چھلا ہویا ویری!
کئی برس ہوئے بچے دانی کو جسم سے باہر لٹکے ہوئے۔ چلنا محال، کام کرنا مشکل اور ازدواجی تعلق کا تو نہ ہی پوچھیے۔
چالیس برس کی وہ خاتون ہمارے سامنے بیٹھی زار و قطار رو رہی تھیں۔
پیشاب بھی مشکل سے آتا ہے اور پاخانہ بھی۔ بچے دانی ویجائنا کے اندر ڈال کر پٹی باندھتی ہوں مگر کچھ ہی دیر میں پھر باہر۔
پچھلے برس ایک ڈاکٹر نے اندر چھلا ڈال دیا۔ چھلے سے بچے دانی کے منہ پہ زخم ہو گئے، مشکل زندگی اور مشکل۔ بتائیے کیا کروں؟
آپ لیٹیے میں معائنہ کر کے دیکھتی ہوں۔ ہم نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
بچے دانی ویجائنا سے باہر تھی ویجائنا کی اوپری دیواروں کے ساتھ۔ مثانے اور مقعد کا کچھ حصہ بھی ڈھیلا ہو چکا تھا۔ بچے دانی کے منہ کے گرد زخم بھی تھا جس سے خون رس رہا تھا۔
بچے دانی کو اچھی طرح ٹٹول کر دیکھا تو محسوس ہوا کہ کچھ حصہ اندر ہے اور کچھ باہر۔ یہ دوسرے درجے کا prolapse تھا۔
بچے دانی کے باہر لٹکنے کے مختلف مدارج ہیں اور ان کو پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے میں بانٹا گیا ہے۔ تیسرے درجے میں بچے دانی مکمل طور پہ باہر آ جاتی ہے ویجائنا کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے۔ دوسرے درجے میں آدھی بچے دانی باہر آتی ہے اور کچھ ویجائنا کی دیوار بھی۔
چھلے کا تجربہ آپ کے لیے اچھا نہیں رہا۔ بہتر ہے آپ بچے دانی نکلوا دیں۔ اور یاد رکھیں صرف بچے دانی نکالنی ہے، انڈے دانی یا اووری نہیں۔ آپ کے ہارمونز اووری سے پیدا ہوتے ہیں سو ان کی آپ کو ضرورت ہے۔ ہم نے کہا۔
بچے دانی نکالنے کا کوئی نقصان تو نہیں ہو گا، انہوں نے پوچھا۔
پہلے آپ بتائیے کہ بچے دانی رکھنے کا کیا فائدہ ہے آپ کو؟ ہم نے ہنس کر کہا۔
وہ لاجواب ہو گئیں۔
ہماری بات سمجھنے کے بعد شوہر سے مشورہ کرنے کا کہہ کر چلی گئیں۔
چھ ماہ بعد ؛
ڈاکٹر میں آپ کے پاس آئی تھی چھ ماہ پہلے۔ بچے دانی باہر لٹک رہی تھی میری۔ آپ نے آپریشن کا کہا تھا۔ شوہر کو بتایا تو وہ کہنے لگے کہ پاکستان سے کروائیں گے۔ پھر ہم پاکستان چلے گئے۔
بہت اچھا کیا آپ نے۔ کروا لیا آپ نے آپریشن؟ ہم نے پوچھا۔
جی ڈاکٹر۔ لیکن۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ وہ پریشان نظر آتی تھیں۔
کیا مطلب؟ ہم نے پوچھا۔
آپریشن ہوا تھا مگر ابھی بھی۔ کچھ باہر ہے۔ وہ کنفیوزڈ سی تھیں۔
کیا باہر ہے؟ ہم نے حیران ہو کر پوچھا۔
وہ جی۔ پہلے تو بچے دانی نما گولہ گریپ فروٹ سائز کا تھا جو باہر نکلتا تھا۔ اب اس حجم کا تو نہیں مگر ابھی بھی کچھ نکلتا ہے باہر۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ہم نے حیران ہو کر پوچھا۔
جی دیکھ لیں آپ خود ہی۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں بولیں۔
معائنہ کیا ہم نے اور ہم ہک دک رہ گئے۔ بچے دانی تو نہیں مگر بچے دانی کے منہ والا حصہ اور ویجائنا کی دیواریں ایک چھوٹے سنگترے کے حجم کے برابر، باہر تھیں۔
آپ کا آپریشن کہاں ہوا تھا؟ ہم نے پوچھا۔
جی فیصل آباد کے قریب ایک چھوٹا شہر ہے وہاں کے میڈیکل سینٹر میں۔
کس نے کیا تھا؟
فیصل آباد سے ایک سرجن آئے تھے۔ انہوں نے کہا۔
یہ سنتے ہی ہمیں بات سمجھ میں آ گئی اور ہم نے فوراً پوچھا۔ آپ کا آپریشنل ویجائنا کے راستے ہوا یا پیٹ کے راستے۔
جی پیٹ کے راستے۔ وہ بولیں۔
کیوں؟ ہم نے پوچھا
پتہ نہیں جی۔ انہوں نے جو کہا ہم نے کروا لیا۔ وہ معصومیت سے کہنے لگیں۔
پتہ کرنا تھا نا جی۔ ہم بڑبڑائے۔
کتنے پیسے دیے؟
جی ڈیڑھ لاکھ۔
ڈیڑھ لاکھ دے کر بھی وہ وہیں کی وہیں کھڑی تھیں۔
ان کا آپریشن جنرل سرجن نے کیا تھا اور جنرل سرجن بچے دانی پیٹ کے راستے سے نکالنا ہی جانتے ہیں۔ ویجائنا کے راستے بچے دانی نکالنا ان کے بس کی بات نہیں، یہ سینئیر گائناکالوجسٹ کا علاقہ ہے۔
صاحب اس سے پہلے کہ ہم آپریشن کی تفصیل میں جائیں، چھلے کی کہانی سن لیں۔
وہ خواتین جن کی بچے دانی کم عمری میں باہر نکل آتی ہے اور انہیں ابھی بچے پیدا کرنے ہوتے ہیں ان کی ویجائنا کے اندر ایک ربر کا بنا چھلا ڈالا جاتا ہے جسے رنگ پیسری Ring pessary کہتے ہیں۔ یہ چھلا گرتی ہوئی بچہ دانی اور ویجائنا کی دیواروں کو سہارا دیتا ہے۔ چھلا ایک عارضی علاج ہے اور اس دورانیے میں خاتون کو وقت دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا خاندان مکمل کر سکیں۔
چھلا یا رنگ پیسری کے مختلف سائز ہوتے ہیں اور کس خاتون میں کس نمبر کا چھلا رکھا جائے گا یہ گائناکالوجسٹ معائنے کے بعد فیصلہ کرتی ہیں۔
ویجائنا میں ربر کا بنا ہوا چھلا کچھ سائیڈ ایفکٹس بھی پیدا کرتا ہے جس میں انفیکشن / زخم / Discomfort شامل ہیں۔
یاد رکھیے ربر پیسری گری ہوئی بچے دانی کا عارضی علاج ہے۔ آخری حل آپریشن ہی ہے مگر وہ والا نہیں جو ہماری مریضہ کروا کر آئی تھیں۔

