بھکاری، خواجہ سرا، معدومیت سے دوچار سفید پوش طبقہ
گزشتہ چند دنوں کے دوران کچھ ”نفسیاتی صدمات“ کا سامنا کرنا پڑا جس سے طبیعت میں پندرہویں کے چاند کی لہروں جیسے جوار بھاٹا کی کیفیت پیدا ہوتی رہی (یورپ میں ایک نقطہ نظر پایا جاتا ہے کہ فُل مون چودہویں نہیں بلکہ پندرہویں کی رات کو وقوع پذیر ہوتا ہے )۔ خیر۔
بات دراصل یہ ہے کئی برس سے راقم کا معمول رہا کہ راہ چلتے بھکاریوں اور خواجہ سراؤں کو تھوڑے بہت پیسے دے کر اپنے لیے دعا کروانا۔ آپ اسلامیہ یونیورسٹی بغداد کیمپس سے اندرون شہر کی طرف آ رہے ہوں تو ون یونٹ چوک سے تھوڑا پہلے ایک پٹرول پمپ پہ سڑک کنارے مٹی اور دھول میں ”اٹ پٹ“ ایک بوڑھا بھکاری رینگ رینگ کر بھیک مانگ رہا ہوتا ہے۔ راقم جب بھی وہاں سے گزرتا تو موٹر سائیکل کو بریک لگا کر اُسے دس بیس روپے دے کر جاتا اور دعا کی درخواست کرتا۔ آپ یوں سمجھ لیں وہ بھکاری بابا میرے لیے ایک مجذوب ولی کا درجہ حاصل کر چکا تھا۔ راقم کے خیال میں وہ بھکاری بابا روحانی دنیا میں کسی بڑے مقام پہ فائز تھا۔ میرا یہ معمول بڑے عرصہ سے جاری تھا۔
دو اکتوبر 2024 کو راقم اپنے موٹر سائیکل کی ٹیوننگ سروس کے لیے سڑک کنارے ایک ورکشاپ پہ بیٹھا تھا تو وہی بھکاری بوڑھا ہاتھ میں پھلوں کا شاپر لیے بڑے آرام سے چلتا ہوا آ رہا تھا۔ پہلے تو حیرت اور صدمے سے میری وہی حالت ہوئی جو آج کل پاکستانی عوام کی ہے۔ پھر کچھ سنبھلا تو مکینک سے پوچھا اسے جانتے ہو؟ جواب ملا ”ہاں، یہ پیچھے پکھی واس بھکاریوں نے جھونپڑیاں ڈالی ہوئی ہیں سارا دن بھیک مانگتے ہیں رات کو شراب، چرس، کڑاہی گوشت اور سافٹ ڈرنکس خرید کر ان جھونپڑیوں میں واپسی کرتے ہیں جہاں“ جشنِ بھکاریاں ”منایا جاتا ہے۔
سرائیکی وسیب میں ایک بات مشہور ہے کہ خواجہ سراؤں کی دعا اور بددعا دونوں لگتی ہیں۔ راقم کو سڑک پہ جہاں کہیں خواجہ سرا ملتے وہ فوراً تھوڑی رقم دے کر اپنے لیے دعا منگواتا۔ اب کچھ عرصہ سے یہ ہو رہا ہے کہ کسی ڈھابہ پہ بیٹھے نظر آ رہا ہوتا ہے سجا سنورا خواجہ سرا آ رہا ہے۔ راقم حسبِ عادت فوراً جیب سے بٹوا نکال کر تھوڑے بہت پیسے اسے دیتا ہے۔ پاس بیٹھا کوئی موٹر رکشہ ڈرائیور اسے بتاتا ہے ”اکبر بھائی! آپ نے جس کو پیسے دیے ہیں اس کے تو آٹھ بچے ہیں“۔ بہاولپور کے خواجہ سرا چلے کہاں گئے؟ دبئی یا لاہور۔ ایک تو جب سے ٹک ٹاک پہ مہک ملک اور چاہت بلوچ کے ”غیر آئینی ٹھمکے“ موبائل فون کی سکرین توڑ کر باہر آنا شروع ہوئے ہیں ملک کے ہر کونے میں بسنے والے خواجہ سراؤں کے دماغ میں بھی سیلیبرٹی اسٹار بننے کا ”نفسیاتی کیڑا“ پیدا ہو گیا ہے بالکل ویسا جیسا آج کل کے نوجوانوں میں ”تبدیلی کا کیڑا“ پیدا ہوا پڑا ہے۔
