ملازمہ
” میرا گھر کتنا خوب صورت ہے۔ مہنگے مہنگے برتن، اتنا بڑا اوون، جدید چولھا، ڈیپ فریزر، ائر کنڈیشنڈ ماحول یہ سارا کچن میرا گھر ہی تو ہے۔“ لاریب نے صاف ستھرے فرش پر بیٹھے بیٹھے سوچا۔ چونکہ اس کا زیادہ وقت کچن میں ہی گزرتا تھا۔
” لاریب۔“ باہر سے اس کی مالکن نرگس شمیم کی آواز گونجی۔
” جی ممی۔ آئی۔“ لاریب اسے ممی ہی کہتی تھی۔ جیسے دوسری تین بچیاں کہتی تھیں۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ لاوارث تھی۔ دنیا میں اس کا کوئی بھی نہیں تھا۔ اسے نرگس شمیم نے ہی پالا تھا اور وہ اس گھر کی چوتھی بہن تھی۔ نرگس شمیم نرینہ اولاد سے محروم تھی۔
بہرحال سگی بہن نہ ہونے کی وجہ سے گھر کے زیادہ کام لاریب کے ہی ذمے تھے۔ لاریب کو اس فیملی نے میٹرک تک تعلیم بھی دلائی تھی اور وہ ان کی تینوں بیٹیوں سے عمر میں بڑی تھی۔
نرگس شمیم کا شوہر ایک بڑا افسر تھا اور اس کا تبادلہ کبھی کسی ضلع میں ہو جاتا تھا تو کبھی کسی۔ ان دنوں یہ فیملی لاہور میں تھی اور ان کے تعلقات بہت سے خاندانوں سے بن چکے تھے۔
” دیکھو! آج کچھ مہمان آرہے ہیں۔ نازیہ کو دیکھنے کے لیے۔ دعا کرو تمھاری بہن کا رشتہ ہو جائے۔“ نرگس بہت پرجوش تھی۔
” جی ممی ضرور ہو گا اللہ کرم کرے گا جی۔ ہماری نازیہ میں کیا کمی ہے جی اتنی پیاری تو ہیں پڑھی لکھی۔“
” ٹھیک ہے۔ میں تمھیں سب سمجھا دیتی ہوں۔ کیا کیا چیزیں تیار کرنی ہیں۔ اِرم اور شگفتہ تمھارے ساتھ ہیں۔ بالکل کنفیوز نہ ہونا۔“
” جی ممی۔ آپ بالکل فکر نہ کریں۔“ لاریب نے تسلی دی۔
ان چاروں اور ممی نے مل جل کر بہت سے پکوان تیار کیے۔ ڈرائنگ روم کو چمکایا گیا۔ سب نے اچھے سے کپڑے زیب تن کیے۔ لاریب ان تینوں بہنوں سے قدرے بہتر ہی لگ رہی تھی۔ پھر انتظار کا مرحلہ آیا جو سب سے مشکل ہوتا ہے۔ دو چار بار نرگس شمیم کے شوہر نے مہمانوں کو فون کر کے بھی پوچھا کہ وہ کہاں پہنچ گئے ہیں۔
شان دار استقبال کیا گیا۔ خورد و نوش کا سلسلہ شروع ہوا۔ لاریب بھی مہمانوں کی خاطر داری میں مصروف تھی۔ لڑکے اور اس کی ماں کی نظریں بار بار لاریب کی طرف جا رہی تھیں۔
” ماشاءاللہ کتنی پیاری بچی ہے۔ چاند کا ٹکڑا ہے۔ ہمارے آنگن میں خوشیاں بھر دے گی۔“ لڑکے کی ماں ایک ہی سانس میں کہ گئی۔
نرگس شمیم بوکھلا گئی۔ ”نہیں نہیں۔ یہ تو لاریب ہے ہماری ملازمہ۔ ہم نے اسے اپنی بچیوں کی طرح ہی پالا ہے۔ نازیہ تو یہ ہے سلام کرو نازیہ بیٹی۔“
” جی السلام علیکم۔“ نازیہ نے سب کو سلام کیا اور ماتھے تک آداب کے لیے ہاتھ بھی اٹھایا۔ حالانکہ سلام دعا کا مرحلہ پہلے طے ہو چکا تھا۔
” جیتی رہو۔ خوش رہو۔“
نرگس شمیم نے محسوس کیا۔ اب کی بار وہ محبت اور جوش نہیں تھا۔ صرف مروت تھی۔
ارم اور شگفتہ بھی وہیں بیٹھی تھیں سو لاریب بھی بیٹھی ہوئی تھی لیکن اس کا چہرہ رسوائی سے سرخ ہو چکا تھا۔ اسے پہلی بار اس گھر میں ملازمہ کہا گیا تھا اور وہ بھی اتنے معزز لوگوں کے سامنے۔
” تو کیسی لگی آپ کو ہماری نازیہ؟“
” جی۔ اچھی ہے لیکن آپ کی ملازمہ بھی کم نہیں ہے۔“ اصلیت جاننے کے باوجود اس خاتون کے منہ سے لاریب کی تعریف ماحول خراب کر رہی تھی۔
لاریب ایک دم اٹھ کر اندر بھاگ گئی۔ اسے اپنا وجود نازیہ کے رشتے کے لیے خطرہ نظر آنے لگا۔ وہ کچن میں آ کر دیوار سے لگ گئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی۔
