سوئٹزر لینڈ کا تعارفی خاکہ
سوئٹزر لینڈ مغربی، وسطی اور جنوبی یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ ایک لینڈ لاک ملک ہے یعنی اس کی کوئی بھی سرحد سمندر سے نہیں ملتی۔ اس کے جنوب میں اٹلی، مغرب میں فرانس، شمال میں جرمنی اور مشرق میں آسٹریا واقع ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے یہ ایک طرف کوہ الپس کی خوبصورت وادیوں اور دوسری طرف ایورہ کی اُونچی نیچی پہاڑیوں میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 21265 مربع کلو میٹر اور آبادی تقریباً 90 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ آبادی کا بڑا حصہ سطح مرتفع پر قائم بڑے شہروں میں سکونت پذیر ہے۔ بین الاقوامی شہرت کے حامل دو شہروں زیورخ اور جنیوا کو ملک کے اقتصادی مراکز کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایک کثیر لسانی اور کثیر نسلی ملک ہے۔ جرمن، فرانسیسی، اطالوی اور رومانی یہاں کی بڑی نسلیں ہیں۔ جن کی متعلقہ زبانیں سرکاری زبانوں کا درجہ رکھتی ہیں۔ قانونی طور پر کوئی دارالحکومت نہیں ہے مگر عملی طور پر برن دارالحکومت کے طور پر کام کرتا ہے۔
سوئٹزر لینڈ کی ابتدا پرانی سوئس کنفیڈریشن سے ہوئی جو آسڑیا اور برگنڈی کے خلاف فوجی کامیابیوں کے بعد قرونِ وسطیٰ کے آخر میں قائم ہوئی تھی۔
یکم اگست 1291 ء کے اس وفاقی چارٹر کو ملک کی بانی دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے ہر سال یکم اگست ملک کے قومی دن کے طور پر منایا جا تا ہے۔ اس نے اقوام متحدہ میں 2002 ء میں شمولیت اختیار کی لیکن اس کی خارجہ پالیسی امن کے قیام کے لیے فعال کوششوں پر مرکوز رہی ہے۔
سوئٹزر لینڈ بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس کی جائے پیدائش ہے اور بڑے بین الاقوامی اداروں بشمول اقوام متحدہ عالمی تجارتی تنظیم (WTO) عالمی ادارۂ صحت (WHO) عالمی ادارہ محنت (ILO) اور فٹ بال کی عالمی تنظیم (FIFA) کے ہیڈ کواٹر یہاں پر ہیں۔ یہ یورپین فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (EFTA) کا بانی رکن ہے۔ لیکن یورپی یونین (EU) یورپی اقتصادی علاقہ یا یورو زون کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم یہ یورپین سنگل مارکیٹ اور شینگن علاقے کا حصہ ہے۔ یہ ایک وفاقی جمہوریہ ہے جو چھبیس اکائیوں یا صوبوں پر مشتمل ہے جو کینٹون کہلاتے ہیں۔ جب کہ وفاقی دفاتر برن میں قائم ہیں۔
2021 ء سے ہیومین ڈویلپمنٹ انڈکس میں یہ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ معاشی مسابقت اور جمہوری طرزِ حکمرانی سمیت دیگر بین الاقوامی اشاریوں میں بھی اعلیٰ کارگردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ زیورخ، جنیوا، اور باسل جیسے شہر معیارِ زندگی کے لحاظ سے سب سے اُونچے درجے پر ہیں۔ حالانکہ طرزِ رہائش سب سے زیادہ مہنگا ہے۔
سوئٹزر لینڈ کی مشرقی سرحد کے نزدیک الپس کے پہاڑوں میں ڈیوس نامی ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ جو سطح سمندر سے پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر ہے۔ ہر سال ورلڈ اکنامک فورم (WIF) کی سالانہ میٹنگ اسی شہر میں منعقد ہوتی ہے۔ جس میں دنیا بھر کے امیر ترین افراد شرکت کرتے ہیں اور اگلے سال کے لیے دنیا کی قسمت کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔
سوئس سرزمین میں داخل ہوتے ہی صفائی اور تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ جابجا چار مختلف قسم کے کوڑے دان نظر آتے ہیں۔ جہاں بوتل، کاغذ، نامیاتی اجزاء اور عام کچرے کو الگ الگ ٹھکانے لگایا جاتا ہے تاکہ انہیں ری سائیکل کر کے دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جائے۔
