ویل ڈن وزیر اعظم شہباز شریف


ﷲ پاک کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حال پر رحم فرمائے۔ دہائیوں سے یہ بھارت اور اسرائیل کے ظلم و بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اقوام عالم نے ان مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔مسلم امہ سے ہم امید یہ رکھتے ہیں کہ یہ فلسطینی اور کشمیری عوام کے لیئے عملی طور پر کچھ کریں۔ لیکن داخلی مسائل کا شکار مسلمان ممالک عملی طور پر کوئی بڑا اقدام اٹھانے سے قاصر ہیں۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ مسلمان ممالک کی جانب سے فلسطین اور کشمیر کے حق میں آوازیں اٹھتی رہتی ہیں ۔ ابلاغیات کے اس دور میں یہ آوازیں بھی نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی ہمیں خاص طور پر فلسطین کے حق میں ترکی، اردن، قطر، ایران اور دیگر ممالک کی آوازیں سننے کو ملیں ۔ان تقاریر سے بھارت اور اسرائیل کے سینے پر سانپ لوٹ گئے۔ جواباً انہیں زہریلے انداز میں جواب دینا پڑا۔ اس ضمن میں پاکستان کی آواز سب سے موثر تھی۔ ناقدین بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کا نہایت مدلل انداز میں تذکرہ کیا۔ یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ انہوں نے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی نہایت جذباتی انداز اختیار کیا۔ اپنے مخصوص انداز میں مکے بھی لہرائے ۔ نہایت عمدگی سے فلسطینیوں اور کشمیریوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا۔ فلسطینیوں ،خاص طور پر بچوں اور خواتین کے قتل عام کے خلاف آواز بلند کی۔ اسرائیلی بمباری کی مذمت کی۔ اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری اس خون ریزی کو روکنے میں کردار ادا کرے اور دو ریاستی حل کے ذریعے اس خطہ ارض پر امن کو یقینی بنائے۔

اسی طرح انہوں نے کشمیری عوام کا مقدمہ بھی دنیا کے سامنے رکھا۔پچھلی کئی دہائیوں سے بھارتی فوج کشمیری عوام پر جو مظالم ڈھا رہی ہے ، ان کا ذکر کیا۔ دنیا کو باور کروایا کہ کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی خواہشات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔وزیر اعظم نے کشمیریوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا ذکر کیا جو وہ اپنی آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیئے گزشتہ کئی دہائیوں سے دے رہے ہیں۔ دنیا کو بتایا کہ کس طرح نو لاکھ انڈین فوجی جموں و کشمیر پر مسلط ہیں ۔ کشمیری عوام کے اغوا اور قتل عام میں ملوث ہیں۔ بھارت کے وہ مذموم اقدامات بھی دنیا کے سامنے رکھے کہ جن کے تحت بھارت کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیئے باہر کے لوگوں کی کشمیر میں آباد کاری میں مصروف ہے۔ کشمیریوں کی زمینوں اور جائیدادوں پر قبضے کا مرتکب ہو رہا ہے۔اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی غرض سے عسکری طاقت کے مزید حصول کے لئے دیوانہ ہو گیا ہے۔ شہباز شریف نے بھارت کے 5 اگست 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کی بھی مذمت کی۔ اس غیر قانونی اقدام کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے خطاب کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کا خطاب طے تھا۔ اس خطاب پر پاکستانی وفد اور دیگر مسلمان ممالک کے وفود نے احتجاجاً واک آوٹ کیا۔

اقوام متحدہ میں ہونے والے خطابات کے حوالے سے سینٹر فار پبلک اوپینین ریسرچ نے کچھ اعداد و شمار جاری کئے ہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کے آفیشل یو ٹیوب چینل پر وزیر اعظم شہباز شریف کا خطاب سب سے زیادہ دیکھا گیا۔چینل پر یہ خطاب ایک لاکھ 37 ہزار لوگوں نے دیکھا۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ الجزیرہ کے ٹک ٹاک اکاونٹ پر اس خطاب کو 16 لاکھ لوگوں نے دیکھا۔اگرچہ کچھ سیاسی مخالفین ان اعداد و شمار کو غلط ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ اصولی طور پر اس معاملے کو سیاسی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ بطور پاکستانی اور مسلمان ہمیں اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ بھارت اور اسرائیل پر ہونے والی ملامت اور مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے تذکرے کو ، سب سے زیادہ دیکھا گیا ہے ۔