پھر ایک مسرت کی لہر اس کے تن بدن میں سرایت کرنے لگی ”مجھے پسند کیا گیا ہے۔ کیا مجھے بھی کبھی پیا کے گھر جانا نصیب ہو گا؟ ممی نے پہلے تینوں بیٹیوں کی شادی کرنی ہے پھر شاید مجھے بیاہیں۔ مجھے تو انھوں نے ملازمہ بھی بول دیا ہے۔ کیا وہ مجھے دل سے اپنی بیٹی نہیں سمجھتی ہیں؟ چلو آج نازیہ کی بات طے ہو جائے گی۔ اس کی تو شادی ہو جائے۔“
مہمانوں کے جانے کے بعد لاریب اپنی بے عزتی کا شکوہ ممی سے کرنے ہی والی تھی کہ ممی اس پر ہی جھپٹ پڑی ”تمھیں کچن میں ہی رہنا چاہیے تھا۔ بیٹی تمھیں ضرور بنایا ہے لیکن ایسے خاص مہمانوں کے سامنے برابر نہیں بیٹھنا چاہیے تھا۔“ نرگس شمیم کے شوہر نے اپنی بیگم کو سمجھایا ”چلو چھوڑو کیوں غصے میں آجاتی ہو خوامخواہ۔ ہماری نازیہ عنقریب اپنے گھر کی ہو جائے گی۔ یہ سوچو۔“
دو ہی روز گزرے تھے کہ لڑکے والوں نے فون پر معذرت بھرا انکار کر دیا۔ گھر بھر میں سوگ کا عالم تھا۔ لاریب کو اس انکار پر یقیناً ملال ہوتا اگر اس کی یوں سر عام تضحیک نہ کی جاتی۔ اسے پرایا ہونے کا احساس شدت سے دلا دیا گیا تھا۔
” ہاں میں ملازمہ ہوں لیکن میں جیت گئی ہوں تم سب ہار گئے ہو۔“ لاریب کو اب شرمندگی نہیں فخر ہو رہا تھا کہ اس گھر میں جہاں وہ پلی بڑھی ہے اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے لیکن ایک فیملی نے اسے پسند کیا ہے اور دل کھول کر تعریف بھی کی ہے۔ لاریب اس لڑکے کے خیالوں میں کھو گئی جو دو روز قبل تک نازیہ کا امیدوار تھا۔
چند روز بعد گھر کی رونقیں بحال ہو گئیں۔
” کوئی بات نہیں۔ ہمیں اتنے نخرے والے لوگوں سے رشتہ بنانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔“ نازیہ کے پاپا نے ہنس کر کہا۔
سب کچھ معمول کے مطابق تھا سوائے لاریب کے۔ وہ اس لڑکے کے تصور میں شب و روز کھوئی رہتی۔ ”اس نے اور اس کی ماں نے مجھے پسند کیا ہے۔ اگر میں ممی کی سگی بیٹی ہوتی تو میرا رشتہ پکا تھا ان لوگوں کو نازیہ پسند نہیں آئی۔
لاریب محبت بھرے خیالوں میں گم کبھی دودھ پتیلی سے باہر ابال دیتی، کبھی روٹی جلا دیتی، کبھی برتن گرا کر توڑ دیتی۔
تین چار مہینے گزرے ہوں گے کہ نرگس شمیم اپنے شوہر بچیوں اور لاریب سمیت مال میں شاپنگ کر رہی تھی کہ لاریب کی نظریں دوسری دکان میں داخل ہوتے ماں بیٹے پر پڑیں۔ ”اُف یہ تو وہی ہیں۔“ اس نے اپنا دل پکڑ لیا۔
سب لوگ شاپنگ میں اس قدر کھوئے ہوئے تھے کہ لاریب چپکے سے دکان سے باہر نکل آئی۔ وہ تیز تیز چلتی ساتھ والی دکان میں جا گھسی۔ ماں بیٹا سوٹ دیکھ رہے تھے کہ لاریب نے قریب جاکر سلام جھاڑ دیا۔
” وعلیکم السلام۔ جی؟“ ماں نے اجنبیت سے جواب دیا۔
” آپ نے مجھے پہچانا آنٹی؟“
” نہیں، شاید کہیں دیکھا ہے۔“
ایسے جواب کی توقع قطعاً نہیں تھی۔
” میں وہی ہوں جسے آپ نے پسند کیا تھا جب آپ میری منہ بولی بہن نازیہ کو دیکھنے آئے تھے۔“
” ہاں۔ اچھا۔ بالکل میں نے پہچان لیا شاید تم اپنی فیملی کے ساتھ آئی ہو تم تو ان کی ملازمہ ہو نا۔“
” جی جی۔“ اس کے سینے میں سانس اٹک گیا۔
”اپنے مالکوں کا خیال رکھا کرو۔ وہ کہیں تمھیں ڈھونڈ نہ رہے ہوں۔“ لڑکے نے بے رخی سے کہا اور اپنی ماں کا بازو پکڑ کر دوسری طرف بڑھ گیا۔