سوئس نظام تعلیم بڑا دل چسپ اور مختلف ہے چار پانچ سال کے ننھے ننھے بچے آپ کو ٹولیوں میں یا اکیلے سکول کی طرف پیدل جاتے ہوئے ملیں گے۔ اس طرح سکول میں اکیلے آنے جانے سے بچوں میں اوائل عمری سے ہی آزادی، خود مختاری اور غیر محتاجی کا تصور راسخ ہوتا ہے۔ قوت فیصلہ اور قوت مشاہدہ کی نمو ہوتی ہے۔ یونیفارم کے جھنجٹ سے آزاد ہیں۔ تعلیم پہ سالانہ بجٹ کا سولہ فیصد حصہ لگایا جاتا ہے۔ نویں جماعت کے بعد سکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ تربیت (اپرنٹس شپ) کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ جو تمام شعبہ ہائے زندگی میں موجود ہوتی ہیں۔ اپرنٹس شپ کرنے والے بچوں کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔
سوئس تجدیدی سوچ یعنی انوویشن میں آبادی کے لحاظ سے دنیا کی ایک نمبر قوم ہیں۔ فی ملین آبادی سب سے زیادہ نوبل پرائز حاصل کرنے کا تاج بھی اسی قوم کے سر ہے۔ دنیا کے دو بڑے مفکرین روسو اور ژین پیازے کا تعلق بھی اسی جادوئی سرزمین سے ہے۔ گھڑیاں اور چاکلیٹ یہاں کی معروف مصنوعات ہیں۔ گھڑیوں کی طرح سوئس چاکلیٹ بھی بہت مہنگی ہوتی ہیں یہ خطہ چاکلیٹ کے استعمال میں بھی پہلے نمبر پر آتا ہے۔
سوئٹزر لینڈ کا دفاعی نظام تیسری دنیا کے ممالک کی طرح اُن پر بوجھ نہیں ہے۔ تمام بالغ مردوں پر اٹھارہ ہفتے کی عسکری تربیت لازمی ہے۔ جب کہ عورتوں کے لیے یہ اختیاری ہے۔ اس تربیت یافتہ فورس کو جس کی تعداد پندرہ سے بیس لاکھ کے درمیان ہوتی ہے کسی بھی وقت ملکی دفاع کے لئے طلب کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف 2003 ء کی آئینی ترمیم کے بعد باقاعدہ فوج میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے اور یہ چار لاکھ سے سکڑتے سکڑتے ڈیڑھ لاکھ سے بھی کم رہ گئی ہے۔ مجموعی قومی آمدنی کے 0.7 فیصد کے ساتھ فوجی اخراجات حیران کن حد تک کم ہیں۔ جب کہ تعلیم پر اس سے تقریباً 9 گنا زیادہ 6.5 فیصد خرچ کیا جاتا ہے۔ اس سے ہی سوئس قوم کی ترجیحات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
2008 ء میں سوئس فضائیہ کے سربراہ کو صرف اتنی سی بات پر نوکری سے برخواست کر دیا گیا کہ ایک تربیتی دورے پر بھیجے گئے فضائیہ کے چار اہل کار ایک کشتی ڈوبنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد سوئس فوج کے سپہ سالار نے اپنے متعلق افواہوں اور خبروں پر خود استعفیٰ دے دیا تھا۔ قصہ بس اتنا تھا کہ آرمی چیف ماضی میں اپنی ایک سابقہ شریکِ حیات کو ہراساں کیا کرتے تھے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے عفیفہ کو اٹھوا کر شمالی علاقہ جات کی سیر پر نہیں بھیجا تھا اور نہ ہی اپنے رقیب روسیاہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور یا کہیں غائب کروایا تھا۔ مگر چپکے سے اپنی سابقہ بیوی کا فون نمبر ایک پورنو گرافک ویب سائٹ پر ڈال دیا تھا۔ جس کا خمیازہ اُسے بھگتنا پڑا۔
ریاستی مشینری میں سب سے اوپر کنفیڈریشن ہے اس سے نیچے 26 علاقائی اکائیاں، صوبے، ریاستیں یا کاؤنٹیز ہیں جو کنٹین کہلاتی ہیں۔ ہر کنٹین کو اپنا آئین، عدلیہ، انتظامیہ، پولیس اور عدالتیں رکھنے کا حق حاصل ہے۔ صحت، تعلیم، امن و امان، بہبودِ عامہ اور محاصل کے نظام بنانے میں یہ خود مختار ہیں۔ ان کے اپنے اپنے جھنڈے اور اپنی اپنی زبانیں ہیں۔ ان میں سے 19 میں جرمن، 4 فرانسیسی، 2 اطالوی اور صرف ایک میں رومانوی زبان بولی جاتی ہے۔ لیکن ان چاروں زبانوں کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ کسی ایک زبان کو قومی یا رابطے کی زبان قرار دے کر باقی زبانوں پر مسلط نہیں کیا گیا۔ ہر سوئس کم ازکم دو زبانوں پر عبور رکھتا ہے۔ بڑی اکثریت انگریزی بولتی اور سمجھتی ہے لیکن ہر کنٹین اسے یقینی بناتی ہے کہ اس کے بچے اپنی زبان، ثقافت، شناخت، تاریخ اور طرزِ تعمیر کی اہمیت سے بخوبی واقف رہیں اور یہ معدوم نہ ہونے پائیں۔