بہرحال کشمیر اور فلسطین کا مقدمہ لڑنے پر وزیر اعظم شہباز شریف شاباش کے مستحق ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کی معاشی حالت میں بہتری لانے پر بھی انہیں سراہنا چاہیے۔ آپ ان سے سیاسی اختلاف کریں یا ان کے طرز سیاست کو ہدف تنقید بنائیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے پرفارم کیا ہے۔ ان کی سربراہی میں قائم اتحادی حکومت نے بھی ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کھلے عام ملک کے دیوالیہ ہونے کی باتیں ہو رہی تھیں۔اس حکومت کا حصہ بن کر مسلم لیگ (ن) نے اپنی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچایا ، لیکن ملک کو اس کا فائدہ پہنچا۔ عام آدمی پر یقینا حکومت کے مشکل فیصلوں کا بوجھ پڑا۔ لیکن اگر ملک دیوالیہ ہو جاتا تو اس عوام کا بھرکس نکل جاتا۔ آج کل بھی ہم معیشت میں بہتری کے اشاریے دیکھ رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 6.9 فیصد پر آ گئی ہے۔ شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 17 فیصد پر آئی ہے۔ روپے کی قیمت کو کچھ استحکام نصیب ہوا ہے۔ برآمدات بڑھی ہیں۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر میں 44 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بڑھی ہے۔ سٹاک ایکسچینج میں بھی مثبت رجحان دیکھنے کو ملا ہے۔ ان مثبت معاشی اشاریوں کی وجہ سے فچ اور موڈیز جیسے عالمی اداروں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے۔معاشی حالت کے تناظر میں اسے بھی خوش خبری ہی کہنا چاہیے کہ عالمی مالیاتی ادارے آئی۔ ایم۔ ایف نے پاکستان کے لئے سات ارب ڈالرز کے قرض پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک اور عوام کی بہتری کے لئے ہمیں ایسے ہی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ملک اور عوام کو دھرنے، جلسے، احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ نہیں چاہیے۔

تاہم ایسا نہیں ہے کہ عوام کو مہنگائی سے نجات مل گئی ہے۔ بس یہ ہے کہ ملک کی معاشی سمت کسی قدر درست ہوئی ہے۔ سچ یہ ہے کہ عام آدمی کو ان اعداد و شمار کی فہم نہیں ہے۔ اسے تو بس روٹی روزی سے غرض ہے۔ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ عوام کے روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی لائے۔ انہیں ٹیکسوں کے بوجھ سے نجات دلائے۔ بجلی ، گیس کے بلوں سے ان کی جان چھڑائے۔ جب یہ اقدامات ہوں گے تب عوام الناس کو سکھ کا سانس نصیب ہو گا اور انہیں یقین آئے گا کہ واقعتا مہنگائی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی حکومت کو ٹک کر کام کرنے دیا جائے۔ 2017 میں بھی پاکستان نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا۔ اس وقت بھی معیشت پھل پھول رہی تھی۔ لیکن جو سیاسی کھیل کھیلا گیا اس نے معیشت کا بھرکس نکال دیا۔ عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ ملک کو اس کھائی میں دھکیل دیا جس سے یہ ملک آج تک نہیں نکل سکا۔ سیاسی انتشار پھیلانے والے قبیلے کو اس ملک کی حالت زار پر غور کرنا چاہیے۔ جلاؤ گھیراؤ کی سیاست نے نہ پہلے اس ملک کا بھلا کیا ہے اور نہ آ ئیندہ کرے گی۔

Facebook Comments HS