دشمن کی دیوار ڈھا دو، خواہ خود اس کے نیچے دب جاؤ


سرائیکی کی ایک مثال ہے، ”دشمن دی کندھ ڈھاوے بھانوے اپنے تے آوے“  مطلب دشمن کی دیوار گر جائے بھلے ہم پہ آگرے۔ یعنی دوسرے کا نقصان ہر صورت میں ہونا چاہیے ہم خود اس نقصان سے زیادہ متاثر ہوں اور خود کو زیادہ گزند پہنچا لیں۔ یہی حال ہمارے ملک میں ہر طرف ہے چاہے رشتے ہوں، دوستیاں، ورک پلیس، سیاست یا نظریات لوگ ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچنے میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ یہ تک بھول جاتے ہیں کہ اس سے ان کا کتنا نقصان ہو گا۔ اتنی اپروچ ہے اس قوم کی۔ اس سے زیادہ کی ان کی سوچنے صلاحیت نہیں ہے نہ کسی بیرونی سازش کی ضرورت یہ خود کو خود ہی ختم کر لیتے ہیں۔

دوستیوں اور تعلق میں دیکھ لیں لوگ بظاہر ایک دوسرے کے دوست ہوں گے لیکن دل کدورت سے بھرے۔ جہاں کسی کی زندگی پرسکون نظر آئی، کوئی خوش اور کامیاب نظر آیا وہیں پیٹ میں مروڑ اٹھ جائے گا کہ کسی طرح سے اس کا سکون خراب کیا جائے۔ اور کچھ نہیں ہو سکے گا تو گوسپ کے نام پہ من کی بھڑاس نکال لیں گے۔ ہر ممکن کوشش کریں گے چلو زیادہ نہ سہی نام ہی خراب کر دیں۔ حلقہ احباب توڑ دیں کم از کم دوسرے کو ذہنی اذیت تو ملے گی ہی۔

کاروبار اور ورک پلیس پہ یہی رویہ زیادہ شدت سے نظر آتا ہے۔ اس کا ماحول ٹاکسک نہ ہو تو سکون نہیں ہوتا۔ دوسروں کے کام کا کریڈٹ خود لینا۔ یا پھر جان بوجھ کے اسے نظر انداز کرنا ایک ٹاکسک رویہ ہے۔ یہاں ٹانگ کھنچنا زیادہ ضروری ہوتا ہے اس میں بلاوجہ کا پریشر پیدا کرنا مطلب کام کرو نہ کرو سر درد لازمی ساتھ لے کے گھومو! خوشی اسی میں ہے۔ پرفارمنس گئی تیل لینے نہ خود کام کریں گے نہ کسی کو کرنے دیں گے۔ پروفیشنل ازم کیا ہوتا ہے یہ کسی کو نہیں پتہ نہ پتہ کرنے کی ضرورت ہے ہاں جو ہمیشہ سے سنا، دیکھا اس کی بنیاد پہ چغلی کھانا، گوسپ کرنا دوسروں کی ٹانگ کھنچنا لازم ہے ورنہ دن اچھا نہیں گزرتا۔ اب اس سب کرنے میں جو ایک مکمل ماحول بنتا ہے اس میں زہریلے لوگ بھی اتنے ہی متاثر ہوتے ہیں جتنا کہ وہ جن کے ساتھ کھیلا جا رہا ہوتا ہے۔ لیکن بات وہی ہے کم از کم اتنی اچیومنٹ تو ملتی ہے نا کہ دوسرے تو ذلیل ہوئے ہم ہوئے تو خیر ہے۔

سیاست تو نام ہی اسی کا ہے۔ دونوں ہاتھ گندے کر کے ایک دوسرے پہ کیچڑ اچھالو۔ خوب دل کھول کے الزام ترشی کرو یہ سب کرنے میں ساری دنیا میں امیج خراب ہو کس کو پرواہ ہے بس اندھی عقیدت والے عوام کی تالیوں کا شور اور سوشل میڈیا پہ ٹرینڈ تو بنتا ہے۔ یہی کافی باقی اس کا نتیجہ کسے بھگتنا ہے اس کی پروا کس کو ہے۔

یہی حال نظریاتی لوگوں کا ہے کوئی دلیل ہو یا نہ ہو دوسروں پہ تنقید کرنی ہے تو کرنی ہے چاہے کتنی ہی بے معنی ہو۔ زیادہ نہیں ہو گا تو ڈارک ہیومر کے نام پہ گھٹیا ترین مزاح کریں گے۔ بھئی پہلے سمجھ تو لو کہ وہ ہے کیا۔ دوسروں کو گندا کرنے کی کوشش میں خود کی ایسی تصویر بنا لیں گے کہ جسے دیکھتے ہوئے بھی گھن آئے۔ لیکن بات وہی ہے "بد نام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا”۔ بس پھر جو بھی ہو دشمن کا نقصان ہو بھلے اس کا نقصان کم ہو اور ہم بے شک جان سے جائیں۔

Facebook Comments HS