ہر کنٹین کے نیچے 2250 بلدیاتی کونسلیں آتی ہیں جو لوگوں کے مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے میں اُن کی معاونت کرتی ہیں۔ جب کہ اوپر پاکستان کی طرح دو ایوانی پارلیمان ہے قومی کونسل اور ریاستوں کی کونسل یا سینٹ دونوں ایوانوں کے ارکان کا چناؤ براہِ راست عوامی ووٹ سے چار سال کے لئے ہوتا ہے۔ حکومت کا نظام بھی انوکھا ہے وفاقی حکومت میں صرف سات وزراء ہوتے ہیں جو دنیا کے اس منظم ترین ملک کا منظم ترین نظام چلانے پر مامور ہوتے ہیں۔
1848 ء سے یہ تعداد سات ہی چلی آ رہی ہے یہ سات وزراء اپنے آپ میں سے ایک کو سوئٹزر لینڈ کا صدر چن لیتے ہیں۔ یہ خوش قسمت شخص اپنی متعلقہ وزارت دیکھنے کے ساتھ ساتھ کابینہ کی صدارت بھی کرتا ہے۔ صدارت کی یہ مدت صرف ایک سال کے لیے ہوتی ہے۔ یعنی سوئٹزر لینڈ میں ہر سال ایک نیا فرد صدارت کی کرسی پر براجمان ہوتا ہے۔ اتنی کم مدت حکومت کے باوجود سوئٹزر لینڈ کو سیاسی طور پر مستحکم ترین ملک سمجھا جاتا ہے۔ اپنے وفاقی نظام کے ساتھ ساتھ سوئٹزر لینڈ براہِ راست جمہوریت کا بہترین عملی مظہر ہے۔ یہاں پر قانون سازی کے لیے عوامی ریفرنڈم کرایا جاتا ہے۔ سال میں کم و بیش چار ریفرنڈم منعقد ہوتے ہیں۔
یہ جنت نظیر ملک بھی مختلف تضادات کا مجموعہ ہے۔ ایک طرف یہاں کم از کم فی گھنٹہ اجرت 23 فرانک ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ لیکن دوسری طرف شدید مہنگائی کے باعث اس کم از کم تنخواہ میں گزارا کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں پر عورتوں کو ووٹ کا حق 1991 ء میں دیا گیا اور 2004 ء تک گھریلو تشدد کو جرم تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ گویا کہ گھر کی چار دیواری کے اندر بیوی بچوں کی پٹائی کرنا قانونی طور پر جائز خیال کیا جاتا تھا۔
پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں اس ملک کی غیر جانبداری کا بڑا چر چا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس دوران جرمنی سے سوئس بنکوں میں آنے والی دولت کو چھپا کر رکھا گیا۔ عالمی یہودی کانگریس کی طرف سے قائم کیے گئے مقدمے کے میں بالآخر سوئس بنک متاثرین کو سوا ارب ڈالر کی ادائیگی پر مجبور ہوئے۔
مذہبی معاملات میں کوئی روک ٹوک نہیں اور لادین افراد کی تعداد 25 فیصد سے اُوپر ہو چکی ہے۔ لیکن ساتھ ہی پروٹسٹنٹ گرجا گھروں میں انتہائی اونچی آواز میں بار بار گھنٹے بجائے جاتے ہیں۔ اکثر علاقوں میں یہ سلسلہ علی الصبح شروع ہوتا ہے اور تا دیر جاری رہتا ہے اور دوسری طرف مسلمانوں کو برن شہر کے قریب ایک مسجد کی تعمیر سے روک دیا گیا کہ مسجد کے مینار سیاسی اسلام کی علامت ہوں گے۔ اس لیے سیکولر معاشرے میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
2019 ء میں جب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سوئٹزر لینڈ کو دنیا کے کم کرپٹ ممالک میں دوسری پوزیشن دے رہا تھا۔ اسی وقت ٹیکس جسٹس نیٹ ورک سوئس بینکنگ سیکٹر کو دنیا بھر میں کرپٹ ترین قرار دے چکا تھا۔ کیسے مزے کی بات ہے کہ سابق امریکی صدر بش اور نائب صدر ڈک چینی نے سرزمین سوئس کا سفر اس خوف سے ملتوی کیا کہ انہیں خدشہ تھا کہ وہاں عراق میں جنگی جرائم کے مقدمے میں انہیں گرفتار نہ کر لیا جائے۔ اس ملک میں قانون کی حکمرانی کا اس سے بڑا ثبوت ممکن نہیں ہے۔


