ایک خط علمائے کرام کے نام


جناب عالی!
آپ اہل علم صاحب تقویٰ نیک بزرگان دین کی خدمت میں عرض ہے کہ رحمت العالمین ﷺ کی ولادت والے مبارک دن سے پر امن سندھ عدم تحفظ انتشار انجانے خوف میں مبتلا ہے۔ وہ عظیم دن جو دنیا کے سب سے بڑے انقلاب کا سبب بنا۔ وہ دن جو عالم کے لئے نجات کی نوید لے کر آیا تھا۔ جس دن نور ازل سے کائنات منور ہوئی تھی۔ ابھی رسول کریم ﷺ کی آمد والے بابرکت دن کی مہک سے سندھ کا ہر شہر گاؤں بستی، قصبہ گلی کوچہ معطر تھا۔ ابھی ولادت عظیم کی خوشی میں بچھائے پھول نہیں مرجھائے تھے۔ گھروں کی بالکنیوں میں رکھے دیے روشن تھے، مسرت آمد کے چراغاں گل نہیں ہوئے تھے کہ درمیانی شب ایک شخص کو اس رحمت العالمین کے نام پہ قتل کیا گیا جو پیغام لائے تھے ”ایک انسان کا قتل دراصل پوری انسانیت کا قتل ہے“

تکیف دہ بات یہ بھی ہے کہ قتل کیے شخص کے قتل کے فتوے قاتلوں کے لئے انعام عالم کے لئے رحمت بن کر آئے نبی ﷺ کے جشن ولادت کی ریلیوں میں کیے گئے۔ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ بغیر کسی تفتیش و تحقیق کے زیر الزام شخص کے قتل کے لئے سادہ لوح عقیدت مند لوگوں کو منبر رسول ﷺ سے بھڑکایا گیا۔

کیا انہوں نے قرآن مجید فرقان حمید کا حکم نہیں سنا تھا۔

یایھا الذین امنوا۔ فعلتم ندمین ( 49 : 6 ) ”اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پشیمان ہو“

جناب عالی!
ملزم کو مجرم ثابت کرنا سزا دینا عدالتوں کا کام ہے۔ خدا نخواستہ کسی بندے بشر سے دانستہ نا دانستہ کوئی توہین آمیز عمل ہو جاتا ہے تو شریعت میں اس کے لئے واضح احکامات موجود ہیں جن سے آپ سب اچھی طرح واقف ہیں۔ اس اسلامی ملک میں ایسے جرم کے لئے سخت ترین قانون اور سزائیں موجود ہیں۔ قتل کے بعد اس شخص کے لئے دو گز زمین تنگ کی گئی۔ اس کی لاش کو اس کے بوڑھے باپ کے سامنے نذر آتش کیا گیا۔ وہ سارا انسانیت سوز عمل ہو جانے کے بعد بھی مقتول کے ورثا کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ عمر کوٹ اور پسگردائی میں خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے۔

جناب عالی!
یہ مبینہ گناہ سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے وزارت داخلہ سندھ کی طرف سے فارنزک تفتیش جاری ہے۔ جبکہ قتل کے حوالے سے وزارت داخلہ کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں ماورائے عدالت قتل ثابت ہو چکا ہے اور ملوث پولیس اہلکاروں کو مجرم ثابت کر دیا گیا ہے۔ اب معاملہ عدالت میں ہے ہم سب عدالت عالیہ سے منصفانہ انصاف کی امید رکھتے ہیں۔ لیکن میرے نبی کے نام پر قتل کیے شخص کے قاتلوں کو بچانے کے لئے مقدس غلاف میں پناہ دی جا رہی ہے۔ امن اور سلامتی کے دین کو مجرموں کے لئے ڈھال کے طور پہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر جہل بے راہ روی انارکی کی ساری حدیں عبور کی جا رہی ہیں۔ امن کی دھرتی سندھ کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

جناب مولوی راشد محمود سومرو صاحب ایک وفاقی مذہبی و سیاسی جماعت کے سندھ میں سربراہ ہیں جنہوں نے نہیں معلوم کہ کس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مقتول کو قاتل ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اور انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر نے پولیس پہ حملہ کیا تھا پولیس اہلکاروں نے سیلف ڈیفینس میں ڈاکٹر شاہنواز کو قتل کیا ہے۔ اپنے اس بیان میں موصوف نے سیلف ڈیفینس کے قانون کے حوالے بھی دیے۔ مولوی صاحب ایک ذمہ دار آدمی ہیں ان سے عجلت میں اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیان کی توقع نہ تھی۔ جو بیان سندھ میں مذہبی فسادات کی وجہ بنے۔ جبکہ ان کے قائد مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے اس کیس پہ مدبرانہ موقف اختیار کیا تھا۔