تبدیلی سے یاد آیا، ایک سوال سامنے آتا رہتا ہے کہ آیا پاکستانی زیادہ بے ایمان ہیں یا بھارتی؟ یہ اور بات کہ عالمی سیاحت کے ماہرین کی نظر میں نائیجیریا، برازیل، ارجنٹائن، چین اور بنگلہ دیش کے عوام و خواص کی اکثریت کو بھی بے ایمانوں، دھوکہ بازوں اور مالی کرپشن میں ملوث لالچی افراد کا درجہ حاصل ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے کسی کو بتانا نہیں، تبدیلی آئے یا نہ آئے بلندیوں کو چھوتی مہنگائی کے ہاتھوں پاکستان اور انڈیا کے سفید پوش طبقے کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے عالمی منصوبہ ساز پاکستان اور انڈیا میں آبادی کو مزید بڑھنے سے روکنے یا موجودہ آبادی میں کمی کرنے کے لیے ”مقامی گماشتوں“ کے ذریعے مہنگائی، غربت اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔” گُرو! چیلے بہت ہو گئے نے ”کوئی گل نی بالکا! بُھک مرن گے تے آپے نَس جان گے“۔ خیر۔
جنوبی ایشیا موجودہ حالات کی وجہ سے کس طرف جا رہا ہے؟ آپ اس کی ایک جھلک 24 جون 2024 کو "ہم سب” پہ شائع ہونے والے راقم کے ایک بلاگ بعنوان ”کمیونسٹ انقلاب کی طرف بڑھتا ہوا جنوبی ایشیا“ میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ فی الحال تو سفید پوش خصوصاً لوئر مڈل کلاس کے شرفاء کی حالت تو لالہ شفا روکھڑی والے پردیسی ڈھولا جیسی ہوئی پڑی ہے۔ عُمراں تُوں پہلے چِٹے وال تھی گئے (بوڑھے ہونے سے پہلے ہی تفکرات نے بال سفید کر دیے ) تیرے و چھوڑے میرا خون پی گئے (اے معاشی آسودگی! تیری جدائی تو میرا خون پی گئی) بس کر وے ڈھولا اتھے بہوں کمایا (بس کر ظالما! اور کتنا ٹیکس لگائے گا مہنگائی کو مزید کتنا بڑھائے گا) سفراں دا تھکیا میں نہیں جگایا (مایوس اور غم زدہ سفید پوش طبقہ اس قدر تھک کر سویا ہوا ہے کہ میں نے اُسے جگانا بھی اسے مزید تکلیف دینے جیسا سمجھا ہے ) ۔
مالی پریشانیوں اور بے روزگاری سے دوچار مڈل کلاس خاندانوں کے لیے اکبر شیخ اکبر کا مشورہ ہے کہ آپ یوٹیوب پہ دستیاب ویڈیوز سے ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور شوپی فائی کی اسکلز سیکھ لیں۔ اگر تھوڑا بہت سرمایہ ہے تو ای کامرس یعنی آن لائن بزنس کو اپنا لیں جس کا اسکوپ آئندہ ایک صدی تک رہے گا۔ اگر آپ کے پاس سرمایہ بالکل نہیں تو ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور شوپی فائی سیکھ کر پراڈکٹس آن لائن بیچنے والی کمپنیوں کو اپنی خدمات آن لائن ہی فراہم کر کے روزی روٹی کما سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور شوپی فائی کا اسکوپ بھی آئندہ بیس تیس سال تک رہے گا۔


