دماغی فالج کے بارے میں آگاہی کا دن
دماغی فالج کی بیماری، کے حوالے سے، ہر سال 6 اکتوبر کو اس کا دن عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔ سال 2024 کے لیے اس کی تھیم ”Uniquely CP“ رکھی گئی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ دماغی فالج میں مبتلا افراد کی منفرد صلاحیتوں اور شخصیت کو اجاگر کیا جائے۔ یہ تھیم اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہ افراد صرف اپنی معذوری سے پہچانے نہیں جاتے بلکہ ان کی اپنی مخصوص دلچسپیاں اور صلاحیتیں ہیں جو انہیں منفرد بناتی ہیں۔ اس دن کا مقصد دماغی فالج کے شکار افراد کے ساتھ معاشرتی رویوں کو بہتر بنانا اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہے۔
دماغی فالج کی وجوہات: دماغی فالج ایک نیورولوجیکل عارضہ ہے جو عام طور پر بچپن یا عمر کے کسی حصے میں دماغ کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں دوران حمل یا پیدائش کے دوران دماغ کو آکسیجن کی کمی، سر کی چوٹ، اچانک ذہنی دباؤ یا اچانک ایسی خبر جو گہرے غم میں مبتلا کر دینے والی ہو، یا انفیکشن شامل ہیں۔ یہ بیماری انسان کی نشوونما کے مختلف مراحل میں، جسمانی حرکات، توازن اور دل کو پیغام رسانی کے سلسلے کو متاثر کرتی ہے۔
دنیا بھر میں تقریباً 18 ملین افراد دماغی فالج کا شکار ہیں، اور یہ بچوں میں پائی جانے والی سب سے عام معذوری ہے۔ امریکہ میں ہر 345 بچوں میں سے ایک بچہ اس مرض کا شکار ہوتا ہے۔ جب کہ پاکستان میں دماغی فالج کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے درست اعداد و شمار کی کمی ہے، مگر اس بیماری کی موجودگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں اس بیماری کے علاج کی سہولیات بھی محدود ہیں۔ طبی معائنوں اور فزیوتھراپی کی سہولیات فراہم کرنے والے چند ادارے تو موجود ہیں، مگر ان تک ہر عام و خاص کی رسائی اور تعداد کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد مستفید ہو سکیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دماغی فالج کا کوئی مکمل علاج نہیں ہے، لیکن علاج کے مختلف طریقے جیسے فزیوتھراپی، ادویات، سرجری اور معاون آلات (جیسے وہیل چیئر) مریض کی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ حالیہ تحقیق میں اسٹیم سیل تھراپی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جسے اس مرض کے علاج میں تجرباتی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
دماغی فالج کے شکار افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنا ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے۔ اس سال کی تھیم ”Uniquely CP“ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ افراد اپنی منفرد صلاحیتوں اور شخصیت کے ساتھ ہماری معاشرتی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں ایسے لوگوں کی مدد کریں ان کی گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کریں ان کی صلاحیتوں کو نکھار کر اُنہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ آپ ان کے ساتھ ہیں۔