اب ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی ہلاکت ماورائے عدالت قتل ثابت ہو چکی ہے۔ مولوی صاحب کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے مقتول کے ورثا اور سندھ کے باشعور لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور قرآن مجید فرقان حمید کے حکم کی انحرافی بھی۔ مولوی صاحب کو مقتول کے ورثا سے معافی مانگ کر قرآن کریم کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ پچھلے دنوں مذہبی تنظیموں اور فرقوں کی جانب سے عمر کوٹ میں امن اور استحکام کے نام سے جلسہ کیا گیا۔ جلسے میں سرعام اسلحے کی نمائش کی گئی۔ ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرنے والوں کے لئے نازیبا زبان استعمال کی گئی دھمکیاں دی گئی۔ ریلی میں اشتعال انگیز تقاریر کر کے سادہ لوہ عقیدت مند انسانوں کو توہین رسالت کے نام پی بھڑکایا گیا۔ امن استحکام کے نام پہ امن و امان خراب کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئی۔ ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تفتیشی ٹیم اور عدلیہ پہ اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔

پیر میاں مٹھو کی جانب سے اس ہتھیار کے لئے دو کروڑ کی بولی لگائی گئی جس ہتھیار سے ایک نہتے شخص کو رات کے اندھیرے میں دھوکے سے قتل کیا گیا تھا۔ عالم کے چوغے میں چھپے ظالم حقیقت عیاں ہونے کے باوجود ڈھٹائی سے جھوٹ کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں۔ جن کا مقصد امن و سلامتی کے دین کے نام پر فساد پھیلانے اور اپنی دکان چمکانے کے علاوہ کچھ نہیں۔ دین محمدی کے ان حقیقی علمائے کرام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے گستاخی و توہین کے حوالے سے تحقیق، ثابتی تصدیق، رجوع اور سزا علم الکلام کی روشنی میں اور اسلام کی روح کے مطابق کر کے عوام الناس کی رہنمائی کی ہے۔

گزارش ہے کہ ان حالات میں تمام فریقوں کو کوئی غیر ذمہ دارانہ بات یا عمل کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو فسادات کی وجہ بنے۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ سلگتی چنگاری کسی بھی وقت بھڑکتی آگ کا روپ اختیار کر سکتی ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین ہونا چاہیے اس روش کو فرقہ ورانہ اختلافات میں ہتھیار کے طور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں بہت سارے فرقے ہیں جن کے آپس میں شدید قسم کے اختلافات بھی ایک حقیقت ہے۔

جوش خطابت میں علمائے کرام سے نامناسب اور نامعقول باتیں بھی ہو جاتی ہیں ماضی میں جس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں اور حال میں مفتی طارق مسعود صاحب والا واقعہ بھی سب کی نظر میں ہے۔ ایسا نہ ہو توہین گستاخ انعام مقرر کرنے والی آگ کبھی چنگاری سلگانے والوں کے گھروں تک پہنچ کر ان کے اپنے گھر جلا کر راکھ نہ کر دے۔ اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ آگ کی آنکھیں نہیں ہوتی۔ وہ محاورہ تو سب نے سنا ہی ہو گا سوکھوں سنگ گیلے بھی جل جاتے ہیں۔

جس علاقے میں یہ سانحہ ہوا ہے وہاں ہندو مذہب کے لوگوں کی اکثریت ہے۔ ہندو ہزارہا سال سے دراوڑوں کی دھرتی کے وارث ہیں۔ جنہوں نے اخوت امن بھائی چارے سے مسلمانوں کے ساتھ صدیاں گزاری ہیں۔ اقلیتوں میں اس سانحے کے بعد شدید خوف ہراس اور عدم تحفظ پایا جاتا ہے۔ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے والی اقلیتوں کو اپنے عمل بیان سے تحفظ کا یقین دلایا جائے۔ عمر کوٹ سمیت سارا سندھ ابھی تک سکتے میں ہے لوگوں کو نارمل زندگی کی طرف مائل کیا جائے۔
تمام گروہوں اور تنظیموں کو عدالتی فیصلے آنے سے پہلے کوئی ایسا عمل جلسہ جلوس نہیں نکالنا چاہیے جو نفرت کی بجھتی آگ پہ ایندھن کا کام کر جائے۔ آپ تمام سنجیدہ مذہبی علوم پہ دسترس رکھنے والے علمائے کرام سے التماس ہے کہ اس معاملے پر آگے آ کر قرآن و سنت کی روشنی میں اپنا واضح موقف بیان کر کے سندھ میں پھیلتی انارکی سوشل میڈیا وار عدم تحفظ کو روکنے رواداری بھائی چارہ قائم کرنے کے لئے کردار ادا کریں۔

آپ کا مخلص
ایک عام سندھی مسلمان

 

Facebook Comments HS