔

یکساں نصاب ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔ صحت مند مقابلے کے ذریعے قابل لوگوں کا چناؤ ہوتا ہے اور اعتراضات کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ انفرادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع ملتے ہیں اور ایک جیسی فضا میں خود آزمائی سے نتائج تسلیم کرنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ ترقی کا پہلا تصور ذہنی اطمینان کا مرہون منت ہوتا ہے۔ اطمینان کا اگلا درجہ اعتماد پر منتج ہوتا ہے اور اس کے بعد اعتبار آتا ہے۔ نصاب تعلیم پر اعتبار کا مطلب ہے کہ سٹوڈنٹس کو مستقبل کے خدشات سے نجات حاصل ہو گئی ہے۔ تعلیم کو ملازمت سے منسلک کرنے کی سازش انگریزی عہد حکومت میں پروان چڑھی۔ افسوس! پاکستان میں ابھی تک اس صورت حال کو بدلنے کی کوشش بار آور ثابت نہیں ہوئی ہے۔ اس کا خمیازہ نسلوں کو بھگتنا پڑا ہے۔

موجودہ دور میں فکری کشمکش عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا نے کئی بتوں کو توڑ دیا ہے اور مذہب، قومیت اور نظریے سمیت تمام معاملات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی راہ ہموار کی ہے۔ سٹوڈنٹس بہت جلد نئے پن کو قبول کر لیتے ہیں اور کوئی شک نہیں کہ نئے پن میں زیادہ کشش ہوتی ہے۔ ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ رنگ برنگے نظریات کا مقابلہ کرنے کے لیے سٹوڈنٹس کو قومی دائرے سے باہر نکلنے نہ دیا جائے۔ اس سلسلے میں یکساں نصاب بے حد کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں مختلف قسم کا نصاب صورت حال کی خرابیوں کا موجب ہے۔ ان دنوں اس پر ورکنگ ہو رہی ہے اور یکساں نصاب کے لیے حکومتی اقدامات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اس سے پہلے سرکاری نصاب، انگلش میڈیم، کیمبرج سسٹم، کیڈٹ سسٹم اور درسی نظامی کی وجہ سے ایک جیسی سوچ کی آبیاری ممکن نہیں تھی۔ یہ مشکل مرحلہ ہے مگر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے جس سے ملکی مفاد وابستہ ہے۔

یکساں نصاب کے ساتھ معیار تعلیم کو ملحوظ رکھنا حد درجہ ضروری ہے۔ یعنی سائنسی، منطقی اور سماجی علوم کی تحصیل کو جدید خطوط پر استوار کیا جانا چاہیے۔ فرسودہ اور روایتی طریقوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اس سلسلے میں حکومت لائحہ عمل تیار کر سکتی ہے۔ اگلی اہم بات یہ ہے کہ حکومت بجٹ میں شرمناک حد تک محدود وسائل سے مطلوبہ مقاصد ہرگز حاصل نہیں ہو سکتے ہیں۔ عام زندگی کا مشاہدہ ہے کہ معاملات پر سمجھوتہ کسی خرابی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ نصاب کے معیار پر سمجھوتہ قومی مفاد پر کاری ضرب لگا سکتا ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نصاب کی تشکیل میں انہیں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے جائز مطالبات و اعتراضات دور کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ ممکنہ حد تک اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے یہ مثبت اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم، صحت اور روزگار کے یکساں مواقع میسر آتے ہیں۔ ان کی ترجیحات میں قانون کی حکمرانی کو اولیت حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان میں قوانین موجود ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا ہے۔ یکساں نصاب کو قانونی حیثیت دی جانی چاہیے تا کہ پرائیویٹ ادارے اپنے طور پر ایسا نصاب نہ پڑھائیں جو کسی اعتبار سے قومی، ملکی اور نظریاتی مفادات کو نقصان پہنچانے کا موجب بنے۔

یکساں نصاب محض ایک خیال ہی نہیں ہے یہ ایک جامع ضابطے کا اولیں باب ہے جو فکری یکسانیت کا نقش اول قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلو تہی مجرمانہ غفلت سے کم نہیں ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے تقاضے بدل گئے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا زمانہ ہے۔ نئی نسل وقت کی رفتار سے تیز چل رہی ہے۔ یکساں نصاب میں آئندہ زمانے کی ضروریات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ تا کہ بین الاقوامی سطح پر ترقی کے ثمرات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہو۔

 

Facebook Comments HS